تبدیلیوں کی دستک
(عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر)

غیر مرئی اور انجانے وائرس کورو نا نے 2020کے دوران دنیا کی تما م توجہات اور تفکرات اپنی سمت سمیٹ لیں۔سال کے آخری ایام کے آتے آتے یوں لگا جیسےیہ عالمی مسئلہ اب ختم ہو گیااور وبائی ماحول نارمل ہوا چاہتا ہے۔2021کو لوگ امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے،لیکن کسے پتہ تھا کہ یہ سال اپنے دامن میں امید نہیں بلکہ مزید تفکرات لے آئے گا۔2021کا تقریباً نصف سال حکومتی نادانیوں اورکووڈ کی قہرسامانیوں کی نذر ہوگیا ۔
ماہرین یہ کہتے ہیں کہ 2021کے اواخر تک ویکسین کے سہارےکوویڈ کاعالمی مسئلہ نسبتاً کنٹرول ہوتا چلا جائے گااور 2022کی شروعات کچھ نئے عالم گیر مسائل سے ہوگی،یہ مسائل ماحولیاتی مسائل ہوں گے۔ورلڈ اکنامک فورم سروےکی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق 15 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام بڑے خطرات ( Top five risks )ماحولیات سے
متعلق ہیں۔
چارٹ -1 ملاحظہ فرمائیے۔ بحوالہ لیونگ پلانیٹ رپورٹ(2020)۔ممکن ہے کہ آئندہ سال دنیا میں کورونا سے زیادہ ماحولیات کے مسائل موضوع سخن بنیں ۔

متوقع اہم مسائل ۔ 2021-22

طرز حکومت :

جی ہاں،مختلف ماہرین نے 2021-22کے ماحولیاتی مسائل میں خراب طرز حکومت کو ترجیحی مقام پر رکھا۔اس لیے کہ امریکہ اور ہمارے ملک کے بشمول دنیا کے کئی ممالک کے ماحولیاتی مسائل دراصل حکومتی پالیسیوں اور الٹی ترجیحات کاپھل ہیں۔پیرس اگریمنٹ کا دورانیہ مکمل ہورہا ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ بیشتر ممالک کی حکومتوں نے اپنے وعدوں کی پابندی نہیں کی۔ملکی حکومتوں کاکیارونا،عالمی ادارہ اقوام متحدہ کی کارکردگی بھی اس محاذ پر افسوسناک ہے۔اب جبکہ گذشتہ دیڑھ سال سے حکومتوں کے لیے کورونا عالمی چیلنج بنا ہوا ہے،ماحولیاتی مسائل ترجیحاً مزید پیچھے جاچکے ہیں۔آئندہ سال ممکن ہے حکومتوں کی عدم توجہی اور بڑھے گی۔اس لیےاندیشہ ہے کہ 2021-22 میں خراب طرز حکومت،ماحولیات کے محاذ پر بڑا مسئلہ ہوگا۔

درجۂ حرارت :

یونیورسٹی آف ساؤتھیمپٹن (برطانیہ ) کے ماہرین نے2018میں پرو بائیلسٹک فورکاسٹ نامی سسٹم ایجاد کیا تھا۔جو ماحول میں طویل مدتی فطری عدم تواز ن کی پیش گوئی کرتا ہے۔مؤقر تحقیقی جریدے نیچر نے اس تحقیق کو دلچسپ سائنسی اور میتھمیٹیکل ماڈلس کے ساتھ تفصیلاً شائع کیا تھا۔ ( نیچر کمیونیکیشن ) تحقیق کے مطابق آنے والے سالوں میں 2022 تک موسم کی غیرمتوقع تبدیلیوں اور اتھل پتھل کی شرح 64فی صد ہوگی اور موسم نسبتاً گرم ہونگے۔امسال موسم گرما میں یہاں اس اتھل پتھل کا خوب مشاہدہ ہورہا ہے۔سخت گرم ایام میں کم وبیش روزانہ رات میں تیز بارش اور بجلیوں کا سلسلہ حیرت انگیز ہے۔اسی سسٹم نے 2020 کے متعلق یہ کہا تھا کہ موسمی تبدیلیاں تنفس کے انفیکشن کا سبب ہونگی جس سے ہیلتھ کئیر سسٹم پر دباؤ بڑھے گا۔اس تحقیق کو مانا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے موسم گرما سخت آزمائشی رہیں گے۔

بائیو ڈائیورسٹی کا نقصان :

گذشتہ ہفتے دی ہندو نے یہ خبر شائع کی تھی کہ حیدرآباد کے معروف زو پارک میں موجود آٹھ شیرآرٹی پی سی آر ٹیسٹ کے بعدکووڈ پازیٹیو پائے گئے۔خبر پڑھنے والے قارئین کی زیادہ دلچسپی یہ جاننے میں تھی کہ شیروں کے حلق اور ناک سے رطوبت نکالنے کا کام کس نےانجام دیا؟معلوم ہوا کہ یہ کام بھی کسی اسم باسمی شیر نے ہی انجام دیا،یعنی ویٹرنری اسپیشلسٹ جناب اسد اللہ۔ تفنن برطرف۔ یہ بات سچ ہے کہ جانوروں کے کوویڈ سے متاثر ہوکر ہلاک ہونے کی کسی خبر کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔لیکن ماہرین کے مطابق ان معصوم جانوروں کے لیے ہلاکت خیز وائرس خود حضرت انسان ہے۔مستقبل قریب میں اس وائرس کا مسئلہ زیادہ شدیدہوگا۔ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر ( ڈبلیو ڈبلیو ایف )کی لیونگ پلانیٹ رپورٹ 2020 کے مطابق 1970 تا 2016 کے دوران مختلف قسم کے جانوروں ( چوپائے،مچھلیاں،پرندےاور رینگنے والے جانوروں )کی تعداد میں 68 فی صد کمی آئی اور آنے والے سالوں میں دنیا چھٹی وسیع معدومیت(Sixth Mass Extinction)کی سمت بڑھ رہی ہے۔کسی جانور کی تین چوتھائی آبادی کاخاتمہ وسیع معدومیت کہلاتا ہے۔آنے والے سالوں میں تقریباً 515 انواع کے معدوم ہونے کا حقیقی خطرہ لاحق ہے۔یہی نہیں بلکہ اس عدم توازن کے سبب انسانی زندگی پر ہونے والے اثرات کو روکنے والی کوئی ڈھال ہمارے پاس نہیں۔نتیجتاً جانوروں سے نکلنے والی کووڈ 19جیسی زونوٹک بیماریوں کا خطرہ تیزی سے بڑھے گا۔

جنگلوں کی کٹائی ( ڈی فوریسٹیشن ) :

روزانہ 20 فٹ بال گراؤنڈ کے مساوی جنگل چٹیل میدان بن جاتے ہیں۔2021 تا 2030 کی دہائی کو ماحولیاتی ماہرین جنگلات کی بقا کے لیے اہم مانتے ہیں۔کیونکہ اگر جنگلوں کی بربادی کی اس رفتار پرفوری قابو نہ پایا گیاتو 2030 تک زمین پر جنگلوں کا صرف دس فیصد حصہ باقی رہے گا۔ برازیل جہاں امیزون کے گھنے جنگل ہیں،اس مسئلہ کا سب سے بڑا شکار ہے۔برازیل کے علاوہ انڈونیشیا،اوراستوائی خطہ کے وہ ممالک جو قدرتی بارش کے جنگلات کی دولت سے مالا مال ہیں، وہ بھی ان مسائل کاسامناکررہے ہیں۔ کنزرویشن سائنس پورٹل مونگابے نے استوائی خطے اور کچھ دیگر ممالک کے احوال پر مشتمل بڑی افسوسناک تصویری رپورٹ شائع کی۔(جیمس فئیر کی رپورٹ3 جولائی 2020)رپورٹ کے مطابق کووڈ اور لاک ڈاون سے پیدا ہونے والی بیروزگاری نےغریب ممالک کے لاکھوں نوجوانوں کو پریشان کردیا۔پیسہ کمانےکا آسان راستہ فطری وسائل کی چوری ہے۔لاک ڈاون کے دوران حکومتی نگہداشت کی کمی کا بھی ان لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور بہت بڑے پیمانے پر جنگل کے جنگل کاٹ کر بیچ کھاگئے۔اب اس مافیا نے پیر جمالیے اور حکومتی کارندوں کی ملی بھگت بھی شامل ہوگئی نتیجتاً چوری کی رفتار بھی بڑھ گئی۔یونیورسٹی آف میری لینڈ کی گلوبل لینڈ انالیس اینڈ ڈسکوریلیبارٹری نے صرف کمبوڈیا کے جنگل سے اپریل میں ایک ہفتے میں 22 ہزار الرٹس ریکارڈ کیے۔امسال کئی ممالک میں یہ مافیا بہت منظم اور طاقتور ہوگیا۔آنے والے چند سالوں میں ان کے ذریعے بدترین ماحولیاتی بحران کھڑا ہونے کاامکان ہے۔ادھر ہمارے ملک میں کووڈ اموات کی کثرت کی وجہ سے شمشان میں لکڑیوں کی مانگ اور درختوں کی کٹائی بڑھ رہی ہے ۔بی بی سی نامہ نگار شکیل اختر نے اس مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور بتایا کہ کس طرح شمالی ہند میں کئی مقامات پر لوگ دفنانے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اناؤ، رائے بریلی اور کانپور کے کئی گھاٹوں پر دریا کے کنارے سینکڑوں قبریں دکھائی دے رہی ہیں۔

کچرے کے انبار :

گذشتہ ماہ این ڈی ٹی وی نے ایک حیرت انگیز خبر نشر کی تھی کہ مہاراشٹر کے جلگاؤں شہر میں پولیس نے میٹریس کی ایک ایسی فیکٹری پر چھاپہ ماراجہاں کپاس کے بجائےاستعمال شدہ ماسک استعمال کیے جارہے تھے۔پولیس نے استعمال شدہ ماسک کے بڑے ڈھیر کو فیکٹری سے ضبط کرکے آگ لگا کر ضائع کیا۔فی الحال ہمارے ملک میں روزانہ دیڑھ کروڑ عارضی ماسک بن رہےہیں جنہیں استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔کچرے کے انبار میں یہ تازہ ترین ہلاکت خیزاضافہ ہے۔اگلے سال کچرے کا انبار اور ویسٹ مینجمنٹ بالخصوص ہمارے ملک کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ان کا استعمال کسی اور کے مقابل کئی گنا زیادہ ہے۔صرف فیس ماسک نہیں بلکہ کووڈ وبا نے کچرے کے نت نئے انبار دئیے۔جن میں ہینڈ گلوز،پی پی کٹس اوردیگر اشیاء شامل ہیں جنھیں مستقل کچرے میں پھینکا جاتا ہے۔سنٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ کے ڈیٹا کے مطابق جون تا ستمبر 2020کے دوران کووڈ سے متعلق بائیو میڈیکل کچرے کا کل حجم 18 ہزار ٹن رہا۔

ندیاں اور پانی :

لاک ڈاون کے دوران ندیوں کے بارے میں بڑی خوش کن خبریں آرہی تھیں۔ڈاون ٹو ارتھ میگزین نے اپنی ایک رپورٹ میں لاک ڈاون کو ’’ندیوں کا وینٹیلیٹر ‘‘قرار دیا تھا ۔ یہ بات بڑی معقول محسوس ہوتی رہی۔بالخصوص شمالی ہند کی ندیوں میں لاک ڈاون نے وہ اثر دکھایا تھا جو ندیوں کی صفائی کے کئی پنج سالہ منصوبے بھی نہ دکھا سکے تھے۔بنارس ہندویونیورسٹی کے گنگاریسرچ سینٹر اور واٹر رسورز مینیجمنٹ کے چیرمین ڈاکٹر ترپاٹھی کے مطابق لاک ڈاون کے دوران گنگا ندی کے پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن( ڈزولوڈ آکسیجن)کی سطح 8.3 سے بڑھ کر 10ہوگئی تھی۔اس وقت بھی چند ماہرین نے اسے عارضی کیفیت قرار دیا تھا۔لاک ڈاون ختم ہوتے ہی ہری دوار تا کانپور 1072 فیکٹریاں اپنے شباب پر لوٹ آئیں اور ندیاں بھی پوری گندگی سموئے پرانی ڈگر پر۔اب حکومتی لاپرواہی اور سماجی مسائل نے مزید وہ سنگین مسئلہ کھڑا کردیا جس کے متعلق کسی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ندیوں کے پانی میں تیرتی بے شمار نعشوں کا سنگین مسئلہ۔اس مسئلہ کاحل حکومت اگر سنجیدگی سے نہ ڈھونڈے تو امکان یہ ہے کہ ندیوں کا پانی قابل استعمال نہ رہے گا ۔ عالمی یوم ماحولیات( 5ون)کے موقعہ پر آئیے یہ بھی جانتے ہیں کہ مذکورہ مسائل کے علاوہ کن ماحولیاتی امور اور موضوعات کے حوالے سے 2021اور 2022کا دورانیہ اہم اور حساس ہے ۔

کاربن نیوٹریلیٹی

آنے والے سالوں میں کاربن نیوٹریلیٹی دنیاکااہم ہدف رہے گا۔صفر کاربن اخراج کا ہدف کاربن نیوٹریلیٹی کہلاتا ہے۔یعنی یہ کہ فضاء سے کشید کی جارہی گرین ہاوز گیسوں اور خارج کی جارہی گیسوں کا تناسب مساوی ہوجائے۔عملاً یہ ایک ناقابل عمل تصور محسوس ہوتا ہے۔لیکن اس سمت کوشش جاری ہے۔مثلاً کینیڈا اور جرمنی کی چند کمپنیاں ای ڈیزل کی سمت کامیاب پیش رفت کرچکی ہیں۔فارمولہ یہ ہے کہ فضا سے ایک یادو ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرکے 500لیٹر ڈیزل بنایا جائے۔اس طرح کاربن کی کشید اور اخراج کاکل تناسب یکساں ہوگا۔جرمن کمپنی سن فائر ایسے منصوبوں پر بھی کام کررہی ہے جو کارخانوں کے چمنیوں سے نکلنے والے دھویں سے کاروں کا ایندھن بناسکے جو ایک تا ڈیڑھ یورو فی لیٹر سے زیادہ مہنگا نہ ہو ۔ چین 28فی صدفضائی آلودگی کاذمہ دارمانا جاتا ہے۔لیکن اس نے بھی کاربن نیوٹریلیٹی کے عزائم کے ساتھ 2060کاہدف رکھا ہے۔سنگاپور نے اپنے شہریوں کو یہ آپشن مہیا کیا کہ وہ چاہیں تو کاربن نیوٹرل الیکٹریسیٹی خرید سکتے ہیں۔مزید 110ممالک نے یہی عزم کیا ہے جو دنیا کی معیشت میں 70فی صد اور فضائی آلودگی میں 65 فی صد حصہ رکھتے ہیں ۔ قابل تجدید توانائی(رنیوبل انرجی)کے میدان میں ترقی یافتہ دینا تیز ترقی کررہی ہے۔توانائی اور ٹرانسپورٹ اس انقلاب کا خاص ہدف ہیں۔ٹیسلا کی تیز ترقی اسی رجحان کا اشارہ ہے ۔ لیکن اس محاذ پر ہم کہاں ہیں؟یہ ایک بڑا تلخ سوال ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ سوا بلین آبادی کے ملک کی حکومت کا رویہ دانشمندی سے کوسوں دور ہے۔کاربن نیوٹریلیٹی دور کی بات ہے ابھی ہم سوچھ بھارت اور رفع حاجت کے ماحولیاتی مسائل ہی حل نہیں کرپائے۔9 سال قبل حکومت نے طے کیا تھاکہ ہماچل پردیش( شمالی ہند کی چھوٹی پہاڑی ریاست )کو ملک کی پہلی کاربن نیوٹرل ریاست 2020تک بنادیا جائے گا۔ 2020 گذر گیا۔گذشتہ سال اگست میں یہی وعدہ وزیر اعظم نے لداخ کے بارے میں کیا-لیکن ہدف سے ہم دور ہیں۔ 2021ان پیہم وعدوں کا جائزہ بھی چاہتا ہے۔ جرمن واچ کی کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈیکس ( سی سی پی آئی ) کی 2021کی بین الاقوامی رپورٹ ہندوستان کو 10ویں مقام پر قرار دیتی ہے۔سی سی پی آئی یوروپی یونین اوردنیا کے دیگر 57ممالک کا احاطہ کرتی ہے جوعالمی سطح پرکاربن کے 90 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔یہاں ہمارا دسواں رینک اطمینان بخش ضرور ہے،لیکن ہمارے رینک کا تفصیلی تجزیہ بتاتا ہے کہ کئی محاذ ابھی بھی تشنہ ہیں۔ مثلاً رنیوبل انرجی کے محاذ پر ہندوستان کارینک 27ہے۔ہم برقی (الیکٹرک ) ضروریات کے لیے آج بھی بے تحا شہ کوئلہ جلاتے ہیں۔توانائی کےمناسب استعمال کے حوالے سے ہمارا رینک ’’ ویری ہائی ‘‘زمرے میں آتا ہے جس کے سبب مجموعی رینک بھی اونچا ہوتا ہے۔اس کا سبب شہریوں کی محدود آمدنی ہے۔سیاسی لیڈر صرف مجموعی رینک دکھا کر خوش ہوتے ہیں ۔ 2015 پیرس ایگریمنٹ تمام ممبر مما لک کو چند اہم اصلاحی اقدامات کا پابند کرتا ہے تاکہ گلوبل وارمنگ کی سطح کو 2 ڈگری تک محدود رکھا جاسکے۔اگریمنٹ کے مطابق 2020 تک ممبر ممالک کے لیے لازم تھا کہ نیشنل ڈٹرمائنڈ کنٹریببیوشن( این ڈی سی)ایکشن پلان کو منظور کریں۔اس منصوبے کے نفاذ کے لیے پیرس ایگریمنٹ نے تین محاذوں پر کام کا ہدف دیا تھا۔ 1. فائنانس : اس کی ذمہ داری دولتمندممالک کے سپرد تھی کہ وہ اخراجات کابیڑہ اٹھائیں ۔ 2.ٹیکنولوجی 3. کیپاسٹی بلڈنگ : ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری تھی کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو س محاذ پر مدد کریں ۔ لیکن رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے پیرس اگریمنٹ 2015 کے مقاصد کی سمت کوئی خاطر خواہ پیش قد می نہیں کی ۔ اس محاذ پر امریکہ کی غیر سنجیدگی نے ان کاوشوں کو عملاً صفر بنادیا ہے۔ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی سی سی پی آئی رینکنگ ہر زمرے کے تحت کم ( Low ) یا کم ترین( Lowest ) رہی تھی۔اب جبکہ ٹرمپ رخصت ہوچکے ہیں،دنیا کو بائیڈن سے ذمہ دارانہ رویہ کی امید ہے۔ماحولیاتی کانفرنس بڑے ممالک کے اس ذمہ دارانہ رویہ کے لیے واضح خطوط طے کرے گی۔گویا 2021 -22 کا دورانیہ کاربن نیوٹریلٹی کے حوالے سے امیدوں کا سال ہے ۔

کووڈ اثرات

سازشی نظریات کی باڑھ کے بیچ کووڈ 19 کی ہلاکت خیزی کی اصل وجوہات جب ہم ٹٹولتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں ہماری ان کوتاہیوں میں بھی گہرائی تک چھپی ہیں جو ماحولیات کے حوالے سے ہم نے روا رکھی ہیں۔اقوام متحدہ( یو این او)کی مئی 2020 رپورٹ کے مطابق کووڈ کی ہلاکت خیزی بھی سات بنیادی مسائل سے جڑی ہے ۔
1. ہم آلودہ ہوا میں سانس لے رہے ہیں جو ہمارے پھیپھڑوں کو مرض کے مقابل بے بس بنارہی ہے۔کووڈ 19کی ہلاکت خیزی کا ایک بڑا سبب نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کا انسانی پھیپھڑوں کو کمزورکردینا بھی ہے۔
2. ہمیں صاف پانی دستیاب نہیں۔کووڈ 19 سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہاتھوں اور جسم کی صفائی ہے۔لیکن رپورٹ کہتی ہے کہ 42ممالک کی بڑی آبادی کو وہ پانی بھی میسر نہیں جو ہاتھوں کو واقعی صاف کرسکے۔
3.ہم اپنی غذا سے غذائیت ( نیوٹریشنل والیوز)کھو رہے ہیں۔جب کہ غذائیت،کووڈ کے مقابلے جسم کی قوت مدافعت( امیونیٹی)کے لیے انتہائی ضروری ہے۔دنیا کی ایک تہائی آبادی کو اتنی غذا بھی میسر نہیں جو جسم کو چھوٹے وائرس کے مقابل ضروری مدافعت کی قوت دے سکے۔
4. ہم مضر صحت،پروسسیڈ غذااستعمال کررہے جو ہمارے جسمانی اعضا کو بیرونی حملوں کے مقابل کمزور ہی نہیں کررہی ہے بلکہ ان حملوں کے لیے جسم کے اندرٹراجن ہارس کا کردار ادا کرتے ہوئے سازگار میدان تیار کرتی ہے ۔
5. ہم جانوروں کے بفر زون ختم کرکے جنگلی زندگی اور انسانی زندگی کے بیچ قدرتی دیوار توڑ رہے ہیں اور کووڈ جیسی بیماریوں کوادھر سےدعوت دے رہے ہیں۔
6. ہم اینٹی مائکرو بائل دوائیوں کا بکثرت استعمال اپنے اور جانوروں کے لیے کررہےہیں اور مؤثر دوائیوں کی بھی اثر پذیری کم کررہے ہیں۔گویا ہم اپنے ہتھیار خود توڑ رہے ہیں، نتیجتا کسی بھی متعدی مرض کے مقابل ہمارا جسم اور دوائیاں کمزور پڑ رہی ہیں۔
7. جنگلوں کی کٹائی کے ذریعے ہم دوائیوں کے قدرتی ذرائع اپنے ہاتھوں ختم کررہے ہیں۔اسی رپورٹ کے مطابق ہر دو سال میں دوائیوں کاایک اہم قدرتی ذخیرہ انسانی ہاتھوں سے چلا جاتا ہے۔
اس فہرست پر اگر ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں توظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کی تنبیہ واضح سمجھ میں آتی ہے۔ماحولیاتی ذمہ داریوں کے تئیں ہم بڑی حد تک غافل ہیں۔
ملاحظہ فرمائیے چارٹ2 ۔

(مثبت رجحانات کا تناسب) ہمارے ملک میں کوویڈ کی ہلاکت خیزی کا ایک سبب ان ماحولیاتی مسائل کے تئیں ہماری مجرمانہ غفلت بھی ہے ۔کوویڈ کا سبق اور 2021کے مسائل کی دستک ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ان مسائل پر سنجیدگی سے اقدام ہو۔ گلاسگو کانفرنس اوپر درج دونوں ماحولیاتی موضوعات (کاربن نوٹریلیٹی اور کوویڈ کے ماحولیاتی اثرات)بلند عزائم اور تلخ تجربات کو ظاہر کرتے ہیں۔امکان ہے گلاسگو کانفرنس ان عالمی تجربات سے سبق سیکھ کر مضبوط عزائم اور تجزیات کے ساتھ واضح روڈ میپ ترتیب دینے کا کام کرےگی۔گلاسگو کانفرنس کا انعقاد گذشتہ سال(2020) میں طے تھا لیکن کانفرنس کو کورونا نے ملتوی کروایا اور اب یہ کانفرنس 1-November 2021. کو ہوگی ۔ گلاسگو کانفرنس کا مقصد پیرس اگریمنٹ کا فالو اپ، تجزیہ اور منصوبہ سازی نیز ممبر ممالک کا این ڈی سی( نیشنل ڈٹرمائنڈ کنٹرییو نشن)کے حوالے سے جائزہ رہے گا۔مثلاً یوروپین یونین این ڈی سی کے مطابق یوروپی ممالک کوگرین ہاوز گیس کے اخراج میں 1990کے مقابل 40فی صد تخفیف کرنی ہے۔کانفرنس میں این ڈی سی پر نظر ثانی کا موقع بھی رہے گا۔کانفرنس سے امیدیں بندھی ضرور ہیں لیکن گلاسگو کانفرنس انعقاد سے پہلے ہی سیاست اور تنقیدوں کی زد میں ہے۔دی گارجین کے مطابق کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے دنیا کے کئی ماہرین ماحولیات ناراض ہیں۔ کلائر پیری کو صدر مذاکرات کے منصب سے ہٹادیا گیا،اس پر وہ نالاں ہے۔سابق وزیر اعظم ڈیوڈکیمرون اور سابق فارن سیکریٹری ولیم ہیگ نے تعاون سے انکار کردیا۔نتیجتاً ہند نژاد آلوک شرما اب صدارت فرمارہے ہیں ۔اس کا نفرنس کے حوالے سے ماحولیات کے متعلق 2021امید وں کا سال ہے ۔

تحقیق کے مطابق آنے والے سالوں میں 2022 تک موسم کی غیرمتوقع  تبدیلیو ں اور اتھل پتھل  کی شرح 64فی صد  ہوگی اور موسم نسبتاً گرم ہونگے ۔ امسال موسم گرما میں یہاں اس اتھل پتھل کا خوب مشاہدہ ہورہا ہے  ۔سخت گرم ایام میں  کم وبیش  روزانہ رات میں تیز بارش اور بجلیوں کا سلسلہ حیرت انگیز ہے ۔

لیکن اس محاذ پر ہم کہاں ہیں؟ یہ ایک بڑا تلخ سوال ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ سوا بلین آبادی کے ملک کی حکومت کا رویہ دانشمندی سے کوسوں دور ہے۔کاربن نیوٹریلیٹی دور کی بات ہے ابھی ہم سوچھ بھارت اور رفع حاجت کے ماحولیاتی مسائل ہی حل نہیں کرپائے۔

جون ۲۰۲۱