آکسیجن oxygen اور وبائی دور
اور تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
اللہ رب العالمین کی دی ہوئی نہ جانے کتنی ایسی نعمتیں ہیں جن کو ہم بنا ٹیکس کے استعمال کرتے ہیں اوربنا کسی خرچ کے وہ ہمارے لئے ہر لمحہ فیض کا سبب بنتی رہتی ہیں۔کیا کبھی رک کر ایک لمحہ بھر کے لئے ہم نے اس پر غور کیا ہے؟ آج ہم بات کررہے ہیں آکسیجن(oxygen) کی۔جی ہاں یہ آکسیجن جس کو ہم اپنی ہر سانس کے ذریعے اپنے جسم کے اندر روزآنہ 550 لیٹر کی مقدار میں لیتے ہیں اور جو ہوا کے ذریعے ہمارے اندر جاتی ہے اور ہمارے پھیپھڑے اس میں سے آکسیجن جذب کرکے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو الگ کرکے جسم کے باہر نکال دیتے ہیں۔اس زبردست قدرتی نظام پر ہمیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا جبکہ آج کے دور میں اس کی قیمت 13 لاکھ روپیہ تک ہوتی ہے۔حد تو یہ ہے کہ اس پر ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بھی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:

فبائ آلا ء ربکما تکذبان (الرحمٰن)

’’بس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘
آج دنیا میں ہر طرف ایک ہاہا کار سا مچا ہوا ہے۔ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ایک چھوٹے سے جرثومے نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور آج یہ وبا کی شکل میں ایک بھیانک روپ اختیار کرچکی ہے۔ہر طرف لاشوں کا اور انسانی جانوں کی ارزانی کا ایک جال بچھ گیا ہے۔ ہر چہار طرف سے یہی صدا بلند ہورہی ہے سانسیں اندر نہیں جارہی، وجہ آکسیجن لیول کم ہورہا ہے۔
کیسا ہولناک منظر نگاہوں کے سامنے ہے۔اپنے پرایوں کی موت ہورہی ہے اور انسان بے بس مجبور و لاچار ہے۔ حیران و پریشان ہے۔ ابھی کل تک جس پر ہماری توجہ بھی نہ جاتی تھی کہ ہر وقت ہر لمحہ ہمارے پھیپھڑے اپنے اندر آکسیجن جذب کرکے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو باہر نکال رہے تھے۔ہمارے اندر کا یہ زبردست وینٹیلیٹر سسٹم جس کو ہم محسوس بھی نہیں کرپارہے تھے اور نہ ہی اس کی کی کوئی قدر کرسکے آج وہی آکسیجن زندگی کے لئے اتنی اہم اور کارآمد ثابت ہورہی ہے کہ اتنی مہنگی قیمت چکا کر بھی اسے حاصل نہیں کرسکتے ہیں اسکی کمی اور قلت کا احساس آج خوف و ہراس کا ماحول پیدا کررہاہے۔ ذرا پل بھر رک کر یہ سوچیں تو سہی۔آخر کیا سے کیا ہوگیا؟
آخر یہ کیا ہے؟ہر دن، ہر نفس،ہر لمحہ یہ آنے جانے والی سانسیں بنا آکسیجن کے ایکدم تھم سی جاتی ہیں اور کسی کا کوئی بس نہیں چلتا نہ ڈاکٹر نہ ہی عزیز و اقارب۔ زندگی رک سی جاتی ہے۔انسانی جسم ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔اس جسم کو دوبارہ جاندار بنانے کے لئے آکسیجن کو سلینڈروں میں بھر کر لایا جاتا ہے اور پائپ کے ذریعے سانس کی نالی سے گذار کر پھیپھڑوں کو سپلائی کیا جاتا ہے تو پھر جان میں جان آتی ہے۔ زندگی جو تھم سی گئی تھی رکی ہوئی تھی دوبارہ چلنے لگتی ہے۔کتنی قیمتی شئے ہے یہ زندگی۔ زندگی اور اس کے لئے یہ ہوا اور اس کے اندر کی آکسیجن۔کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔
آئیے دیکھیں کہ یہ آکسیجن آخر آتی کہاں سے ہے بنتی کیسے ہے؟ ڈائیریکٹ ہوا کو اندر نہیں لیا جاسکتا ورنہ اسے تیار کرنے بنانے اور سلنڈروں میں بھرکر لانے کی کیا ضرورت تھی؟
جب ہم تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہوا کے اندر سے آکسیجن کو الگ کرکے اسے ریفل پیک کرنے کے لئے ایک لمباچوڑا پلانٹ لگانا پڑتا ہے اسے فلٹر پلانٹ کہتے ہیں۔پھر اسے اتنا ٹھنڈا کیا جاتا ہے کہ ۱۱۸ ڈگری پر حرارت باقی رہتی ہے cryogenic dislillation۔ جہاں سے پہلے ہوا کے اندر سے گردوغبار کو الگ کیا جاتا ہے تو یہ ہوا پانی کی طرح لیکوئڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔پھر اس لیکوئڈ کو ایک طے شدہ حرارت کے مطابق گرم کیا جاتا ہے اس میں سے  کمپیوٹر اور پلانٹ کے ذریعہ سے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ الگ کرکے آکسیجن کو الگ کیا جاتا ہے اور اس کام کے لئے لاکھوں کروڑوں روپیہ کا پلانٹ لگایا جاتا ہے۔اب ہم ذرا غور کریں کہ سائنس یہ کہتی ہے کہ یہی ہوا جب ہمارے جسم کے اندر جاتی ہے تو ہماری ناک کے بال سے اسے فلٹر کرنے کا کام کرتے ہیں اور ناک کے اندر جو رطوبت رہتی ہے اسے ٹھنڈا کرنے کا (cool down) کرنے کا کام کرتی ہے جو مشین118Oپر ٹھنڈا کرنے کا کام کرتی ہے۔ تو یہاں ہمارے جسم میں ہی یہ نظام ہے جب یہ ہوا اندر پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو ہمارے خون میں ایسے مالیکیول ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن کو الگ کرتے ہیں یہ پورا عمل ایسا ہے جو ہر وقت چلتا رہتا ہے ہم سورہے ہیں جاگ رہے ہیں پلانٹ چلتا رہتا ہے۔بنا کسی توقف کے، بغیر تھکن یا آرام کے چلتا رہتا ہےاور جب تک سانس چلتی ہے یہ نظام کام کرتا ہے۔ بچہ جیسے ہی دنیا میں آتا ہے خود بخودہی یہ نظام چلنے لگتا ہے۔ اس نظام کو چلانے والا ہمیں زندگی دینے والا ہمارا رب یہ تمام کام بنا کسی خرچ کے ہمارے اندر قدرتی طور پر چلاتا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔
اللہ رب العالمین نے آج سے 1400 سال قبل ہی قرآن میں ہمیں یہ بتادیا تھا کہ یہ پانی یہ سبزہ یہ ہوا یہ فضا میں لہلہاتے کھیت یہ پھل یہ میوہ جات یہ چاند ستارے یہ تمام کے تمام انسان کے لئے دی گئی وہ نعمتیں ہیں جن کو بنا کسی رکاوٹ کے حاصل کرتا ہے سب کچھ اسی کے لیے مسخر کردیا گیا ہے۔
لیکن یہ بھی کہا کہ قلیل ما تشکرون
’’تم لوگ کم شکر ادا کرتے ہو‘‘
انسان کو ان تمام نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی قدر کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہمارا رب جب تک مہلت عمل دیتا ہے تب تک یہ ہمارے پاس ہیں اور جب اس کی پکڑ کا وقت آجاتا ہے ان نعمتوں سے فیضیاب ہونے کا وقت اور مہلت ختم ہوجاتی ہے تو پھر کچھ بھی کارگر ثابت نہیں ہوتا۔نہ دوا نہ ہی کوئی اور تدبیر۔ انسان کو سنبھل جانا چاہیے، سدھر جانا چاہیے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی آزمائش کا وقت ختم ہوجاتا ہے تو پھر انسان اپنی دنیا میں مگن اور مصروف ہوجاتاہے اس کے پاس غور و فکر کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا ہے۔خود غرضی اور نفسی نفسی کا یہ عالم کہ اپنوں کے لیے بھی وقت نہیں لوگوں سے بیزار نظر آتا ہے

کسی کے لئے کچھ کرنے کو تیار نہیں بس اپنی فکر۔
وبائیں جب آتی ہے تو سیکڑوں سال کے بعد یاددہانی کے لئے لوگوں کو احساس دلانے کے لیے آتی ہے کہ
ایسی ہوتی ہے تمہارے رب کی پکڑاے انسان تو اب سنبھل جا۔۔۔۔
وبائیں لاکھوں جانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور جو بچتے ہیں انھیں یہ سبق دیتی ہیں کہ انسان اب تو سنبھل جا۔ورنہ قریب آگیا ہے تیرے رب کے حساب کا وقت تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف جارہا ہے۔
آج ایک چھوٹی سی نعمت جو آکسیجن کی شکل میں ہے، اس کی کمی سے دنیا میں کتنی جانیں رب کے حضور پہونچ گئیں۔ کیسی تباہی کا منظر ہمارے سامنے ہے۔آئیے غور کریں کہ کل اپنے رب کے حضور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان نعمتوں کا حساب ہی نہ چکا سکیں۔تو آج ہی ہوش کے ناخن لیں سبق حاصل کریں۔زندگی اسی کی دی ہوئی ہے اسی کی راہ میں لگادیں۔نعمتوں کی قدر کریں۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ہر لمحہ شکر ادا کریں۔یہ لوگوں کے کام آنے کا وقت ہے۔ خدمت خلق کے جذبے کو ابھارنے کا وقت ہے۔ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا وقت ہے۔ ہم یہ عہد کریں کہ مضبوط اور مستحکم ہوکر اس وبائی دور میں اپنے فرائض انجام دیں گے اور ہر حال میں اس کا شکر بجا لائیں گے۔
کسی کے رحم و کرم پر جیوگے کتنے دن
اب اپنی قوت عزم و عمل بھی پہچانو!!

ابھی کل تک جس پر ہماری توجہ بھی نہ جاتی تھی کہ ہر وقت ہر لمحہ ہمارے پھیپھڑے اپنے اندر آکسیجن جذب کرکے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو باہر نکال رہے تھے۔ہمارے اندر کا یہ زبردست وینٹیلیٹر سسٹم جس کو ہم محسوس بھی نہیں کرپارہے تھے اور نہ ہی اس کی کی کوئی قدر کرسکے آج وہی آکسیجن زندگی کے لئے اتنی اہم اور کارآمد ثابت ہورہی ہے کہ اتنی مہنگی قیمت چکا کر بھی اسے حاصل نہیں کرسکتے ہیں
جون ۲۰۲۱