آخرت
قلمکار‎ : سلمیٰ نسرین

گرم دوپہروں میں جب ہاتھوں میں کتاب ہو موضوع آپ کی دلچسپی کا ہو اور رائٹر آپ کا پسندیدہ، تو بہتے چشموں کے نزدیک پیڑ کی گھنی چھاؤں کے نیچے ٹیک لگائے بیٹھنے کا
لطف آتا ہے۔
ایک اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا گویا کسی دل پسند نگری کی سیر کرنا ہے۔میرے سامنے اس وقت بنت الاسلام صاحبہ کی کتاب آخرت ہے۔
اپنے دیباچے، تبلیغ کی اہمیت میں وہ لکھتی ہیں:
’’تبلیغ عملی بھی ہوتی ہے قولی بھی قلمی بھی۔ تینوں اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں تاہم قلمی تبلیغ میں ایک اہم نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کا دائرۂ اثر دور دور تک پھیل جاتا ہے ایک مخلص دل سے نکلی ہوئی نصیحت جب تحریر میں محفوظ ہوجائے تو پھر اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ اسے پڑھیں گے اور متاثر ہوں گے یہی نہیں بلکہ تحریر کے ذریعے ان انسانوں کو بھی مخاطب کیا جاسکتا ہے جنہوں نے صدیوں بعد پیدا ہونا ہوتا ہے۔‘‘
کتاب میں 18 ابواب ہیں جسے انہوں نے بہت خوبصورتی سے زندگی کی بے ثباتی سے شروع کر کے بالترتیب موت ، قبر یا عالم برزخ ، قیامت، نامۂ اعمال ،میزان بہشت دوزخ ، جذبۂ شوقِ آخرت اور بالآخر انسانی زندگی پر عقیدۂ آخرت کا اثر، کے تحت مضامین درج کیے ہیں۔
سبھی مضامین احادیث اور صحابہ کرام کے ایمان افروز واقعات اور اقوال سے مزین ہیں۔قرآنی آیات اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے یہ کتاب مزید قابلِ قدر بن جاتی ہے۔
مستورد بن شداد سے روایت ہے رسول اکرم صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا :
دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے بس ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی دریا میں ڈال کر نکالے پھر دیکھے کہ پانی کی کتنی مقدار اس میں لگ کر آئی ہے۔(مسلم)
ایک اچھی کتاب پڑھتے وقت کوئی ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب دل کو چھو جانے والی کسی بات کو پڑھ کر آدمی کتاب بند کرکے چند ثانیوں کے لیے دیوار کو تکنے لگتا ہے اور اس جملے کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے دوران بھی بارہا وہ لمحات آتے ہیں۔
’’اے سعد ! آؤ جنت میں چلیں۔‘‘
’’ربِ کعبہ کی قسم!میں تو کامیاب ہوگیا۔‘‘
جیسے جملے کئی ساعتوں تک آپ پر سرور طاری کیے رکھتے ہیں۔آپ آگے نہیں بڑھ پاتے تھم سے جاتے ہیں۔
جنتوں کے حسین خواب کون نہیں دیکھتا لیکن جب اپنے اعمالِ بد پر نظر جاتی ہے تو صرف مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے تاہم اندرونی صفحات میں جنتوں کے تذکرے پڑھتے وقت امیدوں کی ٹھنڈی ہوائیں تسلی دیتی ہیں کہ رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا کرتے۔
آیات و احادیث میں بہشت کی خوبصورتی سرسبزی اور دلفریبی کی بڑی دلکش تفصیلات دی گئی ہیں۔ باغات ، پودے، پھول اور بہتے پانی انسانوں کے لئے ہمیشہ کشش کا باعث رہے ہیں چنانچہ قرآن میں بھی جنت کی ان چیزوں کا بار بار تذکرہ کیا گیا ہے۔مضمون میں خاص طور پر جنت اور دوزخ کی تفصیلات بتانے کے لئے آیاتِ ربانی کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔
جہنم ایک ہولناک جگہ ہے :
جب وہ (دوذخ) ان (دوزخیوں) کو دور کرکے فاصلے سے دیکھے گی تو وہ اس کا چیخنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔ (الفرقان ١٢)
دوزخ ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں ہر قسم کی اذیت کے سامان ہوں گے۔
جسمانی، ذہنی اور روحانی اذیت کے بھی۔
کتاب پر سرسراتے الفاظ آپ کو لمحہ بہ لمحہ آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔
جذبۂ شوق آخرت میں مصنفہ لکھتی ہیں :
’’راہیں کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہوں اگر منزلِ مقصود کا شوق تیز ہوگا تو انسان جیسے تیسے ان مشکل راہوں کو طے کر ہی لے گا اور راہیں کتنی ہی دلفریب اور خوش کن کیوں نہ ہوں اگر دل میں پکا یقین ہو کہ منزلِ مقصود ان راہوں سے بدرجہا زیادہ دلفریب اور خوش کن ہے تو انسان کبھی راہوں کی دلفریبیوں میں کھو کر بیٹھ نہیں جائے گا۔اگر دلوں میں یہ خیال جاگزیں رہے کہ یہ زندگی صرف راہ کی حیثیت رکھتی ہے تو پھر اس راہ پر کانٹے اُگے ہوں یا پھول کھلے ہوں عقلمند راہی راہ کو راہ ہی سمجھے گا منزل نہیں بنائے گا۔‘‘
کتاب مکمل کر چکنے کے بعد آپ پر ایک ایمانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اندرون صاف ستھرا لگتا ہے زندگی کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور شوقِ آخرت آپ کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے۔جب آپ اس کتاب کو ختم کرتے ہیں تو ایمانی حالت میں خود کو بہتر پاتے ہیں۔
دنیاوی مصروفیتوں میں گھر کر ہم آخرت کو دھیرے دھیرے بھولنے لگتے ہیں ایسے میں یہ کتاب ایک بہترین یاد دہانی ثابت ہوتی ہے۔
یہ کتاب بار بار پڑھے جانے لائق ہے اگر آپ نے یہ اب تک نہیں پڑھی ہے تو آپ کو اسے ضرور پڑھنا چاہیے اور اگر پڑھ چکے ہوں تو آپ کو دوبارہ پڑھنا چاہیے کہ آخرت بھلایا جانے والا موضوع نہیں ہے۔
یہ کتاب میری پسندیدہ ترین ہے۔جب بھی میں دنیا کے جھمیلوں میں گم ہونے لگتی ہوں اس کتاب کے پاس چلی آتی ہوں یہ مجھے آخرت کی یاد دلاتی ہے میرا ہاتھ تھام کر تصور میں اس دنیا کی جانب لے جاتی ہے جو اصل گھر ہے جہاں ہمیشہ ہی رہنا ہے۔