بچوں اور والدین کے درمیان بڑھتی خلیج

بچے بچے ہوتے ہیں۔ان کے اندر بچپن موجود ہوتا ہے۔بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں، ان کی سوچ بھی بڑی ہوتی جاتی ہے والدین کے لئے ان کی اولاد وہی چھوٹی سی ہوتی ہے ہر بات کے لئے ان کی محتاج ،وہ اسی نظریہ سے اپنے بچے کو دیکھتے ہیں۔بڑھتی عمر کے تقاضے، ان کی بدلتی سوچ، خیالات کی اکثر والدین پروا نہیں کرتے۔ بچے جب والدین کو اپنا ہمنوا نہیں پاتے تو ان کی روک ٹوک کو برا سمجھتے ہیں۔یہیں سے شروعات ہوتی ہے والدین اور بچوں کے درمیان دوریوں کی، جسے خلیج بھی کہہ سکتے ہیں۔

یہ پڑاؤ بہت خطرناک ہوتا ہے اگر والدین بچوں کے دوست نہیں بنتے تو بچے توجہ حاصل کرنے کے لئے ادھر ادھر جاتے ہیں۔غلط لوگوں سے دوستیاں کرتے ہیں یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ برے لوگ تاک میں رہتے ہیں ایسے بچوں کو اچک لینے کے۔ وہ ان سے جھوٹی ہمدردی جتا کر والدین سے بد ظن بھی کردیتے ہیں۔اور غلط راہ پر لگا دیتے ہیں بری عادتیں بھی اسی دور میں لگتی ہیں۔گرل فرینڈ بوائے فرینڈ جیسی دوستیاں بھی اسی دور میں ہوتی ہیں۔موبائل کے حد سے زیادہ استعمال نے اور انٹرنیٹ وغیرہ نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں پڑھائی کے نام پر والدین بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینے پر مجبور ہوگئےہیں۔اس سے پڑھائی تو کیا ہوئی؟البتہ جو ہورہا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔میں چونکہ سینئر ونگز کی استاد ہوں تو ایسے بہت سارے کیسز میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔ والدین کی یہی شکایت رہتی ہے کہ ہم اپنے بچے یا بچی کو ہر ممکن سہولیات دیتے ہیں۔بچہ ہماری بات نہیں مانتا۔میرا ان سے سوال یہی ہوتا ہے کہ آپ نے ایسی نوبت آنے ہی کیوں دی ماشاءاللہ اب تو سارے والدین پڑھے لکھے ہیں صحیح اور غلط جانتے ہیں۔
بہرحال یہ بچے ہماری قوم کے معمار ہیں۔اقبال کے شاہینوں کو اس طرح تو نہیں چھوڑا جاسکتا نا۔ایسے بچوں کا دل ہاتھ میں لینا ہوگااور ان کی کاونسلنگ کرنی ہوگی۔ صحیح اور غلط کی وضاحت انہی کے انداز میں سمجھانا اگرچہ صبر آزما کام ہے مگر کرنا ہے۔اور سب سے بڑھ کر اسلامی واقعات، انبیاء کی زندگی صحابہ اکرام کے بارے میں بتاکر ان کو نمونہ بنانے کے لئے کہا جائے۔ایسے بچے ہمارے اطراف ہی ہوں گے۔ ہم اگر یہ سوچیں کہ ہمارے پاس کوئی آئے گا تو ہم یہ کام کریں گے ایسا نہیں ہوگا ہمیں یہ خلیج پہلے پاٹنی ہے ہمیں ان سے قریب ہونا ہوگا کچھ دن ان کے ساتھ چلنا ہوگا پہلے ان کی ماننی ہے پھر اپنی منوانا آسان ہوتا ہے یقین کیجیے بچے بڑے پیارے ہوتے ہیں بات مان لیتے ہیں بس منوانے کا ہنر پیدا کیجئے ۔
بچوں کے دوست بنئے بڑھتی عمر کے بچوں میں جسمانی بدلاؤ کے ساتھ ذہنی بدلاؤ بھی آتا ہے مزاج میں سختی،چڑچڑاپن بھی ہوتا ہے، غصہ بھی ہوگا سب برداشت کیجئے۔ یہ ہمارے بچے ہیں انہیں غلط ہاتھوں میں جانے نہیں دیجئے ان کے دوست بن جائیے والدین ہیں تب بھی، استاد ہیں تب بھی۔
بچوں کے درمیان خلیج کو پر کرنے کے لئے
بچوں اور والدین کے درمیان خلیج پر کرنے کے لیے مختلف اقدامات بھی کئے جاسکتے ہیں۔
جیسے ابتدائی دور سے ہی بچوں کے دوستوں پر نظر رکھی جائے وقتاً فوقتاً بچوں کے ساتھ ان کے دوستوں کی بھی اصلاح کی جائے۔کچھ تفریحی پروگرام منعقد کرکے بچوں کے ساتھ مختلف کھیل وغیرہ کھیلے جائیں جس سے بچے والدین کے ساتھ مزید قریب ہوسکتے ہیں۔ہر وقت ڈانٹ پھٹکار کا رویہ بھی دوریاں پیدا کردیتا ہے۔
ایک پروگرام میں بہت مشہور شخصیت نے یہ واقعہ سنایا تھا کہ ان کا بیٹا کسی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور ہاسٹل میں رہتا تھا اسے چیک کرنے کے لئے وہ بیٹے کی غیر موجودگی میں ہاسٹل گئے اور وارڈن سے اجازت لے کر بیٹےکے روم میں گئے، ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کمرے میں گئے سامنے ہی جلی حروف میں لکھا تھا ’’اللہ سب دیکھ رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ وہ وہیں سے روتے ہوئے واپس آگئے۔یعنی کہ ہماری تربیت ایسی ہو کہ بچے اللہ سے ڈریں اور والدین سے قریب ہوں۔

بچوں کے دوست بن جائے بڑھتی عمر کے بچوں میں جسمانی بدلاؤ کے ساتھ ذہنی بدلاؤ بھی آتا ہے مزاج میں سختی،چڑچڑاپن بھی ہوتا ہے، غصہ بھی ہوگا سب برداشت کیجئے۔ یہ ہمارے بچے ہیں انہیں غلط ہاتھوں میں جانے نہیں دیجئے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱