آنکھ کی سیر

میں اپنا چہرہ تھوڑا اور غور سے دیکھنے لگا۔آئینے کے قریب جاکر اپنی آنکھ میں جھانک کر دیکھا تو ایک اور سوال ذہن میں آیا کہ:
’’آنکھیں اتنی گیلی گیلی کیسے رہتی ہیں؟‘‘ پھر وہی روکھا پھیکا جواب ملا کہ: ’’اشکی غدود….
یہاں آنسو پیدا ہوتے ہیں اور آنکھ کے اندرونی حصّے کی طرف بہہ جاتے ہیں۔

میں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے چہرے کا معائنہ کر رہا تھا۔سب سے پہلا سوال میرے ذہن میں آیا کہ’’یہ بھنویں کیوں ہیں؟‘‘
کتاب کھولی۔جواب ملا: ’’بھنوں کے محراب پسینے اور بارش کو آنکھوں سے دور رکھ کر ان کی چہرے کے اطراف میں نیچے کی طرف نکاسی کرتے ہیں۔‘‘
پھر میں نے کتاب سے سوال کیا کہ ’’کیا پلکیں آنکھوں کو خوبصورت بنانے کے لیے ہیں؟‘‘تو جواب خشک سا ملا: ’’ہماری پلکیں نہ صرف دھول کو آنکھ میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیتی ہیں، بلکہ وہ بہت حسّاس بھی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی غیر متوقع لمس کے سبب یہ حفاظتی پلکیں جھپکنا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘
میں اپنا چہرہ تھوڑا اور غور سے دیکھنے لگا۔آئینے کے قریب جاکر اپنی آنکھ میں جھانک کر دیکھا تو ایک اور سوال ذہن میں آیا کہ:’’آنکھیں اتنی گیلی گیلی کیسے رہتی ہیں؟‘‘ پھر وہی روکھا پھیکا جواب ملا کہ: ’’اشکی غدود….یہاں آنسو پیدا ہوتے ہیں اور آنکھ کے اندرونی حصّے کی طرف بہہ جاتے ہیں۔اس طرح سے وہ سطح کو صاف اور پرورش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔‘‘
یہ خشک اور روکھے سے جواب میں رٹ تو لوں ،لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ مجھے یاد نہیں رہ سکتے۔اس لیے میں نے سوچا کہ آنکھ کے اندر داخل ہونے سے پہلے میں اپنے سُپر گائیڈ کو ساتھ لے لوں۔جی ہاں! میرے دادا جی۔وہ سائنس کی سیر ایسے کراتے ہیں، مانو ہم کسی تاریخی عمارت کا دیدار کر رہے ہوں۔
دیر کیے بنا اپنی آنکھ کی ساخت لے کر ان کے سامنے پہنچ گیااور ان سے کہا کہ مجھے آج آنکھ کی سیر کرنا ہے۔انہوں نے کہا: ’’تیرنا آتا ہے نہ….اس میں ۹۵فیصد پانی ہوتا ہے‘‘۔
’’اچھا تبھی سارے شاعر آنکھوں میں ڈوبتے رہتے ہیں۔‘‘میں نے بھی ہنس کر کہا۔دادا جی نے مسکرا کربات شروع کی:
’’آنکھ ہمارے sense organیعنی حواسِ خمسہ میں سے ایک ہے۔ بنیادی طور پر آنکھ تین کام کرتی ہے:(1)یہ ہمیں رنگ دکھاتی ہے۔جیسے کالا،پیلا، ہرا، سفید وغیرہ۔(2) دوسرے یہ چیزوں کی shape یعنی شکل و صورت دکھاتی ہے،جیسے گول ،مثلث وغیرہ ۔ (3)اور تیسرا کام یہ آنکھیں ہمیں movement یعنی ہماری نقل و حرکت دکھاتی ہیں۔جیسے چیزیں چلتی ہیں، تو ہماری آنکھیں بتاتی ہیں کہ سامنے کی چیز حرکت کر رہی ہے۔سمجھے یا نہیں؟‘‘
’’جی دادا جی۔ایک بات بتائیے کہ جیسے میں بڑا ہو رہا ہوں تو مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آرہی ہیں ۔کیا ہماری آنکھوں میں بھی ہماری عمر کے ساتھ اس کی جسامت میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے؟‘‘
’’بر خوردار! بالکل نہیں۔آنکھ کی جسامت تاعمر یکساں رہتی ہے۔لیکن ناک اور کان بڑھتے رہتے ہیں۔یہ دیکھیے میری ناک کتنی بڑی اور موٹی ہو گئی ہے!‘‘دادا جی نے اپنے ناک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’آپ کی ناک کبھی پتلی بھی تھی؟‘‘دادا جی نے میری شرارت پر سر پر ہلکے سے چپت لگائی اور کہا:
’’آنکھ جو ساری دنیا دیکھتی ہے، لیکن جب اس کے اندر کچھ چلا جائے تو وہ اسے نہیں دیکھ سکتی….!اچھا اب تھوڑا آنکھ کی سائنس پر بات کریں؟‘‘
’’جی دادا جی! کیا آنکھ پوری طرح گول ہوتی ہے۔؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’ہاں کہہ سکتے ہیں۔پیچھے سے تو گول ہوتی ہے، لیکن آگے کی طرف سے تھوڑاباہر کی طرف ابھری ہوئی ہوتی ہے۔اور یہ جو آپ کا گول ہڈیوں کا گڈھا ہے، اسے socket یعنی چشم خانہ کہتے ہیں۔ جس میں آپ کی آنکھ کی بال سیٹ ہے،اسے orbit کہتے ہیں۔مطلب آنکھ کا حلقہ یا کاسۂ چشم۔‘‘
’’کیا دادا جی۔ آپ بھی مشکل الفاظ کا استعمال کرنے لگے۔!تھوڑا آسان زبان ہی رہنے دیجیے۔اسکول جاکر یہ اصطلاحات رٹ لوں گا ۔‘‘
’’ہاں یہ بات تو سو فیصدی درست کہی برخوردار۔لیکن کہاں چلے ؟‘‘
’’ابھی آیا…….!‘‘
جب میں ہاتھ میں چھوٹا سا آئینہ لے کر دوبارہ داداجی کے سامنے پہنچا تو انہوں نے پوچھا’’یہ آئینہ کیوں لے آئے؟‘‘
’’میں ذرا اپنی آنکھوں کا جائزہ لے رہا ہوں۔‘‘میں نے اپنی آنکھوں کو آئینہ میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا دکھا؟‘‘دادا جی نے پوچھا۔
’’دادا جی! دو منٹ تو رکیے ۔اچھا یہ بتائیے کہ ہماری آنکھیں اتنی تیزی سے حرکت کیسے کرتی ہیں؟دیکھیے ایسے اوپر ،نیچے،دائیں،بائیں…….۔‘‘میں نے اپنی آنکھوں کو گھما گھما کر دکھاتے ہوئے کہا، تو داداجی مسکرا دیے۔
’’جی ارسلان انسان کے جسم میں سب سے تیز حرکت کرنے والے پٹھے، یہیں ہماری آنکھوںمیں ہوتے ہیں۔جن کی تعداد چھ ہے۔تبھی تو یہ آپ کی آنکھوں کے بٹن ہر وقت گھومتے رہتے ہیں۔‘‘دادا جی نے اپنے اسٹائل میں سمجھایا۔
’’اب ایک بات میں بتا تا ہوں۔یہ جو ہماری پلکیں( eyelids) ہیں،یعنی ہماری آنکھوں کے غلاف، بالکل ایک پردے کی طرح کام کرتے ہیںاور جب یہ پردہ گر جاتا ہے تو ہم کچھ دیکھ نہیں پاتے۔ کیوں کہ روشنی اندر نہیں جاتی اور روشنی نہیں ہوگی، تو ہم کچھ دیکھ بھی نہیں سکتے۔’’لیکن دادا جی یہ روشنی کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘مجھے میری ہی بات میں سوال نے گھیر لیا۔داداجی نے مسکرا کر کہا۔
’’واہ بھئی آپ کی بات مجھے اچھی معلوم ہوئی اور اسی میں سے آپ نے ایک اور سوال بھی تلاش کر لیا ۔بہت خوب! آپ کے سوال کے جواب کے لیے ہمیں آنکھ کی تھوڑی اور گہرائی میں اترنا ہوگا۔‘‘
’’دادا جی کیا بہت ساری باتیں یاد کرنا پڑیں گی؟‘‘
’’نہیں نہیں،اتنا مشکل نہیں ہے۔ہماری آنکھ کی کہانی صرف تین پردوں پر محیط ہے۔باہر والا پردہ،درمیانی پردہ اور اندرونی پردہ۔‘‘
’’سب سے پہلے باہر والے پردے کے بارے میں بتائیے۔!‘‘
’’باہر والے پردے کوsclerotic layer سفیدہ چشم یا تصلب زدہ بھی کہتے ہیں۔ یہ پوری طرح سفید رنگ کا ہوتا ہےاور کافی موٹا ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ آنکھ کے سامنے والے حصّے میں پہنچتا ہے، تو یہ شفاف(transparent) ہو جاتا ہے۔جس میں سے روشنی آر پار جا سکتی ہے۔ یہاں یہ بہت پتلا ہو جاتا ہے اور پھر اس کا نام بدل کر cornea ہوجاتا ہے۔اردو میں اسے آنکھ کا شفاف پردہ،بیرونی پردہ اورقرنیہ کہتے ہیں۔‘‘
’’اب دوسرا پردہ۔‘‘میں نے فوراً کہا۔
’’دوسرے پردے کا نام ہے مشیمیہ(choroid layer)،یعنی آنکھ کا کالا پردہ یا پھر آنکھ کے ڈھیلے کا پردہ ۔ اس میں خون کی نالیاں اور خلیات بھی پائے جاتے ہیں۔جب یہ پیچھے کی جانب سے بڑھتے ہوئے cornea کے علاقے میں پہنچتا ہے، توخود کو گھما لیتا ہے اور دونوں جانب سے سامنے کی طرف آکر ایک دوسرے سے ملتا نہیں ہے، بلکہ ایک ساخت ایک ڈھانچہ بناتا ہے، جسےiris یعنی آنکھ کی پتلی یا قزحیہ کہتے ہیں۔دونوں جانب سے آنے والے درمیانی پردے کے گھماؤ سے آنکھ کی پتلی بن جاتی ہے اور جو ان کے درمیان ایک چھوٹی سی جگہ باقی رہ جاتی ہے، جو ہمیں ایک سوراخ کی شکل میں دکھائی دیتی ہے اسے pupil پُتلی کہتے ہیں۔‘‘
’’دادا جی یہ جو آپ کی آنکھ کا کالا کالا گول حصّہ ہے، کیا وہی iris ہے۔؟‘‘
’’جی برخورداراور اس کے درمیان میں ایک چھوٹا سا سوراخ بھی نظر آرہا ہے یا نہیں؟‘‘
’’ہے نہ دادا جی!یہ رہا pupil۔‘‘میں نے دادا جی کی آنکھ میں تقریباً انگلی ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ارے رے…..کیا میری آنکھ میں ہی داخل ہو جاؤگے!چلیے تھوڑا اس کے بارے میں اور بات کرتے ہیں۔یہ چھوٹا سا دکھائی دینے والا سوراخ بہت کام کا ہوتا ہے۔یہ بہت لچکدار ہوتا ہے۔ خود کو چھوٹا اور بڑا بہت آسانی سے کر لیتا ہے۔اچانک زیادہ روشنی اس کے سامنے آجائے تو یہ خود کو سکیڑ لیتا ہے اور کم روشنی میں یہ خود کو پھیلا لیتا ہے۔بڑا سائز ہوگا تو زیادہ روشنی اندر داخل ہوسکے گی۔‘‘
’’اگر میں اچانک آپ کی آنکھوں کے سامنے تیز روشنی کر دوں بالکل ایسے۔‘‘ میں نے دادا جی کے ٹیبل لیمپ کو جلا کر اچانک ان کی آنکھوں کے ایک دم سامنے کر دیا۔
’’ارے یہ کیا کر رہے ہو، بند کرو روشنی۔کیا سارے تجربات مجھ پر ہی کر لوگے۔۔۔!‘‘دادا جی نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اب جاؤ مجھے تھوڑا آرام کرنا ہے۔۔۔!‘‘
’’دادا جی ابھی تیسرے پردے کے بارے میں بتانا باقی ہے!‘‘
’’ارے ہاں۔۔ میں تو بھول ہی گیا تھا۔اس پردے کا نام ہے retina، یعنی پردہ چشم یا پردہ شبکیہ۔یہ آنکھ کا اندرونی کوٹ ہے، جو روشنی کے لیے حساس ہوتا ہے۔یہ دوسرے پردوں کی طرح کچھ بناتا نہیں ہے، بس اس کا کام صرف اتنا ہے کہ روشنی کو لیتا ہے اور اس سے تصویر بناتا ہے۔جو کچھ بھی آپ دیکھتے ہو اسے بنانے کی کلاکاری یہی پر دہ انجام دیتا ہے۔یہاں دو خلیات ہوتے ہیں جو اس کی مدد کرتے ہیں۔rods and cones۔ روڈس کا کام چیزوں کی ساخت و بناوٹ کو پہچاننا ہوتا ہے اور کونس کا کام ان میں رنگ بھرنا ہوتا ہے۔‘‘
’’ہاں دادا جی۔جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو ہمیں چیزیں تو نظر آتی ہیں، لیکن روشنی نہ ہونے کے سبب ہم ان کے رنگ نہیں پہچان پاتےاور اگر بالکل اندھیرا ہو تو ہم کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے۔میرے سوال کا جواب بھی مل گیا ۔یعنی ہمیں کسی بھی چیز کو دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بنا ہم کچھ نہیں دیکھ سکتے ۔واہ دادا جی! آج کی سیر تو بہت شاندار ہے۔اب آگے۔‘‘میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’ارسلان بیٹاآج کے لیے اتنا کافی ہے۔ابھی ان معلومات پر نظرِثانی کر لیجیے۔ کل پھر آگے کی بات کریں گے۔‘‘
ایک بات بتاؤں۔میرے دادا جی اسکول میں دسویں جماعت کے بچوں کو سائنس پڑھاتے تھےاور مجھے تو وہ جب سے پڑھا رہے ہیں، جب میں دس دن کا تھا……ہا ہا ہا ہا۔
یہ جو ہماری پلکیں( eyelids) ہیں،یعنی ہماری آنکھوں کے غلاف، بالکل ایک پردے کی طرح کام کرتے ہیںاور جب یہ پردہ گر جاتا ہے تو ہم کچھ دیکھ نہیں پاتے۔ کیوں کہ روشنی اندر نہیں جاتی اور روشنی نہیں ہوگی، تو ہم کچھ دیکھ بھی نہیں سکتے۔’’لیکن دادا جی یہ روشنی کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘مجھے میری ہی بات میں
سوال نے گھیر لیا۔

ننہے آرٹسٹ

جسمانی کھیل بچوں میں ڈسپلین پیدا کرتا ہے

۲۰۲۱ ستمبر