بچوں کی تربیت
کا فطری انداز
اکثر والدین بچوں کو فجر کے لیے نہیں اٹھاتے کہ وہ تھکے ہوئے ہیں۔ روزے نہ رکھنے کا کہتے ہیں کہ پڑ ھ پڑھ کر کمزور ہوجائیں گے۔ امتحانات کے ابتداء میں قرآن پڑھانے والوں کی چھٹی کردیتےہیں، وقت نہیں ہے۔ یہ ساری فکر کا محور یہ ہوتا ہے کہ اولاد پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن جائے، جس کا معاشرے میں Statusہو۔
بچوں کی تربیت:

والدین کے لیے اولاد فطرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔عموماً جن کو یہ نعمت حاصل ہو تی ہے وہ افراط و تفریط کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی والدین کی طرف سے بے رغبتی لا پرواہی نظر آتی ہے اور کہیں بے جا لاڈو پیار۔
بچوں کی تربیت ایک اہم مسئلہ ہے جو ہر والدین کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ خصوصا بچوں کو اسلامی خطوط پر تربیت دینا ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے والدین کا خود تربیت یافتہ ہونا لازمی امر ہے، خصوصاً ماں کا کیوں کہ عظیم، مائیں ہی عظیم بچوں کو پروان چڑھا سکتی ہیں۔ الله تعالیٰ نے والدین کو اور بالخصوص ماں کو جو اعزاز سے بخشا ہے، وہ اسلام کے سوا دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی بھی تمدن عطا نہیں کر تا۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو باپ سے تین گنا زیادہ اطاعت کا حق دار اور جنت ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی۔
تربیت اولاد کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں :

علم کا حصول:
بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام ان کی پیدائش ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ پہلا دن کون سا ہے ؟ قرار حمل کا پہلا دن ؟ پیدائش کا پہلا دن ؟ یا اس سے بھی پہلے ؟
والدین اولاد کی تربیت میں بہت سے مرحلے طے کرتے ہیں:
پہلا مرحلہ: ولادت سے قبل
دوسرا مرحلہ: ولادت سے 3سال کی عمر تک
تیسرا مرحلہ: چار سال سے دس سال کی عمر تک
چوتھا مرحلہ: دس سال سے چودہ سال کی عمر تک
پانچواں مرحلہ: پندرہ سال سے اٹھارہ سال کی عمر تک
ولادت سے قبل شریعت کی راہ نمائی:
اللہ تعالیٰ نے نیک اولاد کی پرورش،نسلِ انسانی کی بقاء کے لیے، ان کی ایمانی قوتوں کے لیے ابتدائے انسانیت کے مرحلوں پر میاں بیوی کو’ وظیفۂ زوجیت‘ سےقبل دعا کی خصوصی تلقین کی ہے۔حضرت ابن عباس ؓسے مروی ہےکہ نبیﷺنے فرمایا: کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس تعلق قائم کرنے کے لئے آئے تو یہ دعا پڑھے:
’’بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘(صحیح بخاری)
حضرت مریم ؑکی پیدائش سے قبل ہی ان کی والدہ نے انہیں اور ان کی نسل کو شیطان سے بچانے کے لئے اللہ کی پناہ میں دے دیا تھا۔امام غزالی ؒ الله فرماتے ہیں :
جان لیں کہ بچے والدین کے پاس امانت ہیں۔ بچوں کا دل منقش پاکیزہ موتی کی طرح ہوتا ہے، جس پر کچھ بھی نقش کیا جاسکتا ہے۔ اگر ان کی ا چھی پرورش کی جائے تو وہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند رہتے ہیں اور اپنے والدین و اساتذہ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ان کی غلط تربیت کی جائے اور ان پرصحیح توجہ نہ دی جائے تو یہ اس کے لیے باعث شقاوت و ہلاکت بن جاتے ہیں، جن کا وبال ان کے سر براہ اور سرپرستوں پر بھی پڑتا ہے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اولاد اللہ کی عطا کردہ بیش قیمتی امانت ہے۔امانت کی حفاظت کے لیے مکمل توجہ اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان امور اور اسباب سے بچاجاسکے، جو اس امانت میں خیانت کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کی حفاظت کے لیے ان تمام پہلوؤں کو اپنے عمل میں لا کر اسی پہلو پر ان کی تربیت کرنی ہوگی جس کے لیے آپ کو پہلے سے تیاری کرنی پڑے گی اور یہ مراحل پوری زندگی آپ کو مسلسل کرنے ہوں گے جن کی ابتدا درج ذیل امور سے ہوگی:
1۔ایمانی تربیت:
توحیدسے خودکومعمورکرنا ہوگا اور تمام توہمات و بدعات سے خود کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا تاکہ اس کے اثرات آپ کی اولاد میں منتقل نہ ہوں۔ ایمان کا چراغ ابتدا سے ان میں جلانا ہوگا، جس کے لیے خود کو ایمان سے منور کرنا ہوگا۔ مثلا دورانِ حمل کے توہمات اور بدعات سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔اپنی ایمانی تربیت کر کے اس کی ایمانی تربیت کی تیاری پہلے سے کرنا ہوگی۔ ان میں اللہ رب العالمین کی محبت دوران حمل سےہی ڈالنا ہوگی۔ جدید تحقیق اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ بچہ پیٹ میں سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے، Reactبھی کرتا ہے۔ اس دوران اس کو اس گود حمل سے ہی محبت الٰہی اور محبت رسولﷺکادرس دیں۔
2 ۔اخلاقی تربیت:
بچہ والدین سے سیکھتا ہے۔اس لیے والدین کو چاہیے کہ تلاوت قرآن کا اہتمام کریں، خاص طور ماں کو حالتِ حمل میں کم بولنا، اچھا بولنا، ہنسنا مسکرانا، شکر کے ساتھ اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمت کو قبول کرنا اور خود جھوٹ غیبت گندے الفاظ کی ادائیگی سے بچنا چاہیے تاکہ بری عادات و اخلاق ان میں جذب نہ ہوجائیں۔
3 ۔جسمانی تربیت:
ایسا کیوں ہوتا ہے، اکثر جو آپ کو پسندہو، وہ آپ کی اولاد کو بھی پسند ہوتا ہے۔ ماں جو کھاتی ہے، و ہی ذائقہ بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ ما ئیں صحت مند غذا سنت کے مطابق کھائیں تاکہ و ہی عوامل آپ کی اولاد میں نظر آئیں۔ طہارت کا اہتمام کریں تاکہ آپ کی عادتیں اور خصلتیں بچوں میں بھی منتقل ہوں۔
4 ۔عقلی تربیت:
بچوں کی تعلیم کا خاص خیال رکھنا،دورانِ حمل سے انتہائے عمر تک انہیں جنت و جہنم کی حقیقت سے آگا کرنا۔ اس کے لیے آپ کو دوران حمل خود بھی وہ کام کرنے ہیں جو جنت کا مستحق بنائیں اور ان کاموں سے اجتناب کرنا ہے، جو جہنم میں جانے کا سبب ہیں۔ دورانِ حمل ٹی وی، فضول لٹریچر ز،نماز سے بے رغبتی اور دیگر فضولیات میں اپناوقت بربادکریں۔ یاد رکھیں اس کے گہرے اثرات آپ کے بچوں پر آئیں گے۔
5 ۔معاشرتی و جنسی تربیت:
والدین اس مرحلے میں بچوں کے ذمہ دار ہوں گے، یہ سب ان میں بھی منتقل ہوگا۔ احساس کمتری کا آپ شکار نہ ہوں گے، ان میں بھی یہ کمیاں نہیں آئیں گی۔ اور وقت آنے پر ان کی بھی جسمانی تربیت کی جائے، انہیں ان میں آنے والی تبدیلیوں کو وقت پر بتایا جائے اور دوران حمل اپنے جنسی جذبات پر خصوصی ضبط کر کے جائز حلال طریقے سے ہی پورا کیا جائے۔
محبت و شفقت کا برتاؤ:
حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں :’’ اللہ کے نبیﷺمجھے ایک ران پر بٹھالیتے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دوسری ران پر پھر ہم دونوں کو گلے لگالیتے اور کہتے :اے اللہ میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر مہربانی فرما‘‘۔[صحیح بخاری ]
سیدناسعد بن عامرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:’’ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے، اس میں سب سے بہتر عطیہ تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر کوئی چیزنہیں۔ [ترمذی ]
فرائض کی تاکید:
سیدناعبد اللہ بن عمر وبن العاصؓسے روایت ہے رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’تمہارے بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کی تاکید کرو‘‘ [سنن ابوداود]
حیا کی آبیاری:
سیدناعبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’تمہارے بچے جب دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو‘‘۔[سنن ابو داؤد ]
اچھی تربیت:
اولاد کے لیے والدین خصوصا ماں کی گود پہلی در س گاہ ہوتی ہے لہٰذا ان پر تربیت کی بھاری ذمہ داری آتی ہے۔کسی بھی عمارت کی بنیاد میں اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگ جائے تو پوری دیوار ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔آج کے والدین اولاد کے اعلیٰ مہنگے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر تو توجہ دیتے ہیں، لیکن اچھے با کردار انسان بنانے کی فکر نہیں کرتے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سےروایت ہےرسول اللہ نے فرمایا:’’ ہر ایک بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مشرک بناتے ہیں۔ اس لیے اپنے بچوں کو ادب سکھاؤاور ان کی اچھی تربیت کرو۔‘‘[صحیح بخاری ]
دنیا پر آخرت کو ترجیح دیں :
والدین غیر شعوری طور پر اللہ کے مقرر کردہ فرائض مؤخر کر کے بچے کے سامنے دنیاوی کاموں کو اہمیت دیتے ہیں۔ مثلاًاکثر والدین بچوں کو فجر کے لیے نہیں اٹھاتے کہ وہ تھکے ہوئے ہیں۔ روزے نہ رکھنے کا کہتے ہیں کہ پڑ ھ پڑھ کر کمزور ہوجائیں گے۔ امتحانات کے ابتداء میں قرآن پڑھانے والوں کی چھٹی کردیتےہیں، وقت نہیں ہے۔ یہ ساری فکر کا محور یہ ہوتا ہے کہ اولاد پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن جائے، جس کا معاشرے میں Statusہو۔
امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ بچے کو کھیل سے روکنا اور انھیں ہر وقت پڑھتے رہنے کو کہنا، ان کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے۔ بچوں کو دن کے کسی حصے میں سیر اور ورزش کا عادی بنایا جائے، تاکہ اس پر سستی غالب نہ آئے۔
زیادہ ڈانٹ سننا آدمی کے اپنے لیے باعث ندامت ثابت ہوتا ہے۔ اس سے بچہ ضد کرنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے رسول اللہﷺاس سے بہت گریز کرتے۔ رسول اللہﷺکے تربیت یافتہ صحابی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں : مجھے دس سال تک نبی کریمﷺکی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ کی قسم نہ تو کبھی آپﷺنے مجھے اف کہا اور نہ یہ کہا کہ تم نے ایسے کیوں کیایا ایسے کیوں نہیں کیا؟(صحیح بخاری )
جلدی سونے کی تربیت:
آپؐعشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔(صحیح بخاری )
کام کرنے کا طریقہ سکھانا:
رسول اللہﷺایک لڑکے کے پاس سے گزرے، وہ بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ایک طرف ہوجاؤ میں تمہیں کھال اتار کر دکھاتا ہوں۔ ‘‘ [سنن ابو داؤد ]
گھر میں داخلے کے آداب سکھانا:
حضرت انس ؓ سے رسول اللہﷺنے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں جاؤ تو السلام علیکم کہا کرو۔ یہ چیز تمہارے اپنے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے باعث برکت ہوگی۔[سنن ترمذی ]
علم کی تڑپ پیدا کرنا:
حضرت لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی تم نہ علم کو مقابلے کے لیے سیکھو اور نہ جہلاء سے جھگڑنے کے لیےاور نہ ہی محفلوں میں ریاء و غرور کے لیے۔ جب تم کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے دیکھو تو ان کے پاس بیٹھ جاؤ۔ اگر تم صاحب علم ہوئے تو تمہارا علم مفید ہوگا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ تمہیں اپنے علم سے مستفید کریں گے۔ [منتخب]
بچوں کو کتابت سکھانا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ(القلم:1)
(ن، قلم کی قسم ہے، اور ان کی تحریر کی قسم ہے۔)
اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ ایک قابل محترم چیزہے اور اس سے لکھنے والے بھی اسی طرح محترم ہیں۔
خلاصۂ کلام:
رسول اللہﷺکا فرمان مبارک ہے:آدمی کے گنہگار ہونے کے لیےیہ بات ہی کافی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو ضائع کردے۔[سنن ابوداؤد ]
جس طرح اولاد کے لیے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا متعدد بار حکم ہے، اسی طرح والدین کے لیے بھی اولاد کی صحیح منہج پر تربیت کرنا لازم و ملزوم ہے۔ ضرورت ہے کہ شریعت کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ قائم کریں۔
درود و سلام ہو محمد رسول اللہﷺپر، جنہوں نے بحیثیت والدیہ کردار عملاً کرکے ہی نہیں دکھایا بلکہ بحیثیت نبی امت کے والدبن کر بھی عملاً تربیت کر کے دکھائی۔
بچوں کی تربیت ایک اہم مسئلہ ہے جو ہر والدین کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ خصوصا بچوں کو اسلامی خطوط پر تربیت دینا ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے والدین کا خود تربیت یافتہ ہونا لازمی امر ہے، خصوصاً ماں کا کیوں کہ عظیم، مائیں ہی عظیم بچوں کو پروان چڑھا سکتی ہیں۔

ویڈیو :

آڈیو:

۲۰۲۱ ستمبر