آج ایک قیمتی ٹوٹکہ سوسن کے زیور باکس سے ۔۔۔
آجکل ایمیٹیشن جیولری کا استعمال میں ہے اصل زیورات مہنگے ہونے کے سبب قوتِ خرید میں نہیں آتے ۔ لیکن ایمیٹشن جیولری کا نقصان یہ ہے کہ ہلکی سی بے احتیاطی سے سیاہ پڑ جاتی ہے ۔ اسے پہننے کی احتیاط یہ ہے کہ انہیں پرفیوم , پسینے اور پانی سے بچانا ہے ۔ پانی سے بچا بھی لیں تو پسینے اور خوشبو سے بچانا ممکن نہیں انہیں دیر تک فریش اور گولڈن رکھنے کا ٹوٹکہ ہے کہ جونہی آپ جیولری خریدیں استعمال سے پہلے اس پہ کلر لیس یا نیل انیمل کے ٹاپ کوٹ کی کوٹنگ کر دیں ۔۔ آپکی جیولری لمبے عرصے کے لئے گولڈن ہی رہے گی ۔ اب چاہے خوشبو لگائیں یا پانی میں ڈالیں کوئی ڈر نہیں ۔ جن بہنوں کو آرٹیفیشل جیولری سے الرجی ہو وہ بھی یہی ٹاپ کوٹ کر لیں تو الرجی یا سکن ریش نہیں ہوگی ۔ اسی ٹاپ کوٹ کا ایک اور فائدہ ۔۔۔ آجکل کپڑے آٹو میٹک واشنگ مشین میں دھلتے ہیں ۔ اور مردانہ شرٹس خواہ کتنی ہی بڑھیا برانڈ کی لی جائیں آٹو میٹک واشنگ مشین میں ایک دو دھلائیوں کے بعد ذرا سی بے احتیاطی سے بٹن ڈھیلے ہوکر گر جاتے ہیں یا اکھڑ جاتے ہیں ۔ اکثر اوقات میچنگ بٹن نہ ملنے کی وجہ سے مشکل ہو جاتی ہے ۔ یہ بیس کوٹ ( کلرلیس نیل پالش ) نئی شرٹ کے بٹن کے الٹی اور سیدھی طرف کے دھاگوں پہ کوٹ کر دیں تو بٹن ڈھیلے نہیں ہوتے ۔ دونوں ہی ٹپس جاب کرنے والی خواتین کے لئے انتہائی کارآمد ٹپس ہیں جو گھروں پہننے اور تیار ہونے کے لیے جویلری اور وقت نہ ملنے پر بٹن کے لیے اس کوٹنگ کا استعمال کرسکتی ہیں ۔ آزمائیں اور زارا مظہر کو دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
مارچ ۲۰۲۱