برسات، سیلاب،
بہار اور عوام کی حالت زار

شمالی بہار کی گودی میں تین درجن ندیاں کھیلتی ہیں۔بہار کا یہی علاقہ ہر سال بڑے پیمانے پر سیلاب سے متاثر ہوتا ہے۔ بہار کا 73فیصد علاقہ سیلاب کے خطرے میں ہے۔گزشتہ سال سیلاب میں آٹھ ضلعوں کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔گاؤں کے گاؤں پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔

آزادی سے قبل ہی ہندوستان کے میدانی علاقے خصوصاً شمال مشرقی علاقے انسانی بستیوں کے ندیوں کے علاقے میں بس جانے یا پھر (آپ کہیں تو) ندیوں کا پانی  انسانی بستیوں میں داخل ہونے کی صورت میں نمودار ہونے والی سیلاب نامی آفت سے جھوجھ رہے ہیں۔بہار ،مغربی بنگال اورآسام سیلاب سے ہر سال سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہیں۔ سیلاب آنے کی قدرتی وجوہات تو ہیں ہی، پیڑوں کی اندھا دھند کٹائی، ندی کنارے جا بسے حضرت انسان جانےانجانے میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔سیلاب ایک مصیبت کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے پیچھے ان گنت پریشانیاں چھوڑ کر جاتا ہے۔فصلیں برباد ہو جاتی ہیں،بنیادی ڈھانچہ روڈ، ریل، پل وغیرہ تباہ ہو جاتا ہے،لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، پانی اتر جانے کے بعد سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد پانی سے پیدا شدہ بیماری کولیرا،ہیپٹٹس وغیرہ کا شکار ہو جاتی ہے۔جانور بھی متاثر ہوتے ہیں۔گزشتہ سال دریائے برہم پتر میں آنے والی باڑھ کے سبب آسام میں واقع Kaziranga National Park میں مرنے والے جانوروں کی تعداد پچھلے دوتین سالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تھی۔
دنیا میں سیلاب متاثرین کی تعداد تقریباً 21ملین ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب یہی تعداد 54ملین تک پہنچ سکتی ہے۔نیشنل فلڈ کمیشن کے مطابق ہندوستان کی کل زمین کا 40فیصد علاقہ سیلاب کے دہانے پر رہتا ہے۔سیلاب اپنے پیچھے منفی سماجی ،معاشی اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ سیلاب سے متاثر ممالک میں سر فہرست نام ہندوستان کاہے، دوسرے نمبر پر چائنا ہے۔ 2019میں حکومت ہند نے راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ ملکی معیشت کو 2018کے سیلاب کے سبب 95736کروڑ روپے کا نقصان برداشت کیا۔یہ خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے ڈھائی گنا زیادہ تھا۔ سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، ہر سال حکومت کی لاپرواہی،بدعنوانی،بد عملی کو ہی ظاہر کرتی ہے۔حکومتیں پشتے(Dam) بنا کر سیلاب روکنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔دراصل پشتے تعمیر کرنے کے پیشِ نظر تین مقاصد رہتے ہیں۔
۱۔آبی ذخائر کی ذخیرہ اندوزی
۲۔ذخیرہ اندوز پانی سے بجلی کی پیداوار
۳۔سیلاب کی روک تھام
حالانکہ حالات اور اعدادوشمار پشتے تعمیر ہونے کے بعد سیلاب کی شدت بڑھ جانے کی چغلی کھاتے ہیں۔ پہلے ندیوں کا پانی سمندر میں جا گرتا تھا،مگر اب بجلی کی پیداوار کے لئے ندیوں پر بنے ڈیم میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے۔پشتوں میں ایک خاص مقدار میں پانی کا ذخیرہ ہو جانے پر وقفہ وقفہ سے ڈیم کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ مگر برسات کے موسم میں ندیوں میں پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے،بارش سے پہلے پشتو ں میں پانی کی مقدار کو کم نہیں کیا جاتا، آبی ذخیرہ اندوزی زیادہ ہونے کے سبب پشتو ں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ،اکثر پشتوں سے پانی کا رساؤ خود بخود ہونے لگتا ہے، یہ پانی آس پاس کے علاقوں میں تباہی مچاتا ہے جسکو ہم باڑ ھ یا سیلاب کہتے ہیں۔ پشتوں کی تعمیر کے سبب ندیوں کا Natural Course سکڑ جاتا ہے، برسات میں پانی کی سطح بڑھ جانے کے سبب یہی پانی گاؤں میں داخل ہوتا ہے ،پشتے اس کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔انسانی جانوں کا اتلاف ہوتا ہے، جنگلی حیات متاثر ہوتی ہے۔ دور کیوں جائیں ، حالیہ یاس طوفان میں ڈیم منہدم ہونے کے سبب گاؤں کے گاؤں بہہ گئے۔ذیل میں موجود گراف پشتے تعمیر ہونے کے بعد سیلاب کی شدت کو بتا تا ہے۔ ہر سال ہم پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کے نام پرہزاروں جانوں کا اتلاف اور ماحولیات کا نقصان برداشت کر رہے ہیں حالانکہ Solar Energy,Tidal Energyسے ہم یہی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ بر سبیلِ تذکرہ پشتوں کے نقصانات کو سہنے والے متاثرین کے لئے دن میں دو سے تین گھنٹے بجلی کی فراہمی بھی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔متبادلات بہت ہیں، اگر اس جانب سنجیدگی سے غور و فکر کیا جائے،مگر حکومتیں تو متاثرین کی باز آبادکاری کی جانب ہی توجہ نہیں دیتیں، جواب دہی صفر ہے۔

شاید ہی ہمارے ارباب و اقتدار نیدرلینڈ کے Project Rever Room سے کچھ سیکھیں۔ یہ ایک طویل مدتی پروجیکٹ ہےبنیادی مقصد ندی کو بہنے کے لئے زیادہ جگہ دینا ہے۔ نیدرلینڈ نے سیلاب کنٹرول کرنے کے لئے مقامی طور پر آزاد حکومتیں قائم کی ہیں۔تین جانب سے River Deltaسے گھرا یہ ملک سیلاب میں بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصان برداشت کرنے کے بعد اس مصیبت سے نجات حاصل کر چکا ہے۔ پیڑوں کی اندھا دھند کٹائی بھی سیلاب کی شدت میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے ۔ شمالی بہار کی گودی میں تین درجن ندیاں کھیلتی ہیں۔بہار کا یہی علاقہ ہر سال بڑے پیمانے پر سیلاب سے متاثر ہوتا ہے۔ بہار کا 73فیصد علاقہ سیلاب کے خطرے میں ہے۔گزشتہ سال سیلاب میں آٹھ ضلعوں کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔گاؤں کے گاؤں پانی میں ڈوب جاتے ہیں، پانی اپنے ساتھ لوگوں کے مویشیوں کو بھی ساتھ بہا لے جاتا ہے،ملک کے پسماندہ ترین صوبہ بہار کے شمالی حصے کو ہر سال سیلاب مزید پسماندگی کی جانب دھکیل رہا ہے۔فصلیں خراب ہو جاتی ہیں،پہلے ہی انتہائی کم قیمت پر اپنی فصل بیچنے والے کسان کے لئے مرے پہ سو درّے کے مترادف ہے۔اس علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں کام کی تلاش میں بہار سے باہر ہجرت کر چکے ہیں۔ہر سال سیلاب کی نذر ہو جانے والی زمین سے مٹی گارا صاف کرکے فصل اگانے والے یہ کسان ٹیکس محکمہ کی زیادتیوں کا بھی شکار ہیں۔پشتوں کے درمیان بسے گاؤں انتہائی متاثر ہوتے ہیں۔ تعلیم،صحت،سڑک،پینے کا صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ ٹرانسپورٹ سسٹم تو ایک خواب ہے۔عام دنوں میں یہی لوگ آس پاس کے گاؤں، ضلع ہیڈکوارٹر جانے کے لئے کشتی کا سہارا لیتے ہیں جس میں ان کا پورا دن نکل جاتا ہے۔پشتی علاقوں کے درمیان بسے گاؤں شدید متاثر ہوتے ہیں۔ دہائیوں سے مشقتوں کو جھیل رہے لوگوں کی ناراضگی عروج پر ہے۔
2019لوک سبھا انتخابات کا پشتی علاقوں کے چند گاؤں نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد درج فہرست ذات، قبائل، دوسرےپچھڑے طبقے کے لوگوں پرمشتمل ہے۔اندازہ لگایا جا سکتا ہے خواتین کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارتی ہوں گی۔ دیہی باشندے ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں،حکومتیں جھوٹی یقین دہانی کرواتی ہیں کہ’’ نقصان پہنچنے کی صورت میں تلافی کی جائے گی ‘‘،لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ پشتوں کی تعمیر انجام تک پہنچا دیتی ہیں۔حالانکہ زلزلے کی صورت میں پشتے خطرناک حد تک نقصان پہنچاتے ہیں۔اب مانسون دستک دے رہا ہے ،سیلاب تباہی مچائے گا،متاثرین گزشتہ سال کے نقصان کی تلافی نہ ہونے کی شکایت کریں گے۔ تین چاردن بعد ہم بھول جائیں گےکہ کبھی کچھ ہوا بھی تھا ،ہم ماحولیات کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔شایدتب تک،جب آفات ہمارا دروازہ توڑ چکی ہوں گی۔

جولائی ۲۰۲۱