امید!
کیا آپ کو پتہ ہے ،یہ کون سا درخت ہے؟
یہ صنوبر کا درخت ہے۔
یہ انطالیہ ، مارماریس، موعلا ،نامی ترکی کے پر فضا مقامات پر اوگنے والا بیش قیمتی درخت ہے۔ اس پر نایاب قسم کی شہد کی مکھیاں عاشق ہوتی ہیں اور صنوبر کا شہد ترکی کی سب سے منفرد شے ہے۔ صنوبر کے درخت پر شہد کی مکھیوں کو چھتہ لگانے میں 50برس کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اس لیے یہ کم یاب اور نایاب شے ہے۔
سیاحت کے علاوہ ان علاقوں کا جنگلی شہد اور پھل وغیرہ بھی بہت مشہور ہیں۔
صنوبر کے سدا بہار درختوں سے مالا مال یہ علاقے آگ کی لپیٹ میں آ کر اپنا پورا Ecosystemکھو چکے ہیں۔اب یہاں جانے کتنے سال بعد سہمی ہوئی شہد کی مکھیاں اور آزردہ تتلیاں اور تھکے ہارے ہوئے کچھوے اور لٹے ہوئے خرگوش اور جگر سوختہ ہرن آئیں گے۔ آخر کب وہ سبزہ اور ہریالی واپس آئے گی، جس کو آگ کے شعلے 8دن میں کھا گئے ہیں۔ اطراف میں راکھ کے بادل چھا گئے ہیں۔ سب جنگلی پھول مرجھا گئے ہیں۔ پھر بھی ترک نوحہ کناں نہیں ہیں۔ ان کے حوصلے جواں ہیں۔
ہم پھر تتلیوں کو اور شہد کی مکھیوں کے لیے ماحول بنائیں گے، ہم صنوبر کے درخت پھر سے اگائیں گے۔ آگ چاہے آگ کی ہو یا نفرت کی،پورے چمن کوجلادیتی ہے اور پوری آبادی کو پتھر کے دور میں پہنچادیتی ہے ۔
اس لیے اے زمین زادو! آگ جنگل میں لگے کہ دلوں میں یا گھر اور معاشرے میں، اس سے پہلے کے جلاکر خاکستر کردے، آگ سے تحفظ کے اقدامات کریں اور جہاں آگ لگ چکی، وہاں امید کی ایک کرن بھی سرسبز بنانے کے لیے کافی ہے ۔
۲۰۲۱ ستمبر