بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت پر کووڈ 19 اور
لاک ڈاؤن کے اثرا ت

کووڈ 19 اور لاک ڈاون نے جہاں نظامِ زندگی کومعطل کیا نظام معیشت کو متاثر کیا وہیں گھروں میں طویل وقت سے محصور افراد کے نفسیاتی مسائل اور ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے قلیل وقتی اور طویل المعیاد اثرات بھی بین الاقوامی سطح پر مختلف ہونے والی تحقیقات میں نوٹ کیے گئے ہیں۔ یوں تو وبا کے سبب متاثر ہونے اور وبا کے خوف میں اپنے گھروں میں مقید ہونے کی وجہ سے بچوں کے طبعی ارتقاء، تعلیمی معیار،اور موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ معاشی حالت بھی متاثر ہوئی ہے تاہم ذہنی صحت پڑنے والے اثرات کو یہاں بیان کیا جائے گا۔

مقاصد :

اس تحقیقی مقالے کا مقصد کووڈ 19 اور دوران لاک ڈاون بچوں اور بڑوں پر ہونے والے نفسیاتی اثر اور ذہنی صحت کا مطالعہ کرنا ھندوستان کے تناظر میں بچوں اور بڑوں کی ذہنی صحت پر پڑے ان اثرات کو دور کرنے کے لیے رہنمائی کرنا ہے۔

طریقۂ کار :

مختلف بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تحقیقات کا مطالعہ بذریعہ ڈیجیٹل ڈیوائس اور عام مشاہدہ سوالات پر مبنی ایک سروے جس میں دیگر سماجی ذمہ داران اساتذہ اور سرپرستان سے اور چائلڈ سینٹر ڈاکٹرز سے ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے۔ اساتذہ سے سوالات کے ذریعہ نوعمر بچوں کی تعلیمی حالت پینڈمک سے پہلے اور پینڈمک کے بعد تقابل اور طریقۂ کار۔

تحقیقی مقالے کا مرکز :

کووڈ 19 ، لاک ڈاون، ذہنی صحت، بچے اور نوجوان

تعارف :

تقریبا 2.2 بیلین بچے عالمی سطح پر تقریبا دنیا کی کل آبادی کا 28 فیصد جن کی عمر 10 سال سے 19 سال کے درمیان ہے بہ سبب کووڈ 19 کے نظامِ زندگی معطل ہونے پر متاثر ہیں۔جنوری 2020 سے ہی ساری دنیا میں کووڈ 19 کے سبب لاک ڈاون میں نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی محصور ہوکر رہ گئے ہیں حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اسکول بند کردئیے گئے، سماجی دوریاں بنانے کی ھدایات جاری کی گئیں ، گھر آنے والے ملاقاتیوں کا سلسلہ منقطع ہوگیا، تعلیمی ادارے، ٹیوشن کلاسیس، سماجی تقریبات مکمل طریقے سے بند ہوگئیں۔کم کشادہ گھروں میں بچوں میں تعلیم کے تئیں غیر سنجیدگی، ڈیجیٹل ڈیوائس کا بے جا استعمال ، بچوں اور بڑوں میں اضطراب Anxiety , دباؤ stress اور بے بسی helplessness عام مشاہدے کے بطور سامنے آیا۔
اس صورتحال سے بڑوں سے زیادہ بچوں میں نفسیاتی ذہنی صحت کے متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں یہ اثرات وقتی نہیں بلکہ طویل مدت تک باقی رہیں گے ۔گھروں میں اسکول جانے والے بچے، یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلباء کے ساتھ ساتھ، استثنی بچہ چاہے وہ گفٹیڈ چائیلڈ ہو یا معذور بچہ ہو یا سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے ہوں تمام بچوں میں لاک ڈاون کے دوران ذہنی صحت سے متعلق مسائل کو نوٹ کیا گیا ہے۔
چھوٹے بچوں پر لاک ڈاون کے اثرات :
چھوٹے بچے کے ہمہ جہت ارتقاء کے لیے آؤٹ ڈور گیمس، اور سماجی ارتقاء کے لیے اسکول میں ہم جماعت ساتھی، اور رشتہ دار کی ملاقات، اور روحانی ارتقاء کے لیے والد کے ساتھ مسجد میں جانے کا معمول اور دیگر مصرفیات جو بچوں کے لیے لازم تھیں دوران لاک ڈاون معطل رہیں۔
اور مستقل 13 ماہ سے گھروں میں مقید بچوں میں والدین سے جارحانہ رویہ، موبائل پر گھنٹوں گیم کھیلنا، بچوں کے آپسی جھگڑے، چیزوں کی بے ترتیبی، تعلیم کے تئیں لاپروائی، چیزوں کی توڑ پھوڑ، غصہ اور مایوس بیٹھنا، آن لائن کلاس میں غیر سنجیدہ رویے کی شکایت والدین اور اساتذہ نے کی ہے اسی طرح والدین نے اپنے سوالنامے میں یہ بھی لکھا کہ بعض بچوں میں کرونا وبا کا خوف اتنا زیادہ ہے کہ وہ باربار ہاتھ دھونے کے عادی ہوگئے ہیں اور ضرورت سے زیادہ مرتبہ دھونے لگے ہیں ۔
بعض والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ بچے اس وبا سے بے خوف ہیں اور وہ اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے ملنا چاہتے ہیں ۔
تعلیم سے متعلق سوال پر والدین کا کہنا ہے کہ بچوں میں لاپروائی حد سے زیادہ بڑھی ہے۔

نوعمر بچوں پر وبا کے اثرات :

کالج اور اسکول کے طلباء میں جو چیز سب زیادہ متاثر ہے وہ تعلیم ہے تاہم اس عمر کے طلباء کو اپنے مستقبل کی فکر بھی لاحق ہوتی ہے اس لیے ان کا اسٹریس stress level دیگر کے مقابل زیادہ بڑھا ہے۔منفی اثرات کا ریشو ایک نیشنل ریسرچ میں جنہیں سویتا سنگھ، ڈیلینا رائے ، شیبا پروین،گھینی شرما ، گنجن جوشی نے کیا ہے ان کی ملی جلی اسٹڈی کے مطابق اسکول اور کالج کے طلبہ میں تعلیمی نقصان کے خوف نے ان کی ذہنی صحت کو زیادہ متاثر کیا ہے 91 فی صد طلباء پر اسی بات کا دباؤ ہے، ان میں غیر یقینی کیفیت، بڑھی ہے اضطراب میں اضافہ ہوا ہے عموماً اس دور کو یعنی عنفوان شباب کو دباؤ کا دور تسلیم کیا جاتا ہے تاہم ذہنی دباؤ سے نکلنے کے لیے سماجی تعلقات ، تعلیمی سرگرمی اور فزیکل آوٹ ڈور گیمز نہایت ضروری ہیں لیکن موجودہ صورتحال نے اسے مشکل بنادیا ہے گھروں میں بچوں کے رویہ میں واضح تبدیلی یہ آئی ہے کہ وہ بات بے بات جھنجھلاہٹ کا شکار ہورہے ہیں، تنہا ہوکر سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔گیم زون میں کئی گھنٹے گزارنے پر بھی انہیں جسمانی طور پر کمزور ہونے کا احساس نہیں ہوتا، زندگی کے تئیں قنوطیت ان میں در آئی ہے ۔ان کی شخصیت پر منفی اثرات طویل رہیں گے بعض والدین اور اساتذہ نے اس بات کا اشکال بھی ظاہر کیا ہے کہ نارمل اسکول میں پوسٹ کووڈ میں بچوں کو لانے میں وقت لگے گا۔
سویتا سنگھ، ڈیلینا رائے، شیبا پروین، گھینی شرما گنجن جوشی نے اپنی کمبائن ریسرچ اسٹڈی میں کہا ہے کہ کووڈ پینڈمک کے دوران یونیسف 2020 کی رپورٹ کے مطابق یہ بھی پتہ چلا ہے کہ طلباء نے سوشل میڈیا کو بہت زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ سائیبر بولینگ اور قابل اعتراض مواد کو انٹرنیٹ پر اس دوران زیادہ سرچ کیا ہے یہ چیز، طلباء کے اسٹریس کو کم کرنے کی بجائے بڑھائے گی اسی لیے سوشل میڈیا پر نگیٹیو ٹرول، گالیاں دینا ، چیٹ روم وگلریٹی اور جنسی گفتگو ہراساں کرنے والے کمنٹ اور موفیڈ ویڈیوز کا ریشو بڑھے گا۔
اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نجانے کیا ہوگا جب اس اسٹریس کے ساتھ طلباء اس وبا کے بعد ریگولر کالج جوائن کریں گے۔
معذور بچوں پر پینڈمک کے اثرات:کووڈ 19 کے دور میں جہاں ہر فرد متاثر ہوا ہے وہیں معذور اور توجہ طلب بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دوسال سے آٹھ سال کی عمر کے بچے جو developmental اور behavioural, emotional difficulties کا شکار ہوتے ہیں انہیں والدین کی خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان میں مندرجہ ذیل مسائل کا شکار بچے شامل ہیں جیسے آٹزم Autism کا شکار بچے توجہ طلب بچے Attention deficit
ہائپر ایکٹویٹی ڈس آرڈر hyperactivity disorder
Cerebral palsy, learning disabilities, developmental delays, Down syndrome اور Marfan syndromeاور اسی طرح دیگر معذور بچوں پر والدین کو نہ صرف یہ کہ توجہ دینی ہوتی ہے بلکہ انہیں ماہر ڈاکٹر سے وقت کے ساتھ مسلسل مخصوص عمر تک سیشنز لینے ہوتے ہیں ۔تھراپی بھی لازم ہوتی ہے۔

کیس اسٹڈی :

آکولہ کے چائلڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے ایک چائلڈ فزیو تھراپی ڈاکٹر نے پوچھے جانے والے سوالات پر کہا کہ تھراپی لینے والے بچے لاک ڈاون کے دوران متاثر ہوئے۔ ایک پیشنٹ جو ڈاون سینڈروم کا شکار تھا اس مرض میں مریض کا ویٹ بہت تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے جس کے سیشن میں فزیکل ایکسر سائز میں تسلسل قائم رکھنا لازمی ہوتا ہے لیکن لاک ڈاون کے دوران دوسال کا بچہ 17 کے جی ویٹ سے 40 کے جی پر چلا گیا اور بہت تکلیف میں رہا ہے ۔اسی طرح اس ڈاکٹر نے بتایا کہ Marfan syndrome کے شکار بچے کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا ہے والدین کو کافی محنت کرنی پڑ رہی ہے کووڈ کی وجہ سے سبھی چائلڈ تھراپی سینٹر بند تھے لیکن اس کے دس ماہ کے اثرات کی وجہ سے ہم نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ اب اسے جاری رکھا۔
اسی طرح ہائپر ایکٹیو بچوں کے والدین کے لیے چھوٹے گھروں میں دیگر صحت مند بچوں کے ساتھ طویل وقت گزارنا اسکول بند ہونے کی وجہ سے یہ مرحلہ دشوار کن رہا ہے جس نے والدین کو بھی جھنجھلاہٹ اور تناؤ کا شکار بنادیا ہے۔
ممبئی جیسے شہر میں ٹو بی ایچ کے مکانات میں یکسانیت بھرے دن گزارنا تکلیف دہ تجربہ رہا ہے ۔اسی صورتحال میں ہائپر ایکٹیو بچے کے ساتھ وقت گزاری بھی سخت تکلیف دہ مرحلہ ہے جس بچے کو انفرادی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے یہ وقت والدین کو اسکول جانے والے بچوں کے اسکول جانے کے بعد ہی مل سکتا ہے۔

محروم طبقات کے بچوں پر کووڈ لاک ڈاون کے اثرات :

محروم طبقات کی حالت ھندوستان میں ہم بہتر جانتے ہیں جن کا تعلق بڑی تعداد میں دیہی زندگی سے ہے گورنمنٹ اسکول ہی ان کی تعلیم کا واحد ذریعہ ہے جو اس دوران بند رہے ہیں۔ ڈیجیٹل محرومی ایسے طبقات کا بڑا مسئلہ ہے جس نے ان بچوں کی تعلیم کو حد درجے متاثر کیا ہے اور محرومی اور بے بسی نے بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کیا ان میں تعلیم کے تئیں لاپروائی ، حساسیت،اور معاشی پریشانی نے ذہنی دباؤ، الجھن کو فروغ دیا ہے۔بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرنے والے اس دور میں۔والدین، سرپرستوں، ڈاکٹرز، سوشل ورکرز کی ذمہ داری کو ہم علاحدہ علاحدہ اس اسٹڈی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

کورنٹائن والدین کے بچوں کی ذہنی صحت پر اثرات :

عالمی وبا کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے والدین کے گھروں میں بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرنے پر بھی دیگر ہونے والی ریسرچ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ’’ کورنٹائن والدین اور بچوں کے درمیان علاحدگی نے بچوں میں ناامیدی، مایوسی، ذہنی دباؤ، اور قنوطیت کو فروغ دیا ہے والدین کی اس دوری نے بچے میں کسی کام کے لیے مشغول رہنے کی کیفیت کو متاثر کیا ہر لمحہ کچھ ہونے کے خوف نے انہیں اضطراب کا شکار بنادیا ہے۔چھوٹے بچے بھی اچانک والدین کے منقطع تعلق کی وجہ سے اپ سیٹ ہوئے ہیں اس دوران ہونے والے نفسیاتی اثرات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ‘‘
اس سلسلے میں بین الااقوامی سطح پر ہونے والی تحقیقات کے بعد انتظامیہ ، والدین، سرپرستوں، ڈاکٹرز، سوشل ورکرز کی ذمہ داری کو ہم اس اسٹڈی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

والدین کا کردار بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق دورانِ لاک ڈاون :

والدین اپنے بچوں کے ساتھ گھروں میں انفرادی طور پر شامل ہوکر ان کے ساتھ کھیل کا ماحول بنائیں۔تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے مختلف ٹاسک اور سرگرمیاں ان سے کروائیں تخلیقی کام بچوں کے دباؤ کو بڑی حد تک کم کرنے میں معاون ہیں۔اسی طرح گھر کے کام میں بچوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔
ہوم اسکولنگ کے Khan Academy اور دیگر ایجوکیشنل سائیٹس اور ایپ سے مدد لی جاسکتی ہے۔بچوں کے اساتذہ اور اسکول ہم جماعت ساتھیوں سے ہفتہ میں ایک مرتبہ گپ شپ کرنے کا ماحول دیں تاکہ وہ ان دوریوں کے اثرات کو کم کر سکیں۔ یاد رہے ارتقائی دور میں بچوں کے لیے ہم جماعت دوستوں کا گروپ ان کی بنیادی ضرورت بن جاتی ہے ورنہ بچہ سوشل ڈس آرڈر کا شکار بن سکتا ہے۔بہن بھائی کے درمیان صحت مند تال میل بنانے کے لیے بچوں کے درمیان مسابقت رکھنا، مذہبی سرگرمیوں سے انہیں جوڑ کر روحانیت پیدا کرنا بھی ایک بہتر عمل ہوگا اور یہ ساری سرگرمیاں تنہائی میں ڈیجیٹل ڈوائس کے ذریعہ فحش، ویڈیوز دیکھنے بچاؤ کا ذریعہ بھی بنیں گی۔

اساتذہ اور کاؤنسلرز کا کردار:

ایسے دور میں جب زیادہ تر اسکولز اور کالجز آن لائن کلاسز چلا رہے ہیں اور اساتذہ بچوں کے ساتھ رابطے میں ہیں چونکہ ان کا کردار ایک راہنما کا سا ہے تو کووڈ اور لاک ڈاؤن کے دوران وہ بطور رہنمائی مندرجہ ذیل خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
1) اساتذہ بین الاقوامی آرگانائزیشن کی گائیڈ لائن کا استعمال کرتے ہوئے بچوں کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انہیں کووڈ اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے متعلق ہدایت اور رہنمائی دے سکتے ہیں۔اس وبائی دور میں طلباء کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے اس تعلق سے بچوں کو سمجھا سکتے ہیں اور خود اپنے عملی رویوں سے بھی احتیاطی اقدامات سکھا سکتے ہیں۔
2) اساتذہ یا کونسلرز کچھ مخصوص آن لائن سیشنز لے سکتے ہیں جیسے کوئز ، پزل puzzle ، دیگر مقابلہ جاتی پروگرام یا بچوں کو تخلیقی ہوم اسائنمنٹ دے کر طلباء کو ایک صحت مند ایکٹیویٹی میں مشغول کر سکتے ہیں۔ اس سے طلباء کو روزمرہ کی روٹین سے بھی کچھ الگ ہٹ کر کرنے کو ملے گا۔ اس مقصد کے لیے معیاری تعلیمی مواد استعمال کیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر UNESCO نے کئی آن لائن ایجوکیشنل سورسز آفر کئے ہیں۔
(UNESCO 2020)3) ٹیچرز طلباء کے درمیان مینٹل ہیلتھ کے ایشو کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وہ اس پر گفتگو بھی کر سکتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے لیے کتنا اہم ہے اس سلسلے میں بچوں کو ورزش بھی کروائی جا سکتی ہے جیسے گہری سانس لینا ، اپنے اعصاب کو پرسکون رکھنا، خود کے ساتھ مثبت گفتگو کرنا وغیرہ ، مذکورہ مقصد کے لیے ورکشاپ بھی لیے جا سکتے ہیں جس میں لائف اسکلز سکھانے کے لیے مزید عملی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
4) اساتذہ طلبہ کو وہ مثبت طرز عمل سکھا سکتے ہیں جو معاشرے کے لیے مفید ہو۔ صبر و تحمل، ہمدردی اور دوسروں کے تئیں احساس رکھنا ، یہ وہ prosocial behaviour ہے جو اسٹوڈنٹس پر یہ واضح کرنے میں ان کا مددگار ہوگا کہ ان کا رول سماج میں کیا ہو اور یہ کہ سماجی فاصلہ ، جذباتی فاصلے کے مترادف نہیں ہے۔
5) ٹیچرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ والدین کے ساتھ رابطے میں رہیں بچوں کی ذہنی صحت کے متعلق ان سے گفتگو کریں۔ والدین سے تاثرات لیں۔طلباء کے متعلق جانیں۔اگر ڈیجیٹل ڈیوائڈ کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ والدین کو کال کرکے بھی ان سے رابطے میں رہ کر ان سے بات چیت کرسکتے ہیں۔
6) اساتذہ اور کاؤنسلرز طلباء کو ایک رہنما کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات دے سکتے ہیں۔والدین اور بچوں کے درمیان اساتذہ ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں اگر وہ بچے کے اندر کوئی مسئلہ دیکھتے ہیں یا کوئی غیر معمولی بات محسوس کرتے ہیں تو والدین کو مطلع کرکے مینٹل ہیلتھ اسپیشلسٹ کے پاس لے جانے کا بھی مشورہ دے سکتے ہیں۔اور کسی اسپیشلسٹ کو ریفر بھی کرسکتے ہیں۔
7) ٹیچرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسکول انتظامیہ کے سپورٹ اور تعاون کے ساتھ اس بات کا انتظام کریں اور اس چیز کو یقینی بنائیں کہ جن بچوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے وہ بھی اکیڈمک اور لائف اسکلز سے متعلق مطالعہ کے لئے مواد سے مستفیض ہوسکیں۔اگر مکن ہو تو سب سے پہلے انٹرنیٹ کی سہولت ان کے لیے فراہم کی جائے۔

مینٹل ہیلتھ کئیر سینٹرز:

بچوں میں والدین کوئی رویہ کی تبدیلی محسوس کریں تو مینٹل ہیلتھ کئیر سینٹر سے فوراً سے پیشتر رجوع کریں تاکہ اس کے اثرات پختہ ہوکر مزید مسائل نہ بڑھاسکیں۔
اختتامیہ
یاد رہے یہ ایک مشکل وقت ہے اور اس دوران بچوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ اور توجہ زیادہ دینا ہی مسئلے کا حل ہے نہ کہ گھنٹوں بچوں کو ڈیوائس کے حوالے کرکے مطمئن ہونے کا وقت۔بچوں کو بہت سارا پیار دیں انہیں اسپیشل محسوس کرائیں بھرپور توجہ دیں ان کا جذباتی سپورٹ بنیںاور انہیں احساس دلائیں کہ آپ ہمہ وقت ان کے ساتھ ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱