آغوش مادر
قلمکار‎ : کے۔ایم۔ایف

ہر بچے کو یاد ہے بچپن میں جب کوئی قریبی رشتے دار یا ملاقاتی بچے کی طرف دیکھ کر یہ کہے کہ اس کا ’’رنگ کم ہے یا قد چھوٹا ہے‘‘
فوراً ماں بچے کی خوبیاں بیان کرکے بچے کی اس کمزوری کو کم کرنے کی کوشش کیا کرتی۔
کوئی رشتہ دار بچے کا رزلٹ پوچھ لے تو ماں کی زبان سے نکلے گا ’’میرا بچہ دوران امتحان بہت بیمار تھا ‘‘یہ مورل سپورٹ۔
بچے کے تحفظ کا یہ رویہ ہر ماں کا ہے اس میں کوئی تخصیص نہیں دنیا کی ہر ماں اپنے بچہ کا جذباتی تحفظ کرتی ہے۔
بچے کے چہرےکے تاثر سے ماں جان لیتی ہے کہ بچے کی ضرورت کیا ہے۔
اب جب وہ بوڑھی ہوچکی ہے تو اسی ماں پر جس نے بچپن میں بچے کو تحفظ دیا اس پر بچپن لوٹا دیا گیا ہے۔
بچے کو حکم ہے کہ اپنے والدین جب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو رب سے
دعا کیا کرو۔

رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّینِیْ صَغیرًا

اے میرے رب! میرے والدین پر رحم فرما ،جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔ (بنی اسرائیل ۔ 24)
اب ایک بالغ اور عاقل بیٹے کے سامنے وہی ماں جو بچپن میں اسکا سہارا تھی جو کسی دوسرے کو فقرے کسنے سے بھی روکنے کے لیے ڈھال بن جاتی تھی کہ بچہ بھی ہرٹ نہ ہو اور وہ رشتہ دار بھی ناراض نہ ہو اب اس بیٹے کا امتحان ہے کہ اپنی ماں کی بیوی سے شکایت سن کر کیسے دونوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کی شعوری کوشش کرتا ہے۔اپنی ماں کی خوبیوں کا ایسے ذکر کرے کہ بیوی بھی بوڑھی ماں سے محبت کرنے لگے اور بوڑھی ماں کا آبگینہ جیسا دل قطعاً نہ ٹوٹے۔
اولاد پر فرض ہے کہ بوڑھی ماں کا ایسا ہی خیال رکھا جائے جیسا کہ اس نے بچپن میں خیال رکھا تھا۔
دنیا کی الجھنیں اسے اپنی جنت سے بے گانہ نہ کرے۔
عرفان صدیقی کے بقول
ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے
ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے