بچے ڈیجیٹل آلات کی زد میں

 عصرِ حاضر میں ہماری نئی نسل کا ایک بڑا وقت ڈیجیٹل آلات مثلاً: اسمارٹ فونز، ٹیبلٹ، ٹی وی، ویڈیو کنسول، لیپ ٹاپس،کمپیوٹرس وغیرہ کے ساتھ گذرتا نظر آرہا ہے۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے ان تمام electronic devices  کے سامنے وقت گزارنے کو ہی ہم ’’اسکرین ٹائم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ مطالعہ کی سرگرمی، گیمز کھیلنے، ساتھ ہی ساتھ دوطرفہ(Interactive)، یک طرفہ (Non-Interactive) ، تعلیمی (Educational) ، تفریحی(Recreational)  استعمال کے ضمن میں، ان devices  electronic کے اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے کی وجہ سے new generation کو بچپن سے ہی امراض کا سامنا ہے ۔

سکرین ٹائم اور بچوں کے امراض:

 سکرین پر زیادہ دیر تک مصروف رہنے کی وجہ سے بچوں کو مختلف اقسام کی بیماریاں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں والدین و سرپرست حضرات کے پاس شکایات کا انبار نظر آتا ہے۔ جس میں بچوں کا ’’اسکرین وژن سنڈروم‘‘ میں مبتلا ہونا، بچوں کی آنکھوں میں جلن، آنکھوں کا خشک ہوجانا، بینائی کا کمزور ہونا، چکر آنا، سردرد اور تھکان کا ہونا، معصوم بچوں کا مسلسل اضطرابی کیفیت و بے چینی کے عالم میں رہنا، گردن میں درد، ہاتھوں میں بھی درد، ریڑھ کی ہڈی کا درد کے ساتھ جھک جانا، بچوں کا موٹاپے کا شکار ہونا،ear devicesکے استعمال سے بچوں کے کانوں سماعت بھی داؤ پر لگ گئی ہیں۔ اب تو چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کا اسکرین ٹائم کے زیادہ استعمال کے نتیجہ میں خون کے دباؤ میں شدید اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر(High blood pressure) اور ہارٹ اٹیک (Heart Attack) جیسے بڑے بڑے مضر امراض کا لاحق ہونا ثابت ہورہا ہے۔ ایک تحقیق میں یورپی یونین کے 8ممالک کے تقریباً 5000بچوں کی دو برس تک نگرانی کی گئی اور نتیجے میں اسکرین کے سامنے بیٹھنے اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان ایک تعلق مل گیا ہے۔
 اسکرین کے سامنے ہر وقت رہنا بچوں کے لئے خطرناک ثابت ہی ہوگا۔ اسکرین کے سامنے بیٹھنے سے بچہ غیر فعال ہوتا ہے اور یہی غیر فعالیت اس کے موٹاپے اور موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اسی لئے بچوں کے لئے اسکرین پر وقت گذارنے کوکباڑ غذا (junk food) کھلانے کے مترادف ہی ہوگا۔ کباڑ غذاکی حد سے تجاوز کرکے کھلائی جانے والی خوراکی کے اثرات بچوں کی دماغی و جسمانی صحت پر بہت ہی زیادہ خطرناک ہونگے۔ اسکولنگ بچوں پر ریسرچ اور اسٹڈی سے شواہد ملے ہیں کہ زیادہ اسکرین ٹائم گزارنے والے بچوں کی ذہنی ساخت میںتبدیلیاں ہوسکتی ہیں، جن بچوںپر تحقیق کی گئی وہ تمام بچے ایک گھنٹے سے زائد وقت اسکرین کے سامنے گزارتے تھے، تحقیق میں نوٹ کیا گیا کہ دماغ کی زبان و بیان اور لٹریسی کے ضمن میں ان تمام حصوں میں ایک بڑا فرق محسوس کیا گیا ۔لہٰذا تحقیق کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کے ذہنی development  میں اسکرین ٹائم سے ہونے والے مضر اثرات سے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بچوں کا ذہن تشکیل پاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق Brain Development کے وقت بچوں کو انسانی تعامل (Interaction) کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اسی مرحلے میں وہ اپنے زبان دانی اور سوشل صلاحیتوں کے فطری سنگ میل کو عبور کرکے ایک ذہنی ساخت (Structure of brain) کو پروان چڑھاتا ہے۔

عالمی وبا اور آن لائن ترسیل میں اضافہ: 

عالمی وباء کووڈ ۔ 19کے دور میں تعلیمی ادارے بہت تیزی سے انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن تعلیمی ترسیل کو ممکن بنانے کی جستجو میں جتے ہوئے ہیں۔حقیقت یہ بھی ہے کہ اسکولوں کی سطح پر یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ آن لائن کلاسز محض والدین کو فیس کی یاد دہانی کرانے، وقت بے وقت اسباق کی معلومات فراہم کرنے، والدین کو مضامین کے اسباق کی تیاری سے متعلق معلومات اور تعلیمی اقوال فراہم کرانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ تاہم دنیا بھرکے معلمین اب بھی اس صنعت کو دوچار کرنے والے بڑے مسائل کو تسلیم کرتے ہیں۔ جب تک ان مسائل پر گہری نظر ڈال کر اس کے تدارک کے متعلق کوئی ٹھوس حل نہیں نکالا جائے تب تک یہ ساری چیزیں واقعیJunk food ہی ہیں۔
کووڈ ۔19وبا کے پیش نظر عالمی سطح پر تقریباً 1.2بلین بچے کلاس رومز سے باہر ہیں، متحدہ عرب امارات میں مارچ 2020سے اب تک تقریباً 1.1.1  ملین طلباء گھر سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیسکو (UNESCO) نے حال ہی میں ایک پروجیکشن جاری کیا جس میں 180ممالک کا احاطہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق 2020میں وبائی امراض کی وجہ سے 24ملین بچے تعلیم پر واپس نہیں آسکتے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں ایک ارب 57کروڑ سے زائد طلباء کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

 بھارت میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اس کے علاوہ آبادی کا 41فی صد حصہ 18سال سے کم عمر کے بچوں کا ہے، جن میں سے نصف لڑکیا ں ہیں۔ ہمارے ملک بھارت میں قریباً 24؍ کروڑ سے زیادہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر عالمی وباء کورونا کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صرف بھارت میں ہی ایک جائزے کے مطابق تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پانچ میں سے چار یعنی 80فی صد طالبات نے کبھی بھی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں کی، اور پانچ میں سے تین طالبات نے کبھی بھی کمپیوٹر استعمال نہیں کیا۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ غریب ترین لڑکیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو مالدار یا شہری گھرانوںمیں لڑکوں اور لڑکیوں کی نسبت ٹکنالوجی تک بہت کم رسائی حاصل ہے۔ مزید یہ کہ بچوں کی سب سے بڑی تعداد لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بیشتر اسکول بند ہونے کی وجہ سے مختلف ٹیکنالوجیز کے ذریعے چاہے وہ انٹرایکٹوؤ وائس رسپانس، کمیونٹی ریڈیو، ٹی وی، واٹس ایپ اور مختلف انٹرنیٹ پلیٹ فارمزکے ذریعے آن لائن تعلیم کی ترسیل کے ضمن میں مختلف اداروں کے ربط میں ہیں۔ریاستی سطح پر حکومتیں سرکاری اسکولوں کے لئے وسیع پیمانے پر ایپس استعمال کررہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بچوں تک پہنچنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایپس لانچ کرنے کی کوششوں کے باوجود، تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کے لئے رکاوٹ ہے۔

بھارت میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اس کے علاوہ آبادی کا 41فی صد حصہ 18سال سے کم عمر کے بچوں کا ہے، جن میں سے نصف لڑکیا ں ہیں۔ ہمارے ملک بھارت میں قریباً 24؍ کروڑ سے زیادہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر عالمی وباء کورونا کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صرف بھارت میں ہی ایک جائزے کے مطابق تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پانچ میں سے چار یعنی 80فی صد طالبات نے کبھی بھی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں کی، اور پانچ میں سے تین طالبات نے کبھی بھی کمپیوٹر استعمال نہیں کیا۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ غریب ترین لڑکیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو مالدار یا شہری گھرانوںمیں لڑکوں اور لڑکیوں کی نسبت ٹکنالوجی تک بہت کم رسائی حاصل ہے۔ مزید یہ کہ بچوں کی سب سے بڑی تعداد لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بیشتر اسکول بند ہونے کی وجہ سے مختلف ٹیکنالوجیز کے ذریعے چاہے وہ انٹرایکٹوؤ وائس رسپانس، کمیونٹی ریڈیو، ٹی وی، واٹس ایپ اور مختلف انٹرنیٹ پلیٹ فارمزکے ذریعے آن لائن تعلیم کی ترسیل کے ضمن میں مختلف اداروں کے ربط میں ہیں۔ریاستی سطح پر حکومتیں سرکاری اسکولوں کے لئے وسیع پیمانے پر ایپس استعمال کررہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بچوں تک پہنچنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایپس لانچ کرنے کی کوششوں کے باوجود، تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کے لئے رکاوٹ ہے۔

باوجود، تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کے لئے رکاوٹ ہے۔
  انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں صرف 20فیصد کے مقابلے میں، ابتدائی سطح کے86فیصد بچے غریب ممالک میں مؤثر طریقے سے اسکول سے باہر ہوچکے ہیں۔یہ اندازہ لگایا گیاکہ کم اور درمیانی آمدنی کو اپنے تعلیمی بجٹ اور معیاری تعلیم کے پائیدار ترقیاتی مقصد تک پہنچنے کے لئے دستیاب رقم کے مابین 148ارب ڈالر کے فرق کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بچوں میں ڈیوائس کا بڑھتا رجحان : 

 بچوں کی آن لائن کلاسز کی وجہ سے اسمارٹ فونز اورلیپ ٹاپ کا استعمال بڑھ گیا ہے اور بچے اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اس سے ان کی جسمانی اور دماغی صحت بھی متاثر ہورہی ہیں۔ جس اسمارٹ فونز ولیپ ٹاپ کو میں خود اپنے بچوں کودینے کے لئے ڈرتا تھا آج انہی دجالی فتنوں والی عینکوں کو تعلیمی مقصد کی غرض سے بحالتِ مجبوری دینے کے لئے مجبور ہوگیا ہوں۔
 آن لائن ایجوکیشن آج ایک صنعت و انڈسٹری بن گئی ہے، جہاں مادہ پرستی و مفاد پرستی زیادہ نظر آرہی ہیں۔آن لائن ایجوکیشن کی صنعت کو قانونی حیثیت اور لمبی عمر کو یقینی بنانے کے لئے آن لائن تعلیمی و تدریسی کے نقصانات کو دور کرنا ہوگا ، ورنہ ہم تعلیم کے نام پر اپنی نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیں گے۔ آن لائن ایجوکیشن کے نقائص میں یہ بھی نقصان ہے کہ اساتذہ اپنے طلبا پر زیادہ اور یکساں توجہ دینے سے قاصر ہیں، طلبہ موضوع اور مضمون پر زیادہ توجہ نہیں دے پاتے ہیں، ان کی رائے محدود نکات پر ہی مرکوز ہوجاتی ہیں، طلباء اور اساتذہ کے مابین زیادہ تعامل نہیں ہونے پاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم و تربیت میں ایک بڑی کمی واقع ہورہی ہے۔ آن لائن تعلیم معاشرتی و سماجی تنہائی زیادہ بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔ آن لائن طلباء میں مواصلاتی مہارت کی نشوونما کا فقدان پایا جاتا ہے۔ E-learning  میں آمنے سامنے مواصلات کا فقدان پایا جاتا ہے۔آن لائن تعلیم کے دوران دھوکہ دہی کی روک تھام واقعی ایک بہت بڑا پیچیدا مسئلہ ہے۔ آن لائن انسٹرکٹرز پریکٹس کے بجائے تھیوری پر توجہ دیتے ہیں۔ آن لائن تعلیم صرف بعض شعبوں تک محدود ہے۔ آن لائن تعلیم جہاں کی آبادی کمپیوٹر سے ناخواندہ ہوتی ہیں وہاں اس کی رسائی بہت مشکل کام ہوتی ہے۔ آن لائن تعلیم میں اعتبار اور معیار کی یقین دہانی کا فقدان بھی پایا جاتاہے۔ بچوں پر ڈیجیٹل پڑھائی کے جسمانی اور ذہنی اثرات کو دیکھتے ہوئے حکومتیں بھی سنجیدہ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں، ’پرگیاتا‘ نامی رہنما خطوط ڈیجیٹل تعلیم سے متعلق ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس میں آن لائن کلاسیز کی تعداد اور وقت کو محدود کرنے کی تجاویز بھی ہیں۔انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل؍ آن لائن تعلیم سے متعلق ’پرگیاتا‘ نامی رہنما خطوط سے تعلیم کی کوالیٹی میں اضافہ کرنے کے لئے آن لائن تعلیم کو فروغ دینے کی غرض سے ایک خاکہ یا اشاریہ فراہم کرے گا۔ جس طرح سکے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر چیز کے فائدے اور نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ آن لائن لرننگ کے فائدے بھی بہت ہیں، لیکن مندرجہ بالا نقائص کو جب تک دور نہیں کیا جاتا اسے یقینی کبھی بھی نہیں بنایا جانا چاہئے۔
 2020 میں آن لائن ترسیل (E-Learning) انڈسٹری کے اعداد و شمار کے ساتھ بڑے پیمانے پر نمو آرہی ہے۔ تاہم دنیا بھر کے معلمین اب بھی اس صنعت کو دوچار کرنیوالے کچھ بڑے مسائل کو تسلیم کرتے ہیں۔ جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ آن لائن تعلیم کا روایتی تعلیم سے کوئی مقابلہ نہیں تھا لیکن موجودہ دور میں صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ آج دونوں طریقہ تعلیم (روایتی و آن لائن) میں بڑا مقابلہ نظر آرہا ہے۔ رہی سہی کثر تعلیمی اداروں کی بندشوں نے روایتی تعلیم کو آن لائن تعلیم کے درپے سجدہ ریز ہونے کے لئے مجبور و بے بس کر دیا ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ موبائیل ایپس ، یوٹیوب چینل، مائیکروسافٹ ایپس اور دیگر آن لائن ذرائع کا استعمال کرکے تعلیمی ادارے اپنے آپ کو پیش کررہے ہیں۔ 
 تعلیم کو ڈیجیٹ لائز کرنے کے نتیجے میں اقتصادی و معاشی اعتبار سے غریب طلبہ جن کے لئے تعلیم حاصل کرنے کے لئے اتنے قیمتی ڈیجیٹل آلات کو خریدنا ! ان آلات کو چلانے کے لئے ان کے لوازمات کو برداشت کرنا! انہیں آن لائن زندہ رکھنے کے لئے موبائیل کمپنیوں کے مہنگے ری چارج کرواتے رہنا واقعی ایک بہت بڑا ٹاسک ہوگا۔ جب کے ایک اندازے کے مطابق 3ارب 60کروڑ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے اور زیادہ تر افراد کم آمدنی والے ممالک میں رہائش پذیر ہیں جن میں ہر دس میںسے صرف 2 افراد انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرپاتے ہیں یا ان کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ 
  جن گھروں میں ایک سے زائد بچے ہوں اور تمام بچوںکے تعلیمی اوقات ایک ہی ہوں، تو ان والدین کا اللہ ہی حافظ! کہاں سے وہ غریب بچے آن لائن تعلیم و تدریس کے لئے ڈیجیٹل آلات کا انتظام کر سکیں گے ! کہیں لاک ڈاؤن کی آڑ میں تعلیم کو بھی طبقاتی نظام میں تبدیل کرنے کی سازش تو نہیں ہے؟ یا پھر تعلیم میں بھی امیر و غریب کا امتیاز کروانا مقصود تو نہیں؟

آن لائن کلاس میں احتیاطی تدابیر : 

 آن لائن ایجوکیشن کے دوران ہم مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کے ذریعہ بچوں کے جسمانی و ذہنی اور معاشرتی مسائل کو کچھ کم کرسکتے ہیں۔24؍ ماہ تک کے بچوں کو کسی بھی قسم کی اسکرین کے سامنے لانے سے بے انتہا احتیاط کے ساتھ سخت پرہیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے کینیڈا میں دو برس سے کم عمر کے بچوں کے لئے اسکرین کا استعمال ممنوع ہے۔ 24ماہ سے 6سال کے بچوں کو صرف ایک گھنٹے کے لئے اسکرین ٹائم کی اجازت دی جائے وہ بھی گھر کے ذمہ دارافراد کی موجودگی میں۔ وقتاً فوقتاً وقفہ لیتے رہیں۔ اسکرین آنکھوں کی سطح پر ہونا چاہئے۔ اسکرین کم از کم30 سینٹی میٹر کے فاصلے پر رکھیں۔ ماہرین کا مشورہ بھی ہے کہ اسکرین کا استعمال کرنے والے بچوں کو 20:20:20کے اصول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی ، اسکرین کے ہر 20منٹ کے بعد، انہیں پیچھے دیکھنے سے پہلے 20سیکنڈ کے لئے قریب 20فٹ کے فاصلے پر گھورنا چاہئے۔ اس سے آنکھوں کے پٹھوں کو آرام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

  کمرے اور کلاس رومس میں قدرتی روشنی کا معقول انتظام رہے، کم روشنی یا اندھیرے میں اسکرین کا استعمال نہ کریں۔ بار بار آنکھوں کی پلکوں کو جھپکاتیں رہیں۔ اینٹی گلیئر گلاسیس کی مدد لیں۔ اس بات کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے کہ اسکرین ٹائم کے نتیجہ میں بچوں کی صحت و جسمانی سرگرمیاں اور نیندو آرام متاثر نہ ہونے پائے۔ بچوں کے ذہنی توازن کو بھی وقتا فوقتا چیک کرتے رہیں۔ اسکرین ٹائم کا زیادہ استعمال ذہنی و جسمانی نشوونما، ان کا تحفظ، نفسیاتی اثرات اور دیگر مضر خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ جذباتی استحکام کا فقدان، تجسس کا فقدان، توجہ مرکوز کرنے میں کمی اور آسانی سے دوست بنانے کے قابل نہ ہونا جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ زیادہ اسکرین ٹائم کے نتیجہ میں ذہنی توازن بگڑنے لگتے ہیں، مزاج میں اضطراب و بے چینی کی کیفیت نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں بچوں کا زیادہ سے زیادہ وقت جسمانی سرگرمیوں، کتابوں کے مطالعے، creative and constructive کھیل کھیلنے، نیک و صالح دوست و احباب کے ساتھ وقت گزارنے، اہل خانہ کے ساتھ معاملات شیئر کرنے اور ان کے ساتھ گفت و شنید کرنے میں گذارنے کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل بناکر دینے کی ضرورت ہوگی۔ یہ مضمون تحریر کرتے وقت ایک مضمون نگاہوں سے گذرا جس کا یہ حصہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں، ’’آج وبائی مسائل ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ شاید اب آنے والے وقت میں ہمارے لئے ،اپنی حیاتیاتی ترجیحات کا ازسر نو تعین کئے بغیر زندگی کا بار اٹھانا ممکن نہ رہے۔ ہمارے لئے سانس لینے اور زندہ رہنے کے لئے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا محاسبہ کرنا ناگزیر ہوجائے۔ اسی طرح تعلیم کا کاروبار کرنے والوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ بھی ایسی کسی دواساز کمپنی کی طرح ہی کام تو نہیں کر رہے جو دوا کے جھانسے میں زہر بیچ رہی ہے۔ سوچیں کہ آپ پر نسل انسانی کو سنوارنے کی پیغمبرانہ ذمہ داری ہے اور آپ اسے کس طور نبھا رہے ہیں۔‘‘

بچوں کی آن لائن کلاسز کی وجہ سے اسمارٹ فونز اورلیپ ٹاپ کا استعمال بڑھ گیا ہے اور بچے اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اس سے ان کی جسمانی اور دماغی صحت بھی متاثر ہورہی ہیں۔

غریب بچے آن لائن تعلیم و تدریس کے لئے ڈیجیٹل آلات کا انتظام کر سکیں گے ! کہیں لاک ڈاؤن کی آڑ میں تعلیم کو بھی طبقاتی نظام میں تبدیل کرنے کی سازش تو نہیں ہے؟ یا پھر تعلیم میں بھی امیر و غریب کا امتیاز کروانا مقصود تو نہیں؟

جولائی ۲۰۲۱