آصف، دیوانگنا اور نتاشا کی رہائی سے
عدالت عظمیٰ کے فیصلے تک

 دلی دنگوں کے جرم میں یو۔اے۔پی۔اے کے تحت تین طالب علموں کو دلی ہائیکورٹ کی ایک بنچ نے 15جون کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے واضح طور پر کہا کہ حکومتی قوانین کے خلاف احتجاجات کتنے سخت ہی کیوں نہ ہوں، انھیں دہشت گردی کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ رہائی کے حکم پر عمل درآمد پر دلی پولیس نے دو دن لگا دئیے، بالاخر 17جون کو تینوں طالب علم نے باہر کی دنیا کی ہوا چکھی۔
واضح رہے دیوانگنا، نتاشا اور دوسرے بہت سے ایکٹویسٹ جیسے خالد سیفی ، عشرت جہاں، میران حیدر، شرجیل امام، شفاء الرحمان وغیرہ دلی فسادکی سازش کے جرم میں پچھلے ایک سال سے قیدوبند کی صعوبتیں کاٹ رہے ہیں            ۔      یہ سبھی                ایکٹویسٹ کے متنازع قوانین سی۔ اے۔ اے ،این ۔آر۔سی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہ وئے تھے۔ 
ضمانت کے اس حکم کے خلاف دلی پولیس عدالت عظمیٰ بھی گئی، جہاں دلی پولیس کی اس اپیل پر، عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کردیا وہیں ضمانت پانے والے تینوں طالب علموں کو نوٹس جاری کیا۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ فی الحال ہائی کورٹ کے اس حکم کا حوالہ دے کر ملک  کی کسی عدالت میں یو۔اے۔پی۔اے کے تحت کوئی قیدی راحت نہیں مانگ سکے گا۔
ہائی کورٹ کے فیصلہ سے جہاں امید کی ایک کرن جاگی تھی ، سپریم کورٹ کے حکم سے وہ ٹمٹماتی ہوئی نظر آرہی ہے۔بہر حال ایک سال کی قید و ظلم کے برداشت کرنے کے بعد بھی طالب علموں کے حوصلہ بلند ہیں، وہیں جامعہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا نے سی۔اے۔اے واپس ہونے تک لڑائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
لیکن سوال اٹھتا ہے آخر حکومت کب تک جمہوری آزادی کو کچلتی رہے گی۔‌جس وقت یہ مضمون لکھا جارہا ہے، اسی بیچ خبر آئی متھرا جیل میں قیل کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کی والدہ مالک حقیقی سے جا ملی ہیں۔ صدیق کپن ہاتھرس کیس میں یو ۔ اے۔ پی۔اے کے تحت بند ہیں۔
جمہوری ملک میں جمہوری آواز کو کچلنا آمریت کی نشانی ہے، حکومت کو اپنے اسی طرزِ حکومت کو بدلنا ہوگا وہ دن دور نہیں جب ملک کی عوام حکومت کو اپنا فیصلہ سنادے گی۔

جولائی ۲۰۲۱