بے لوثی

کسی کو دینے کیلئے صرف وسائل کی فراوانی نہیں بلکہ اعلی ظرفی بھی ضروری ہے ہمدردی وغم خواری کے جذبات اور وسعت قلبی ناگزیر ہیں ۔
دل حرص و طمع سے پاک ہو تو تھوڑے میں بھی دوسروں کا حصہ نکل ہی جاتا ہے خود کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی ضرورتوں کا خیال کیا جاتا ہے دل دردمند ہو تو دوسروں کا درد محسوس ہوتا ہے اور یہ درد مند دل ایثار اور قربانی پر ابھارتا ہے ۔
لیکن دل میں اگر صرف حرص اور خود غرضی گھر کر جائے تو دولت کا انبار بھی ہو تو کسی ضرور مند کا خیال دل میں نہیں آتا بلکہ زیادہ پانے کی خواہش ہمیشہ دوسروں سے چھیننے کی ہوس پیدا کرتی ہے نتیجہ حقوق کی پامالی، ظلم وذیادتی لوٹ کھسوٹ، بخالت اور کنجوسی عیاشی اور نفس پرستی اور یہی مزاج غریب اور امیر کے درمیان ایک خلیج پیدا کرتا ہے نفرتوں کی دیوار کھڑا کرتا ہے
نکتہ : جس دل میں جنت پانے کی چاہ ہو ا س کو ایثار وقربانی میں مزہ آتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱