بچیوں کا عالمی دن حقوق، تحفّظ اور ترقی

 ہر سال 11؍ اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جانب سے بچیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ بچیوں کا عالمی دن( international girl child day) منانے کایہ سلسلہ 2012 سے شروع ہوا۔ ڈے منانے کارواج دراصل متعلقہ عنوان پر لوگوں میں بیداری پیدا کر نے اور ان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش ہے۔ اور ساتھ ہی اس بات کا اعتراف بھی کہ زیر بحث موضوع پر صورتِ حال مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہے، اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ یو این اونے اس دن کے حوالے سے لڑکیوں کے جن مسائل پر توجہ دی ہے، ان میں تعلیم، تغذ یہ ، بچپن کی شادی، جبر یہ شادی، قانونی اور طبی حقوق سے متعلق بیداری پید اکرنا ہے۔ یونیسکو کے مطابق عالمی سطح پر بچیوں کے حقوق کی صورتِ حال قابلِ اطمینان نہیں ہے۔ اس دن کو خاص طور پر بیٹیوں کے نام کر کے بیٹیوں میں یہ احساس پید اکر نا ہے کہ وہ ان چاہی نہیں ہیں۔ سماج کے ان لوگوں کو، جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، یہ احساس دلا یا جا تا ہے کہ بیٹیوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ہماری دنیا کے مسائل کے حل میں اپنا کر دار ادا کر سکتی ہیں۔ بہتر ماحول اور حقوق کے استعمال کا موقع ملے تو وہ حالات کو بدلنے کی امکانی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ساج بچیوں کی بہتر نشو نما کے لیے ساز گار ماحول فراہم کر تا ہے تو یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ ہمارا مستقبل خوش حال ہو گا اور ہم پائید ار ترقی کی سمت بڑھ سکیں گے۔
یہ آدھی انسانیت دنیا کے بڑے بڑے مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلیوں، سیاسی تنازعات ، معاشی ترقی، برائیوں کی روک تھام اور عالمی استحکام میں اپناحصہ ادا کر ے گی۔اس دن کے حوالے سے لڑکیوں سے متعلق جن مسائل کو موضوع بنایا، اس میں جبری مز دوری، بچپن کی شادی کو ختم کر نا، معیاری تعلیم اور باعزت زندگی کے مواقع فراہم کر نا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ان کی آواز سنی جاسکے اور ان کے آئیڈیاز کی شراکت ہو سکے ۔
یو این او کی جانب سے بچیوں کے تحفظ کے ایجنڈے پربہت سے ممالک نے خصوصی توجہ دی اور ملکی سطح پر اپنے یہاں اس دن کو منانے کا اہتمام کرتے ہیں۔بھارت میں یہ دن ستمبر کے چوتھے اتوار کو منایا جا تا ہے۔ بیٹیوں کے تحفظ کے لیے ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 22 ؍جنوری 2015 کو ہریانہ کے ضلع پانی پت سے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دیا۔ ملک کے گلی کو چے اور تمام نمایاں مقامات، بسوں، آٹور کشے ،لاریوں غرض ذرائع حمل و نقل پر کوئی جگہ نہیں بچی جہاں نعرے درج نہ کیے گئے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیٹی کے تحفظ اور اس کی تعلیم کے لیے بلند کیے جانے والے یہ نعرے سماج کی حقیقی صورتِ حال کو درست رخ دینے میں کتنے مؤثر ثابت ہوئے۔ نعروں اور دن منانے کی روایت سے قطع نظر کچھ زمینی حقائق جاننے کی کو شش کر تے ہیں۔
تھامسن رائٹر س ایک بین الا قوامی تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس نے جنسی ہراسانی، گھریلو تشد د ، جبری شادیوں، جبری مز دوری، انسانی اسمگلنگ کے پیرامیٹر پر خواتین کی حالت جاننے کی کو شش کی اور اس لحاظ سے ممالک کی در جہ بندی کی تو بھارت اول نمبر پر رہا۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ خواتین کے معاملے میں ہماری حالت دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے زیادہ خراب ہے۔ جنگ سے تباہ حال ملکوں اور ان ملکوں سے بھی خراب ہے، جن پر خواتین کے استحصال کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
دنیا کے تمام ممالک کے دساتیر میں زندہ ر ہنے کے حق کو بنیادی حقوق کی فہرست میں سر فہرست رکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ زند گی رہے گی تو دیگر حقوق سے استفادہ کا مرحلہ آئے گا۔ دنیا بھر میں زندہ رہنے کے حق کو پہلا حق تسلیم کرنے اور اس کو قانونی اور دستوری تحفظ دینے کے باوجو دلڑ کیوں کے معاملے میں جو صورت حال ہے، وہ بڑی در دناک ہے ۔ عالمی سطح پر ہر سال 117 ملین بچیاں اسقاط حمل کے ذریعہ موت کی وادی میں سمودی جاتی ہیں ۔ یو این او کے مطابق بھارت میں ہر دن 2000 بچیاں پید اہونے سے قبل ماں کے پیٹ میں مار دی جاتی ہیں۔ ملک میں PC-PNDT Act لینی-Pre-Conception and Pre Pre-Natal Diagnostic Techniques Act موجو د ہے، جس کی روسے پیدائش سے قبل بچےکا جنس ظاہر کر نا قانونی جرم ہے۔ قانون کو بالائے طاق رکھ کر چور دروازوں سے یہ کام جاری ہے ۔ یونیسیف کے مطابق لڑکوں اور لڑکیوں کی شرح تناسب فطری طور پر 100 لڑ کوں پر 105 لڑ کیاں ہوتی ہیں۔ 2001 کے اعدادو شمار کے مطابق 1000 لڑ کوں پر 933 لڑ کیاں تھیں، 2011 میں اس میں مزید گراوٹ آگئی۔0.6 سال کی عمر کے بچوں میں یہ تناسب 1000 لڑ کوں پر 918 کا ہو گیا۔
لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک، لڑکوں کو لڑ کیوں پر ترجیح، مساوی مواقع سے لڑکیوں کو محروم رکھنا ، یہ وہ رویے ہیں جو لڑکیوں کی نشو نما اور ان کی صلاحیتوں کو جلا پانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جہیر اور لین دین کے بے جا اور بڑھتے ہوئے رواج نے بچیوں کے وجود کو بو جھ بنادیا ہے ۔ جہیری اموات، گھر یلو تشد داور بچیوں پر تشد د کے واقعات اس بات کے مظہر ہیں کہ سماج میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔
2009 میں رائٹ ٹو ایجو کیشن ایکٹ پاس ہوا۔ جس کے تحت 6 سال سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے حکومت پابند ہے۔ لیکن عملی طور پر اس راہ میں کئی دشواریاں ہیں، بعض مقامات پر آبادیوں سے اسکول کا فاصلہ اتنازیادہ ہے کہ بچیوں کا اسکول تک پہنچنا دشوار ہے۔ 2019-20کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے والی لڑکیوں کی شرح 15 ہے ۔ اس کی وجوہات میں والد ین کالڑ کیوں کواسکول نہ بھیجنا، بستیوں میں اسکول کانہ ہو نا، اسکول میں مناسب ضروریات کی عدم فراہمی اور عدم تحفظ کا ماحول ہے۔
لڑکیوں کے خلاف بڑھتے جنسی جرائم نے صورتِ حال کو اور بھی خراب کر دیا ہے۔ ننھی ننھی معصوم بچیاں بھی درندگی کا شکار ہونے لگی ہیں ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ملک میں ہر 16 منٹ میں ایک عصمت دری کا واقعہ ہو تا ہے۔ ملک کے غیر محفوظ ماحول عصمت دری، اغوا، گینگ ریپ، قتل کے بڑھتے واقعات پر امریکہ اور بر طانیہ نے اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر کے انہیں بھارت کے سفر میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحول کس قدر غیر محفوظ ہو گیا ہے ۔صنفی امتیازات کا شکار ، تعلیم اور مساوی مواقع سے محروم ، ان چاہی اور بوجھ سمجھی جانے والی یہ لڑکیاں جو غیر محفوظ ماحول میں ڈری سہمی ہوئی ہیں، یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر کیسے دے سکیں گی۔ ایک دن بیٹی کے نام کر کے کیا ہم ان کو تحفظ دے پائیں گے ۔ کیا کچھ نعرے بلندکر کے ہم ان کے حقوق کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے سکیں گے ۔ سماج کی ذہنیت ایک ڈے منانے سے نہیں بدلی جاسکتی۔ ہم اگر اپنی بیٹیوں کے تئیں یہ خواب دیکھتے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرہ سے نمٹنے میں ، سیاسی تنازعات کے حل میں ، معاشی ترقی میں ، برائیوں کی روک تھام میں اپنا حصہ ادا کرنے کے قابل ہوں تو ہمیں ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر نا ہو گا۔ سماج سے صنفی امتیازات کا خاتمہ کر کے ان کے اعتماد کو بحال کر نا اور ماحول کو محفوظ بنانا ہو گا۔ ان ہاتھوں کو پکڑ نا ہو گا جو ان کلیوں کو کھلنے سے پہلے مسل دیتے ہیں۔ ان کے راہوں کے ان خاروں کو چنناہو گا،جوان کو لہولہان کر دیتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ میں اس بات کی شہادت موجود ہے۔ اس سے قبل بھی انسانی ساج ایسے ہی نا گفتہ بہ حالات سے گزر رہا تھا۔1450 سال قبل اسلام نے’’وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ۔ بِأيّ ذَنْبٍ قُتلَتْ‘‘سے انسانی روح کو جھنجھوڑا، بیٹیوں کے باپ کو ان کی پرورش، تعلیم اور اچھی تربیت کرنے ، صنف کی بنیاد پر امتیاز نہ کرنے پر جنت میں حضورؐکے پڑوسی ہونے کی خوش خبری دی۔ انسانی روح اس پیغام سے وجد میں آگئی ۔ کل تک جن کو بیٹی کا وجود گوارانہ تھا ،آج بیٹی کی پرورش کے لیے رشتہ داری کے دعوےکرنے لگے ۔ فکر و نظر کے اس انقلاب نے کچھ ہی برسوں میں ایسی تبدیلی پید اکر دی کہ وقت کے خلیفہ نے اعتراف کیا کہ ایک عورت کی سمجھ عمر سے زیادہ ہے۔ یہی بیٹیاں سیاسی معاملات میں رہنمائی کے لیے گورنروں کو خطوط لکھتی ہیں۔ بزنس مینیجمنٹ میں ، نازک حالات میں مشاورت میں، تعلیم کے میدان میں نمایان نظر آنے لگیں۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے اور کئی صدیوں تک دنیا میں یونیورسٹیوں کا قیام شفاخانوں اور سرائے خانوں کی تعمیر اور نہر کھد انے کے منصوبوں کی تعمیل کر اتی اور بھی کئی میدانوں میں اپنی سماجی ذمہ داریاں ادا کرتی نظر اتی ہیں۔ یواین او، یونیسف، یونیسکو اگر ان مسائل کے سلسلے میں دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹیوں کے لیے دن منانے کے ساتھ ساتھ ان مسائل کے بارے میں، جن سے بیٹیاں نبر د آزماہیں، لوگوں کے شعور کو بیدار کریں تو بیٹیوں کے تئیں جو خواب وہ دیکھ رہے ہیں، وہ شرمندۂ تعبیر ہو گا۔ا نسانی عظمت اور اس کا احترام ہی وہ بنیادی نکتہ ہے، جس کو بحال کیے بغیر نہ ہی انسانی ضمیر سے اپیل کی جاسکتی ہے اور نہ مطلوبہ تبدیلی کے لیے ذہنوں کو آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ عورت کو جنسی شئے یا تجارتی شئے کے بجائے اس کی نسوانیت کا احترام کا سبق ان پلیٹ فار مس سے دنیاکو دینا ہو گا۔ ذہن و فکر کی کمی کو دور کر نے کے لیے انسانی عقل کو اپیل کر نا اور اس کے ضمیر کے تاروں کو متحرک کر ناہو گا۔ یہ کام وحی خداوندی کے علاوہ کسی دو سرے ذریعہ سے ممکن نہیں۔

صنفی امتیازات کا شکار ، تعلیم اور مساوی مواقع سے محروم ، ان چاہی اور بوجھ سمجھی جانے والی یہ لڑکیاں جو غیر محفوظ ماحول میں ڈری سہمی ہوئی ہیں، یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر کیسے دے سکیں گی۔ ایک دن بیٹی کے نام کر کے کیا ہم ان کو تحفظ دے پائیں گے ۔ کیا کچھ نعرے بلندکر کے ہم ان کے حقوق کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے سکیں گے ۔ سماج کی ذہنیت ایک ڈے منانے سے نہیں بدلی جاسکتی۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر