انسان دوستی
اسلامی فکر و فلسفہ کی روشنی میں

دنیا کے تمام مذاہب نے اپنے نظام فکر و عمل میں جس چیز کو مرکزی اہمیت دی ہے، وہ انسان ہے۔ انسان ہی وہ محور ہے، جس کے گرد دنیا کی تمام تہذیبیں گردش کررہی ہیں۔ انسان کا احترم ،انسان سے محبت، انسان کے حقوق اورانسان کے مقام و مرتبہ پر دنیا کے تمام مذاہب نے اعتراف کیا ہے۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات میں بھی اول سے آخر تک انسان دوستی یا انسانی محبت و اخوت کو نہایت اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام کی رو سے کوئی انسان بلند مقام تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا،جب تک کہ اس کے اندر انسانوں سے محبت اور ہمدردی کا جذبہ نہ ہو۔

یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنی ضروریات زندگی کے لیے سماجی زندگی گزارتا ہے۔ لیکن اگر سماج میں رہنے والے لوگوں سے اس کا رویہ خالص مادی ہوتو وہ اپنی زندگی کو پر سکون انداز میںنہیں گزار سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس میں رہنے اور بسنے والے لوگوں کی عزت و اورقار جان ومال کی حفاظت اور انسانوں کے احترام سے اس کا دل لب ریز ہو تاکہ ایک مہذب سماج کی تشکیل ہو سکے۔اسلام نے یہ بنیادی تعلیم دی ہے:

اَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآء (النساء:1)

(اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائے۔)
ایک آیت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی اصل ایک ہی ہے اورتمام انسان ایک ہی خاندان کے فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان میں باہمی اتحاد ہونا چاہیے۔ کوئی کسی سے دولت ثروت، رنگ ونسل کی بنیاد پر چھوٹا اور بڑا نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہی ہے:

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا‌ (الحجرات:13)

(لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔)
یعنی گروہ اور قبیلہ میں بانٹنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انسانوں کے درمیان تفریق کی جائے۔ بلکہ اس کا مقصد لوگوں کا ایک دوسرے سے تعارف اور ظاہری پہچان ہے اور برتریت اور فوقیت کا معیار تقویٰ کی بنیاد پرہے۔
تمام مسلمانوں کی مثال محبت اور شفقت میں ایک جسد واحد کی سی ہے کہ جب اس کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو تمام اجزاء اس کے ساتھ دکھ او ر تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اس طرح اسلام مسلسل اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ انسانیت ایک وحدت ہے اور اس کے افراد گویا ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ انسانی معاشرہ کی مثال ایک درخت کی سی ہے کہ اس کی ٹہنیاں بلا تفریق ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ قرآن نے بکثرت مقام پر یا ایھاالناس، یعنی اے بنی آدم کہہ کر خطاب کیا، تاکہ انسانوں کے ذہنوں میں وحدت انسانیت کا تصور پیدا ہو۔
اسلام میں عبادات کے ذریعہ بھی انسانوں کے درمیان مساوات کا درس ملتا ہے۔ اس کی بہترین مثال نماز میں ہے بلاتفریق رنگ و نسل کے تمام مومن ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

ایک ہی صف مین کھڑے ہوگئے محمودوایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

حدیث سے یہ تعلیم بھی انسانوں کو دی گئی کہ تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے ۔ کسی کالے کو گورے پر کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔
عبادات و اخلاقیات کے علاوہ قوانین میں بھی اسلام برابر ی کا سبق دیتا ہے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ بلند اخلاق والا ہے۔یعنی چھوٹے بڑے، غریب امیر، سب کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آؤ۔ یہاں یکسانیت کا ایک اعلیٰ تصور سامنے آتا ہے۔ جس کو پوری قوم باہمی اتحاد و محبت کے دائرے میں داخل ہوسکتی ہے۔ اسلامی قوانین کے نفاذ میں بھی امیر و غریب ،چھوٹے بڑے، بادشاہ اور رعایاسب کے لیے یکساں حکم ہے۔ اگر کسی نے چوری کی تو خواہ وہ خلیفۂ وقت کا بیٹاہی کیوں نہ ہو، اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے:

ٱلْحُرُّ بِٱلْحُرِّ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰ(البقرہ : 178)

(آزادکا بدلہ آزاد سے غلام کا بدلہ غلام سے عورت کا بدلہ عورت سے لیاجائے گا۔)
اس طرح مذہبی رواداری کی جو بہترین مثالیں اسلام میں ملتی ہیں، اس کی کہیں اور نظر نہیں ملتی۔ لیکن اسلام کی اس انسان دوستی کی تعلیم کو سب سے بڑا نقصان مغرب کی مادہ پرستانہ ذہنیت سے ہوا۔ سیّد قطب شہیؒد کی نگاہ میں انسان دوستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی مغربی مادہ پرستانہ تہذیب تھی جو کہ انسانوں کو دولت کا حریص بناتی ہے اور انسانوں سے زیادہ دولت پیدا کرنے والی مشینوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس تہذیب میں انسان کی اصل بنیادی خصوصیات کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے، جو انسان اور حیوان میں فرق کو قائم کرتی ہے اور انسان کو مشین سے ممتاز بناتی ہے۔
انسان اس سرزمین پر اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔ اس کی حیثیت ایک سردار کی طرح ہے۔ اللہ نے اسے تمام ارضی و سائل کا علم عطاکیا ہےاور دنیاوی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہے۔
اسلام نے عظمت آدم کو نکتۂ کمال تک پہنچادیا۔ ساری کائنات میں اسے اپنے مقصد وجود کے اعتبار سے ایک منفرد مخلوق قرار دیا۔ اس عظمت کا تحفظ بھی اس کے لیے لازمی قرار دیا۔ اس دنیا کو اس کے لیے دارفانی قراردیانہ تو اسے عقل کا غلام بنایا اور نہ ہی انسان کی حیوانیت کا اعلان کیا ۔ اسلام کی انسان دوستی کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ اس نے تاریخ انسانی میں سب سے پہلے نہایت واضح اور پُر زور الفاظ میں انسانی حقوق کا چارٹر مرتب کیا۔ حالاں کہ مغرب اس بات کا مدعی ہے کہ وہ اس سرزمین پر سب سے پہلے انسانی حقوق کا علم بردار ہے، جو کہ غلط ہے۔
اسلام نے انسانوں کے جو حقوق متعین کیے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔ زندہ رہنے کا حق اور انسانی جان کا احترام فرض قراردیا گیا۔ یہ حق بلا تفریق رنگ و نسل سب کے لیے ہے۔
۲۔ حفاظت کا حق۔
۳۔ عورت کی عظمت کا احترام۔
۴۔ ہر سائل و محروم کا حق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔
۵۔ ہر انسان کا یہ حق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
۶۔ انسان کی آزادی کا حق۔
۷۔ انسانی مساوات کا حق۔
۸۔ ظلم اور برائی کے خلاف آواز اٹھانے اور اچھائی میں دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کا حق۔
حقوق انسانی کے اس چارٹرکو لے کر مسلمان دنیا کے مختلف ممالک میں گئے تو انھوں نے دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ انسان دوستی کا مظاہر کیا اور منصفانہ حکومتیں قائم کیں۔ جس کے نتیجے میں بہترین معاشرے وجود میں آئے ۔خود بھارت میں ان کی آمد اور مسلم صوفیاء و تجار کے بلند اخلاق کی وجہ سےعظیم انقلاب برپا ہوا۔

انسانیت ایک وحدت ہے اور اس کے افراد گویا ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ انسانی معاشرہ کی مثال ایک درخت کی سی ہے کہ اس کی ٹہنیاں بلا تفریق ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ قرآن نے بکثرت مقام پر یا ایھاالناس، یعنی اے بنی آدم کہہ کر خطاب کیا، تاکہ انسانوں کے ذہنوں میں وحدت انسانیت کا تصور پیدا ہو۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱