بیوہ کا مسئلہ

سوال:بہت سی بیوہ خواتین اپنے چھوٹے بچوں کی وجہ سے دوسرا نکاح نہیں کرتی ہیں اور رشتہ دار بھی یہی چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ ’’جو خاتون اپنے بچوں کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرے اس کے لیے بڑا اجر ہے۔‘‘ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب:اسلام یہ چاہتا ہے کہ کوئی مرد یا عورت بغیر جوڑے کے نہ رہے۔ چنانچہ وہ نکاح کی ترغیب دیتا ہے اور سماج کے سربر آوردہ لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ نکاح کو رواج دیں اور اس کی سہولیات فراہم کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَأَنْکِحُوا الْأَیَامَیٰ مِنْکُمْ (النور: ۲۳)

’’تم میں جو لوگ مجرد ہوں ان کے نکاح کر دو۔‘‘
آیت میں ’ایامیٰ‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا واحد ’ایمّ‘ ہے۔ اس کا اطلاق ہر اس مرد اور عورت پر ہوتا ہے جو بغیر جوڑے کے ہو۔ ایّم ہر وہ مرد ہے جس کی بیوی نہ ہو، چاہے اس کا ابھی نکاح نہ ہوا ہو، یا بیوی کا انتقال ہو گیا ہو۔ اسی طرح ایّم ہر وہ عورت ہے جس کا شوہر نہ ہو، چاہے وہ مطلّقہ ہو یا بیوہ۔
عورت کا مطلّقہ یا بیوہ ہونا اس کے لیے کوئی عیب نہیں ہے۔ مزاجوں میں اختلاف یا دیگر اسباب سے اسے طلاق ہو جائے ،یا وہ خلع لے لے تو اسے حق ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرے اور خوش گوار ازدواجی زندگی گزارے۔ اسی طرح زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کسی انسان کے لیے اس دنیا میں جتنی سانسیں مقدّر کر رکھی ہیں ان سے ایک لمحہ پہلے اسے موت آسکتی ہے نہ ایک لمحہ بعد۔اس لیے اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو تو اس عورت کو منحوس کہنا دینی نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے۔ اسے حق ہے کہ اس کا دوسرا نکاح کیا جائے، تا کہ وہ اپنی بعد کی زندگی امن و سکون اور خوشی و مسرت کے ساتھ گزار سکے۔
اللہ کے رسول ؐنے بیوہ خواتین (سوائے حضرت عائشہ ؓ) سے نکاح کر کے عملی مظاہرہ کیا کہ یہ عمل معیوب نہیں ہے۔ آپؐ نے حضرت ام سلمہؓ سے نکاح کیا تو ان کے دو بچے(زینب اور عمر) پہلے سے تھے۔ آپؐ نے انھیں اپنے ساتھ رکھا اور ان کی پرورش کی۔ عہد ِ نبوی میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ کوئی خاتون بیوہ ہوئی یا اسے طلاق ہو گئی تو فوراً اس کا دوسرا نکاح ہو گیا۔ حضرت عاتکہ بنت زیدؓ کا نکاح حضرت عبد اللہ بن ابی بکرؓ سے ہوا۔ وہ شہید ہو گئے تو حضرت زید بن خطابؓ نے ان سے نکاح کر لیا۔ وہ شہید ہوئے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے ان سے نکاح کیا۔ وہ شہید ہو گئے تو حضرت زید بن العوامؓ نے ان سے نکاح کیا۔ وہ شہید ہو گئے تو حضرت حسن بن علیؓ نے ان سے نکاح کر لیا۔ اس طرح ان کا لقب زوجۃ الشھداء (شہیدوں کی بیوی) پڑ گیا تھا۔ (الاستیعاب ، ابن عبد البر) حضرت فاطمہ بن قیسؓ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تو عدّت مکمل ہوتے ہی ان کے پاس تین رشتے آ گئے۔ وہ اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور مشورہ چاہا کہ ان میں سے کون سا رشتہ میرے لیے بہتر ہے؟ آپؐ نے ان کے بجائے حضرت اسامہ بن زیدؓ سے نکاح کا مشورہ دیا، جسے انھوں نے قبول کر لیا۔
ہندو سماج میں بیوہ عورت کو منحوس سمجھا جاتا ہے اور اس کا دوسرا نکاح پسند نہیں کیا جاتا۔ وہیں سے یہ چیز مسلمانوں میں بھی در آئی ہے۔ حالاں کہ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ چیز بالکل غلط اور قابل ِرد ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ مطلّقہ یا بیوہ عورت لازماً اپنا نکاح کر لے۔ وہ چاہے تو بقیہ زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کھپا دے۔ لیکن اگر وہ دوسرے نکاح کی خواہش رکھتی ہے تو سماج کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس سلسلے میں اسے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے:حضرت عوف بن مالک اشجغیؓ روایت کر تے ہیں کہ رسول ؐ نے ارشاد فرمایا:
أنا وامرأۃ سفعاء في الجنۃ کھاتین یومَ القیامۃ، امرأۃ آمت من زوجھا ذات منصبٍ و جمالٍ ، حبست نفسَھا علی یتاماھا حتّیٰ بانوا أو ماتوا
( ابو داؤد : ۵۱۴۹، احمد:۲۴۰۰۸)
’’ میں اور داغ دار چہرے والی عورت روزِ قیامت جنت میں اس طرح ہوں گے (جیسے ملی ہوئی دو انگلیاں)، وہ عورت جو بیوہ ہو گئی ہو، جاہ ومنصب کی مالک اور خوب صورت ہو، لیکن وہ دوسرا نکاح نہ کرے اور اپنے یتیم بچوں کی پرورش کے لیے خود کو وقف کر دے، یہاں تک کہ بچے بڑے ہو جائیں یا ان کا انتقال ہو جائے۔‘‘
اولاً یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ ثانیاً اس میں دوسرا نکاح نہ کرنے کی فضیلت نہیں بیان کی گئی ہے، بلکہ اس عورت کی فضیلت بیان کی گئی ہے جس کا کسی وجہ سے دوسرا نکاح نہ ہو سکے اور وہ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں لگی رہے۔

جون ۲۰۲۱