اسیداشہر

ماہنامہ ھادیہ خواتین کا پہلا ایسا ای -میگزین ہے جو میں نے دلجمعی سے پڑھا اور اس کے مشمولات،پیشکش اور خوبصورت تزئین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ ھادیہ پر تاثرات تحریر کروں۔آج مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ تاثرات کی شکل میں قلم کے سپرد کررہا ہوں۔
ھادیہ کا سرورق خوبصورت اور پورے میگزین کا نچوڑ ہوتا ہے۔کچھ صفحات پلٹنے کے بعد ایڈیٹر کے فکرانگیز اداریہ سے سامنا ہوتا ہے۔’’ادراک‘‘کے تحت اداریہ میں چیف ایڈیٹر اور ادارتی بورڈ کے فاضل ممبران کی جانب سے بھی کبھی کبھی تحریر آ جائے تو بہتر ہوگا۔
’’النور‘‘کالم میں درسِ قرآن اور درسِ حدیث پیش کیا جاتا ہے۔اس میں جنرل بات نہ کرتے ہوئے خواتین کو فوکس کرکے ان کے نقطۂ نظر سے بات رکھی جائے تو مزید اچھا رہے گا۔’’عکسِ ھادیہ‘‘ کے تحت کور اسٹوری خوب ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ’’فوز و فلاح،سخن سراپا،صحت و صلاح، حقائق مع اعداد و شمار،تحقیقی مقالہ،تعمیرشخصیت،تعلیم و روزگار،تدابیر و تراکیب اور بہنیں پوچھتی ہیں‘‘جیسے کالم اہمیت کے حامل ہیں۔ان کے تحت معیاری تحاریر پڑھنے کو مل رہی ہیں جو معلومات افزاء ہیں۔’’معمار جہاں تو ہے‘‘میں بھی خواتین کی تربیت میں مددگار تحریریں پیش کی جا رہی ہیں۔’’گرلز پلانٹ‘‘ کو مزید توجہ کی ضرورت ہے۔
’’گوشۂ مطالعہ‘‘کالم میں مفیدوکارآمد کتابوں پر تبصرہ کیاجارہا ہے۔یہ سلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ چونکہ ھادیہ ڈیجیٹل میگزین ہے اس لیے کتاب کی خریداری کی لنک فراہم کی جانی چاہیے تاکہ باذوق قارئین کتاب خرید سکیں۔اگر کتاب pdf میں میسر ہو تواس کاڈاؤن لوڈ لنک دیناناگزیر ہوجاتا ہے۔
’’ای استاد‘‘ کالم اچھا لگا۔خواتین کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کی یہ کوشش لائقِ ستائش ہے۔ البتہ اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ زیادہ ’’دور دراز‘‘کی باتیں بتانے کے بجائے روز مرہ زندگی کی ضروریات مثلاً سوشل میڈیا ٹپس، ڈیجیٹل ادائیگی،آنلائن شاپنگ،پرائیویسی ٹپس جیسے موضوعات کا احاطہ کیا جائے۔’’اولاد کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں‘‘میں اولاد کی تربیت کے حوالے سے اچھے معلوماتی مضامین پڑھنےکومل رہے ہیں۔’’گفت و شنید‘‘کے تحت انٹرویو کا سلسلہ بھی اچھا ہے۔
’’ادبی فن پاروں‘‘ میں دورِ حاضر کی سینئر خواتین قلمکاروں کے فن پاروں کو جگہ دی جا سکتی ہے۔قسط وار سفرنامہ کے لیے زیادہ صفحات مختص کیے جانے چاہیے تاکہ باذوق قارئین کو اگلی قسط کیلئے زیادہ انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔اسی طرح قارئین کی دلچسپی و تربیت کیلئے کوئی اصلاحی ناول قسط وار شائع کیا جانا چاہیے۔
ھادیہ میگزین کی تیاری میں ڈیزائن کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ ڈیزائن اتنی دلکش اور خوبصورت ہوتی ہے کہ مطالعہ کا مزہ دوبالا کر دیتی ہے۔رنگوں کا مناسب استعمال میگزین کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔ مضامین کے آخر میں اور آس پاس خالی جگہیں منفی تاثر دیتی ہیں۔ یہاں مزید ’’ایڈجسٹمنٹ‘‘کی ضرورت ہے۔ ان خالی جگہوں کو چھوٹی بچے بچیوں کی ڈرائنگز وغیرہ سے پر کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ان کی مختصر تحریریں اور نظمیں شائع کی جا سکتی ہیں۔’’بولتی تصاویر‘‘کو مسلسل تین صفحات مختص نہ کرتے ہوئے پورے میگزین میں بکھیرا جاسکتا ہے۔
آج کے سائنسی دور کے اس ڈیجیٹل میگزین میں ایک سائنسی کالم کی کمی محسوس ہوئی۔ خواتین کے اس میگزین میں ادب اطفال کا بھی اطمینان بخش حصہ ہونا چاہیے۔اس کالم میں عصر حاضر کے ادباء کی ایسی اخلاقی و تربیتی کہانیاں پیش کی جائیں جو مائیں اپنے بچوں اور بہنیں اپنے چھوٹے بھائیوں کو سنائیں۔ یہ کہانیاں بچوں کو ادب اطفال کی جانب راغب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ھادیہ کے مطالعہ کے بعد اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ میگزین اپنے مقصد و مشن میں پوری طرح کامیاب ہے۔ ھادیہ کے مشمولات اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ بہت کم عرصہ میں ھادیہ نے عوام و خواص میں مقبولیت حاصل کر لی ہے جس کے لیے ٹیم ھادیہ کو تہہ دل سے مبارکباد پیش ہے۔

وعلیکم السلام
آپ کی رائے جان کر خوشی ہوئی۔تجاویز و مشورے بھی پسند آئے۔
ان شاء اللہ عمل آوری کی جائے گی۔
امید ہے اسی طرح آپ کا تعاون بنا رہے گا۔
شکریہ
ایڈیٹر

جون ۲۰۲۱