اسلامی لباس

شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔اس کی دشمنی کی شروعات سب سے پہلے جنت میں میں آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام سے ہوئی۔جب اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کی تو تمام فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا۔
ابلیس جو بہت زیادہ زیادہ عبادت گزار جن تھا،جس کا شمار فرشتوں میں ہوتا تھااس نےتکبر کیااور سجدہ نہ کیا۔تب اللہ تعالی نے اسے حکم دیاکہ زمین پر اتر جاؤ اور اس نے بھی یہ قسم کھائی کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔سب سے پہلے اس نے آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کوبہکا کر اس درخت کاپھل کھانے کو کہا جہاں جانے سے منع کیا گیاتھا۔
جیسےہی انہوں نے اس درخت کا پھل کھایا ان دونوں کے لباس اتر گئے گئے اور وہ اپنے جسم کو پتوں سے ڈھکنے لگے ۔یہیں سے ابلیس کی دشمنی شروع ہوئی کہ انسان کو بے لباس کردے۔
دنیا میں بھی آکر اس نے انسان کو بے لباس کرکے اپنا بنانا چاہااور اس کا سب سے بڑا شکار ہے ایک مومنہ۔
اسلام میں کوئی مخصوص لباس مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ضرورت اور زمانے کے حساب سے اس میں گنجائش رکھی گئی ہے لیکن چند قوانین بتا دیے گئے ہیں کہ لباس کس طرح کا ہو۔اس کا مقصد کیا ہو۔اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن مجید کی سورت الاعراف کی آیت 26 میں لباس کا مقصد بتایا ہے۔
قابل شرم حصوں کو چھپانا
زینت اور حفاظت کا ذریعہ
تقوی کا لباس
ان آیات کی تشریح میں ہم دیکھیں گےکہ ایک مو منہ کا لباس کیسا ہو۔
1۔ لباس پردہ پوش ہو اتنا باریک نہ ہو کہ جسم جھلک رہا ہو۔
2۔ اتنا ٹائٹ نہ ہوکہ جسم نظر آئے۔
3۔لباس متکبرانہ نہ ہو،خوبصورت ہو،مگر تکبر کی جھلک نہ ہو۔
4۔ لباس ایسا بھی نہ ہو کہ عورت مرد جیسی نظر آئے۔
5۔ اپنا لباس چھوڑ کر دوسری قوموں کا لباس نہ ہو۔
6۔ اسلام میں جن حصوں کو سترکہا گیا ہےانہیں چھپانے والا ہو۔
جس طرح انسان اپنے لباس سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح انسان اپنے اعمال سے بھی پہچانا جاتا ہے۔اسے ہی لباس التقوی کہاگیا ہے۔یعنی تقوی کا لباس۔
جس طرح ظاہری لباس ہمارے جسم کے عیب چھپاتا ہے اسی طرح تقوی کا لباس ہمارے باطن کا عکاس ہوتا ہے۔جس طرح مادی جسم کے لئے لباس ہےاسی طرح ہماری روح کابھی ایک لباس ہے اور وہ ہے ہماری اندر کی حیا۔آج ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو ہمیں بازار میں ایک مومنہ کا لباس یا اک اسلامی لباس نظر نہیں آتا۔
آج بازار میں جس طرح کے ڈریسز نظر آ رہے ہیں وہ ڈریس کم ہی اسلامی لباس کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ان کپڑوں میں یا تو آستین ہے ہی نہیں یا پھر ہے بھی تو بہت چھوٹی یا پھر جالی والی جس میں سے بازو صاف نظر آتے ہیں۔
اسی طرح آج جو نیا چلن نکلا ہےLeggings کا۔جو اتنی ٹائٹ ہوتی ہے کہ ٹانگ کے مکمل نشیب و فراز کو نمایاں کرتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو لباس پہن کر بھی ننگی رہے۔وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گی۔
اسی طرح جالی(نیٹ)والے دوپٹے جس میں سے سے ہمارے بال نظر آتے ہوں یہ بھی منع ہے۔سورہ نور آیت 30میں اللہ تعالی نے مومن عورتوں سے خطاب فرمایا ہے۔
’’اے نبی، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کررکھیں اور اپنی شرم گاہوں کے حفاظت کریں اور اپنابناؤ سنگھار نہ دکھائیں۔بجز اس کے جو خود بخود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔‘‘
آج ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں میں دن بدن بے حیائی بڑ ھتی جا رہی ہے۔جس کی ایک وجہ لباس کاساتر نہ ہونا ہے۔عورتیں فحش لباس پہن کر مردوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں اور پھر شیطان کو موقع مل جاتاہے اپنا وار کرنے کا۔
جب بچیاں کچھ سمجھ دار ہو جائیں تب ہی سے انھیں اسلامی لباس پہنانا شروع کر دیجئے ورنہ جوانی کی عمر میں ایسا لباس انہیں ایک بوجھ لگتا ہے۔
ہمارے بازار ہماری ڈیمانڈ کے منتظر ہیں۔اگر ہم اسلامی لباس کی ڈیمانڈ کریں گے تو ضرور فیکٹریاں ہمارے لیے ایسا ہی لباس تیار کریں گی۔خاص طور پرعیدین اور شادی کے مواقع پر۔اگر ہم اسلامی لباس کی ڈیمانڈ کریں توضروردکانوں پر بھی ہمیں ایسے ہی لباس نظر آئیں گے۔
اسی طرح نقاب جو کہ ہماری زینت کو چھپانےکاذریعہ ہے یہ خود ہی ایک زینت بن گیا ہے۔ اتنا ٹائٹ اور بہت زیادہ چمک دمک والا نقاب لوگوں کواٹریکٹ کرتا ہے۔یہ بھی اسلام میں ممنوع ہے۔
اگر ہم اسلامی لباس میں ہوں تو ہم ایک تحفظ محسوس کرتے ہیں اور بہت ساری برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ لباس انسان کی فطری طلب ہے اور انسان میں شرم اور حیا رکھی گئی ہے،مگر شیطان اپنا وعدہ پورا کرنے میں لگاہواہے اور ایک مومنہ کو جنت سے محروم کررہاہے۔
آئیے ہم عزم کریں کہ ہم اسلامی لباس پہن کر اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے،اسی سے ہماری دنیا اور آخرت سنور سکتی ہے۔

جب بچیاں کچھ سمجھ دار ہو جائیں تب ہی سے انھیں اسلامی لباس پہنانا شروع کردیجئے ورنہ جوانی کی عمرمیں ایسا لباس انہیں ایک بوجھ لگتا ہے۔ ہمارے بازار ہماری ڈیمانڈ کے منتظر ہیں۔اگر ہم اسلامی لباس کی ڈیمانڈ کریں گے تو ضرور فیکٹریاں ہمارے لیے ایسا ہی لباس تیار کریں گی۔
جون ۲۰۲۱