ایک نظر ادھربھی
انسانی دل، اس کی اپنی بند مٹھی کی جسامت لیے ہوئے ہے، لیکن اس بند مٹھی برابر دل میں پوری کائنات سمائی ہوئی ہوتی ہے ۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری کائنات میں وہ سب کچھ مہیا فرمایا ہے، جو ہمارے لیے کافی ہے، لیکن ایک فرد کی طمع وحرص کے لیے ناکافی ! اسی حرص کی وجہ سے آدمی بس لینے والا بن کر رہ جاتا ہے اور اپنی ذات کے خول میں سمٹ کر رہ جاتا ہے ۔ گویا کہ ہمارا دل ایک مقناطیس ہے اور ہم چاہتے ہیں دنیا کی ہر چیز ہماری طرف کھنچتی چلی آئے اور سب کچھ ہمارا ہوجائے۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی حرص کی وجہ سے امیر، امیر تر اور غریب مزید بدحال ہوتے جا رہے ہیں۔ امیر اپنی بے پایاں دولت میں سے غرباء کے لیے کچھ فلاحی کام کرتے بھی ہیں تو آٹے میں نمک کے برابر اور وہ بھی نام ونمود کی خاطر۔ فلاحی کاموں کی تشہیر سے یوںمحسوس ہوتا ہے کہ مقصد، محروم افراد کی مدد نہیں، بلکہ دینے والوں کی اپنی خودنمائی مقصود ہے ۔ جب کہ ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ایک ہاتھ سے دیں تو دوسرا ہاتھ اس سے بے خبر رہے ۔ کاش ہم حریص انسان اپنے رب کی اس صفت پر غور کریں کہ وہ صرف ہمیں دینے پر آمادہ ہے اور ہم ……. !
نکتہ :اپنی دلی خواہشات کے الجھاوے میں الجھ کر رہ جانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اطراف بسنے والوں کی ضروریات پر نظر رکھیں ۔

1 Comment

  1. اسماء نکہت

    بہترین اور قابل توجہ موضوع ہے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر