بھارت میں خواتین محفوظ نہیں!
بھارت میں خواتین کےخلاف عصمت دری چوتھا عام جرم ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں عصمت دری کے 32033 مقدمات درج ہوئے ہیں ، جن میں اوسطاً 88 کیس روزانہ درج کیے گئے۔
اسی کے چلتےجیسے ہی رابعہ سیفی قتل اور مبینہ عصمت ریزی کے مقدمے کی تلخ تفصیلات منظر عام پر آتی ہیں، کسی کو نادانستہ طور پر نربھیا عصمت دری اور قتل کیس کی یاد دلا دی جاتی ہے، جس نے نو سال قبل ملک کے سماجی و سیاسی ڈھانچے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چند گھنٹوں میں 23 سالہ جیوتی سنگھ کے ساتھ ہونے والی سفاکی نے ملک کے نمایاں اخبارات اور ٹی وی نیوز اینکرز کے پہلے صفحات تک رسائی حاصل کرلی تھی، جس نے انتظامی ناکامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الفاظ کو کم کیا تھا جو کہ خوفناک جرم کا باعث بنی تھی۔
نربھیا کیس کے کچھ دنوں کے بعد ہم میں سے کچھ لوگوں نے یقین کیا تھا کہ نوجوان لڑکی کی قربانی ہم سب کومحفوظ بنائے گی۔ ہمیں یقین تھا کہ جیوتی کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس سے زیادہ اورکچھ نہیں ہو سکتااورمزید برداشت بھی نہیں کیا جائے گا۔ یقیناً ہمارے خیالات کا پردہ چاک ہو گیا۔ نربھیا کیس کے بے مثال غم و غصے کے باوجود اور عصمت دری کے معاملات سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین کی تشکیل کے باوجود ، سالوں کے دوران حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ مظفر نگر ریپ جو کہ ستمبر 2013 میں ہوا تھا ، نربھیا کیس کے آٹھ سال بعد بھی حل نہیں ہوا۔ اس کے فوراً بعد ایک آٹھ سالہ آصفہ بانو کے ساتھ کٹھوعہ میں زیادتی کی گئی اور قتل کر دیا گیا۔ ٹھیک ایک سال پہلے ، ستمبر 2020میں، ہاتھرس میں ایک نوجوان عورت کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، قتل کیا گیا اور پھر چوری چھپے دفن کردیا گیا۔
ایک بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب عصمت دری کی خبر نہ ملے۔ ہر دن ، خواتین کی عزت اور خواتین کی زندگی پچھلے دن کے مقابلے میں سستی ہو جاتی ہے۔ ایک طویل عرصے سے معاشرہ اخلاقی آزادی کے زوال کا شکار ہے۔ لیکن اگر ایک عورت کے خلاف کسی جرم کا ایک کیس ہے جو کہ اس کی جسمانی درندگی اور حیوانیت پر سبقت لے جاتا ہے ، تو عوامی معلومات میں تقریباً ہر دوسرا معاملہ رابعہ سیفی کا ہے۔
رابعہ سیفی کے کزن نےایک ویڈیو میں رابعہ سیفی کے قتل کی تفصیلات بتائیں۔ اس کے منہ سے چاقو چلایا گیا ، چھری اس کی ہتھیلی پر چلائی گئی اور اس کی گردن بھی تقریباً کٹ چکی تھی۔
تاہم ، جرم اس بھیانک نوعیت کے اور اس حقیقت کے باوجود بھی ہوا کہ متاثرہ شہری دارالحکومت میں ڈی ایم آفس سے منسلک سول ڈیفنس آفیسر تھی اور اس کا قتل فرید آباد میں ہوا۔ نربھیا کیس کے برعکس ، اس کو کسی بڑے اخبار یا نیوز چینل نے کوَر نہیں کیا اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اس کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔
بات عجیب لیکن بے چین کرنے والی بھی ہے کہ نیوز اینکرز، جو کئی ہفتوں سے اپنے پڑوسی ملک میں عورتوں کے ظلم پر رورہے تھے، خود این سی آر میں ایک خاتون کے بہیمانہ قتل اورمبینہ عصمت دری پر خاموش ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عصمت دری جیسے سنگین جرم کو بھی اس ملک میں’سیاسی‘ رنگ دے دیاجاتا ہے ، اسے’مذہب‘ اور’ذات پات‘ کی عینک سے دیکھا جاتاہے۔
رابعہ سیفی کے لیے صرف سوشل میڈیا پر ہی آوازیں اٹھائی گئی اور چند احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ اب کوئی صرف امید کر سکتا ہے کہ شاید سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی ہلچل ہی انتظامیہ کو حرکت میں لے آئے۔
بھارت کو خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ ایسا نظام کرنا چاہیے ،جہاں خواتین کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کے باوجود جرائم کا بڑھنا، اس بات کی غماز ہے کہ کہیں کہیں خواتین کے تحفظ کے سماجی طور پر عملی اقدام کے بطور خواتین کے باہر نکلنے میں نازیبا لباس کی حد طے کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی شام کے وقت خواتین کی باہر نکلنے پر بھی سماج کا رویہ تبدیل کرنی کی ضرورت ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ سیکوریٹی کا بھی نظم ہونا چاہیے۔
خواتین کے احترام سے متعلق سلوگن سرکاری سطح پر لکھیں جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ سے مجرم کو گرفتار کرنے اور فوراً سزا دینے کے قانون کو بہت فئیر بنانے کی ضرورت ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر