اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی کتاب’ اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات‘ میں عام فہم انداز میں حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں پر مختصر اور جامع گفتگو کی ہے، جس کا مطالعہ تعلیم یافتہ طبقے کو ہی نہیں بلکہ عام قاری کے ذہن کو بھی مطمئن کرتا ہے۔ مولانا نے اسلامی نظام زندگی اور اس کی فکر وعمل کو سمجھنے کے لیے نظامِ اسلام کو اخلاقی، سیاسی، معاشرتی، اقتصادی اور روحانی جیسے بنیادی نکات کے تحت بیان کیا ہے۔
اسلام کا اخلاقی نظام :
مولانا مودودیؒ اسلام کے اخلاقی نظام کی بنیاد ایک فطری حس کو بتاتے ہیں جو اللہ نے انسان میں ڈالی ہے، جس کے تحت ہر دور میں انسان سچائی، امانت داری، نیکی و انصاف جیسے اوصاف کو پسند کرتا ہے اور خیانت، ظلم، جیسی تمام تر برائیوں سے کراہیت محسوس کرتا ہے۔ یہی رویہ اجتماعیت کے ساتھ بھی ہے۔ انتشار، بد نظمی اور تفرقہ جیسے اوصاف کو کبھی بھی اجتماعی زندگی میں پسند نہیں کیا گیا ہے۔
مولانا توحید، رضائے الٰہی اور قوت نافذہ کو اسلام کے اخلاقی نظام کی بنیادیں قرار دیتے ہوئے دیگر اخلاقی نظاموں سے ممتاز کر دیتے ہے، کیوں کہ ان بنیادی اوصاف کے بناء پر انسان بغیر کسی خارجی دباؤ کے خود بخود قانون اخلاق کی پابندی کرنے لگتا ہے۔
اسلام کا سیاسی نظام :
مولانا نے اسلام کے سیاسی نظام کو تین بنیادی اصول: توحید، رسالت اور خلافت کے تحت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ توحید یعنی صرف خدا کا قانون و حاکمیت ہے، جسے بذریعہ رسالت بندوں تک پہنچایا گیا ہے۔ اور پھر خلافت کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ خدا نے بندہ کو زمین پر نہایت منظم و جامع اصول و ضوابط کے ساتھ اپنا خلیفہ یعنی نائب مقرر کیا ہے۔ بندے کے اختیارات کے حدود کو واضح انداز میں بیان کیا ہے،جو خدا کے مقرر کردہ ہیں۔
اسلام کے سیاسی نظام میں مولانا نے اسلامی جمہوریت، قانون سازی کے اصول اور غیر مسلموں کے حقوق جیسے امور کو بھی جامع انداز میں بیان کیا ہے، جو قاری کے ذہن میں اسلام کے سیاسی نظام کا بنیادی ڈھانچہ واضح طور پر بیان کردیتے ہیں۔
اسلامی کا معاشرتی نظام :
اسلام کے معاشرتی نظام میں مولانامحترم بیان کرتے ہے کہ دنیا کے تمام انسان بنیادی طور پر ایک نسل ہیں، جو بڑھتی تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ کے سبب فطری اختلافات کا شکار ہوئے ہیں۔ مولانا پہلے تو ان اختلافات کو باہمی تعارف و تعاون کے لیے سود مند قرار دیا ہے، لیکن بعد میں جب یہ اختلافات رنگ، زبان، قومیت اور وطنیت کے تعصبات کا شکار ہوئے تو مولانا اس کو غلط قرار دیتے ہوئے انسان اور انسان کے درمیان کے اصلی فرق کو اسلامی نظریہ کے تحت عقیدہ، خیالات و افکار کو بتایا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے اسلامی نظام معاشرت میں مردوزن کے تعلقات، خاندانی نظام اور خاندانی تعلقات کے اصول و ضوابط پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
اسلام کا اقتصادی نظام :

سلام کے اقتصادی نظام میں مولانا مودودیؒ نے انسان کی معاشی زندگی میں عدل و توازن برقرار رکھنے کے لیے اسلام نے جو اصول و حدود مقرر کیے ہیں، انھیں منطقی استدلال کے ساتھ بیان کیا ہے، جو قاری کے ذہن سے اس سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرتے ہیں۔ بقول مولانا:’’زمین سے رزق حاصل کرنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور خدا نے اپنی نعمتوں کی تقسیم میں مساوات کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے اپنی حکمت کی بناء پر بعض انسان کو بعض پر فوقیت دی ہے۔‘‘
اس کے بعد مولانا اسلام کے معاشی عدل کو واضح کرتے ہیں کہ جہاں انسان کو معاشی میدان میں چند حدود کے ساتھ دوڑ کی کھلی آزادی دی گئی ہے، وہیں زکوٰۃ کے نظام کے تحت انسان کو انسان کا ہمدرد اور سہارا بھی بنادیا گیا۔

اسلام کا روحانی نظام :
اسلام کے روحانی نظام کو بہتر انداز میں سمجھانے کے لیے مولانا پہلے تو دیگر مذاہب و فلسفیات کے تخیلات بیان کرتے ہے، جس میں رہبانیت کی مثال دے کر واضح کرتے ہیں کہ کس طرح یہ تخیلات روح اور جسم کو ایک دوسرے کی ضد قرار دے کر ایک کی ترقی میں دوسرے پر ظلم ڈھاتے نظر آتے ہیں۔ پھر فلسفیانہ انداز میں اسلام کا نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں کہ انسانی روح کو خدا نے کچھ فرائض و ذمہ داریاں دے کر زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے۔ مولانا جسم کو روح کا قید خانہ نہیں بلکہ کارخانہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیںکہ اس طرح سے اسلام نے رہبانیت کے تصور کو رد کیا ہے اور روحانی ترقی کا راستہ دنیا کے باہر سے نہیں بلکہ اندر سے نکالا ہے۔ بقول مولانا:’’خدا کا قرب ہی اسلام کی نگاہ میں روحانی ترقی ہے۔‘‘ مولانا نے روحانی ترقی کے اس باب میں افراد ہی نہیں بلکہ جماعتوں اور قوموں کے لیے بھی روحانی ترقی کا راستہ بیان کیا ہے کہ فرد کی طرح قوم اور ریاست بھی ایمان، اطاعت، اور تقوی کی منزل سے گزر کر احسان کی منزل تک پہنچ سکتی ہے اور اپنے پورے نظام کے ساتھ روحانی ترقی کرسکتی ہے۔
مولانا مودودیؒ کی یہ شاہ کار تصنیف یقیناً فرد و اجتماعیت میں نظام زندگی کی تربیت کے لیے بہترین رہ نما ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے استفادہ کرتے ہوئے عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر