امت مسلمہ
مشن اور خودشناسی
کتاب ایک بہترین تحفہ ہے، لیکن تحفے میں اگر ایک نہیں بلکہ کتابوں کا پورا سیٹ مل جائے تو خوشی دوچند بلکہ سہہ چند ہوجاتی ہے۔شہر دھولیہ سے ایک قاریہ جب آکولہ آئیں تو مجھ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور جاتے جاتے ڈاکٹرمحمد رفعت ؒکی بہت سی کتابیں ہدیہ کرگئیں۔انہی میں سے ایک کتاب (امت مسلمہ، مشن اور خود شناسی)کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر محمد رفعت کے بارہ(12) مضامین کا مجموعہ ہے، جن میں امت مسلمہ کو اس کے حقیقی منصب کی یاددہانی کرائی گئی ہے۔یہ مضامین ماہنامہ’’زندگی نو ‘‘میں اداریوں کی حیثیت سے شائع ہوئے تھے، جنھیں بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے۔ کتاب کا ابتدائیہ ہی ایسے عنوان پر ہے جو قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے،یعنی ملک کو درپیش مسائل اور امت مسلمہ ۔ ابتدا میں مصنف لکھتے ہیں: ’’ یہ موضوع اس ملک کے ہر حساس فرد کے لیے دلچسپی کا موضوع اور سنجیدہ غور وفکر کا متقاضی ہے۔ کسی سماج کے افراد سنجیدہ غور و فکر کے عادی ہوں تو یہ اس کی زندگی کی ضمانت ہے اور خدانخواستہ اگر سنجیدہ حقائق اس کے غور و فکر کا موضوع نہ بنیں بلکہ صرف سطحی مشاغل ہی ان کی توجہ کھینچ سکیں تو یہ اس سماج کے زوال کا مظہر ہے۔‘‘ اس باب میں انہوں نے وطن عزیز کے اہم مسائل پر گفتگو کی ہے، جیسے ذات پات، اعلیٰ و ادنیٰ کی تقسیم، خواتین کے حقوق کی ادائیگی کا مسئلہ، اوہام پرستی اخلاقی زوال وغیرہ۔اور اس کا حل وحدتِ الہ، وحدت بنی آدم، شرف انسانیت، آفاقی نگاہ، اخلاقی تربیت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، معروفات کے فروغ کے تعاون اور قیامِ عدل کو بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس امت کی ذمہ داری ہے کہ ان تصورات کو پھیلائے اور ان صالح قدروں کو عام کرے۔ ہدایت کی طالب سعید روحیں سیرت محسن انسانیتؐ کے تذکرے میں وہ حیات بخش پیغام پاتی ہیں جو حق کی راہ کو روشن بھی کرتا ہے اور اس پر گام زن ہونے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔ کتاب میں انہوں نے مطالعۂ سیرت کا طریقِ کار کے موضوع کو بھی شامل کیا ہے،جس کے ذریعے اسوۂ حسنہ سے کماحقہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جس کے تحت انہوں نے درج ذیل موضوعات پر رہ نمائی کی ہے : (1)سیرت کے مستند مآخذ پر اصرار (2) انبیائی مشن کے جامع تصور کا استحضار (3)ختم نبوت کے تقاضوں کا فہم (4) قرآنی ہدایات کی درست تعبیر متعین کرنے کی سعی (5)سیرتِ صحابہ سے استفادہ یہ بھی کہا کہ اگر سیرت کا مطالعہ اس طرح ہو کہ قرآنی ارشادات کی تشریحات کو تلاش کیا جائے اور ان کو متعین موضوعات کے تحت مرتب کیا جائے تو واقعات کی ایک نئی ترتیب سامنے آئے گی۔ سیرتِ رسولؐکے مطالعہ کے لیے وہ سیرتِ صحابہ اور سیرتِ امہات المومنین کے تفصیلی مطالعے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔کیوں کہ خلفائے راشدین کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ ان کے دور میں اسلام کا پورا اجتماعی نظام اپنی درخشاں خصوصیات کے ساتھ قائم رہا۔ چنانچہ ان کی سیرت کے مطالعے سے کوئی طالب حق بے نیاز نہیں ہو سکتا اور امہات المومنین چوں کہ رسول اللہ ؐ کی شریکِ حیات تھیں، تو معاشرت کی بہت سی ہدایات ان کے علم میں ایسی ہو سکتی ہیں، جو ان کے سوا کسی اور ذریعہ سے لوگوں کو معلوم نہیں ہو سکتی تھیں۔
کتاب کے ایک باب’’معاصر فضا اور مسلمان (ہندو ستان کے سیاق میں) ‘‘ میں مصنف نے ہندوستانی مسلمانوں کےتنزلی کے اسباب اور موجودہ ہندوستان میں ہمارا لائحۂ عمل کیا ہو؟ اس پر سیر حاصل گفتگو کی۔ چونکہ یہ کتاب 2015 میں، مودی حکومت کے آنے کے بعد منظرِ عام پر آئی تھی، اس لیے آج کل کے حالات سے ہم اسے باآسانی ریلیٹ کر پاتے ہیں۔’’عالمی حالات میں تغیر کے اشارے ‘‘میں انہوں نے تیسری دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کا اور عرب ممالک میں چلنے والی غیر معمولی عوامی تحریک کا ذکر کیا ہے۔ عرب ممالک کی عوامی تحریک مقامی ڈکٹیٹرز کے ظلم اور جبر کے خلاف ردعمل کے طور پر وجود میں آئی تھی، جن کا اہم پہلو ان میں نئی نسل کی سرگرم شمولیت ہے۔ پرانی نسل مغرب سے مرعوب تھی۔ کیوں کہ انہوں نے مغرب کا تہذیبی دورِ عروج دیکھا تھا، جب کہ نئی نسل مغرب کے دورِ زوال کا آغاز دیکھ رہی ہے۔ اس لیے ان کی مرعوبیت بھی کم ہے۔ عرب کی تحریک کا تقابل انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں سے بھی کیا ہے اور بتایا کہ مسلمانوں کی نئی نسل کے لب و لہجے میں معذرت خواہی کی بجائے خود اعتمادی نظر آنے لگی ہے اور اس فضا کے پیدا ہونے میں اللہ کے فضل کے بعد اسلامی تحریک کی سعی کا بڑا حصہ ہے۔ کتاب کا ایک مضمون ’’عالمی حالات کا چیلنج اور امت مسلمہ‘‘بہت اہمیت کا حامل ہے، جس کا مجھے پوری کتاب پڑھنے تک انتظار رہا۔ اس باب میں موصوف نے دنیا کے موجودہ حالات کے چیلنجز پر گفتگو کی اور سوال اٹھایا کہ اس کا مقابلہ کرنے کی کیا تدبیریں ہیں۔ مصنف نے کہا کہ حالات کا مقابلہ امت مسلمہ کو کرنا ہے۔ ان کے جغرافیائی، علاقائی،لسانی اختلافات کے باوجود یہ ایک ہی جسم کی مانند ہیں۔ یہ مضمون اس کتاب کی جان ہے، جس میں انہوں نے قاری کو پریشان کرکے نہیں چھوڑا، بلکہ مثبت باتوں سے اس کا دل مضبوط کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’امت مسلمہ کی پوری تاریخ زوال محض کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ زوال سے کشمکش کی تاریخ بھی ہے۔ کیوں کہ امت مسلمہ اس پوری تاریخ میں جامد نہیں رہی۔ مسلسل اس کے اندر زندگی اور حرکت و حرارت باقی رہی۔‘‘ انہوں نے خود اس ضرورت کو محسوس کیا ہے کہ محض یہ کافی نہیں کہ موجودہ کیفیت پر تنقید کر دی جائے، بلکہ انہوں نے امت مسلمہ کی خصوصیات، زوال سے تعمیر کی جانب، قومی عصبیت کے منفی اثرات، باطل نظریات کا فتنہ، اسلامی سیاست پر تحقیق کی ضرورت، اور حصولِ آزادی اور تبادلۂ خیال کی اہمیت جیسے موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد واقعی محسوس ہوا کہ گویا دماغ کی رگ رگ کو پانی پہنچ گیا ہے۔ملک و ملت کا درد دل میں رکھنے والوں اور حالات کی تبدیلی چاہنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگا۔
ہدایت کی طالب سعید روحیں سیرت محسن انسانیتؐ کے تذکرے میں وہ حیات بخش پیغام پاتی ہیں جو حق کی راہ کو روشن بھی کرتا ہے اور اس پر گام زن ہونے کا حوصلہ بھی عطا کرتا ہے۔ کتاب میں انہوں نے مطالعۂ سیرت کا طریقِ کار کے موضوع کو بھی شامل کیا ہے،جس کے ذریعے اسوۂ حسنہ سے کماحقہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

۲۰۲۱ ستمبر