اے میری ماں ، تو کہاں ہے ؟
اے میری ماں!
تو کہاں ہے ؟
تیری بیٹی ڈھونڈتی ہے تجھ کو لیکن…..!
تو کہاں ہے؟
فکرِ نو ہے یاقیامت؟
یہ ترا سارا تقدس لے گئی
اک سرابِ چشم تجھ کو دے گئی
میری دنیا !
تیرے بن سونی یہ کتنی ہوگئی!
ڈھونڈتی ہوں جب تجھے میں
سامنے آتی ہے، میرے اک سہیلی تیری ممتا
بن گئی ہے میرے آگے اک پہیلی
اک سہیلی، ڈھونڈنے بیٹھوںاگر میں
مجھ کو مل جائیں ہزاروںہر ڈگر
ایک ماں، لیکن کہاں سے لاؤں میں؟
ڈھونڈنے تجھ کوکدھر اب جاؤں میں؟
مجھ کوتیری ممتا کی ہے ضرورت
تیری خدمت کو
سمجھتی ہوں عبادت
اشک آنکھوں سے مری
اب بھی رواں ہیں
اے مری ماں !
یہ بتادےتو کہاں ہے ؟
اے مری ماں!
یہ بتادے! تو کہاں ہے ؟

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر