تحریکی مکالمے
تحریکی مکالمے شیخ جاسم المطوع کی تصنیف ہے۔ تمثیلی مکالموں کا یہ مجموعہ ایک انوکھی کاوش ہے۔ محی الدین غازی جس کے مترجم ہیں۔ اپنے اس انتخاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ تجدید صرف امت کی نہیں فرد کی بھی ضرورت ہے ۔امت مجدد کا انتظار کرتی ہے، فرد کو اپنا مجدد خود بنناہوتا ہے۔ماحول کو بدلنے کا بیڑا اٹھانے والے کبھی کبھی غیر محسوس طریقے سے خود ماحول سے متاثر ہوجاتے ہیں، مسیحا مریضوں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ مؤثر نصیحتوں اور حکیمانہ طریقوں سے انہیں ان کےامتیازی مقام کی یاد دہانی کرائی جائے۔
اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا زندگی میں ایمان کی مٹھاس گھولتا ہے۔دوسرا دعوت دین کی ترغیب دیتا ہے۔ایک ایمان افروز دوسرا تحریک افروز! دونوں ہی حصے ہر مسلمان کی ضرورت ہیں۔صدق دل سے ایمان لانے اور عزم و ہمت کے ساتھ دین کی دعوت کا کام کرنے والوں کی شخصیت کو ہر پہلو سے بے عیب ہونا چاہیے، بلکہ حسین و دلآویز ہونا چاہیے۔ پہلے حصے میں میں تقریبا آٹھ مکالمے ہیں۔ دنیا ،جاء نماز ،دینار، غفلت، سائے، بدی، فکر مندی اور دیوار سے۔دنیا سے انسان بے حد بیزار ہے اور فرار چاہتا ہے کہ دنیا سراسر قید و مشقت کا نام ہے دنیا عمدہ درس دیتی ہے کہ قید سے مراد احکام الہی کا پابند ہونا ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اس سے فرار ممکن نہیں ہے اور وہ عارضی شۓ ہے۔ فنا ہونے والی ہے وہ منزل نہیں ہے بلکہ رہگزر ہے بس فتنوں سے بچتے ہوئے ہوشیاری کے ساتھ یہاں سے نکلنا ہے۔اگلی گفتگو جاءنماز سے ہوتی ہے۔ غافل نمازی فجر کے وقت پیاس کی شدت سے بستر سے اٹھتا ہے تو اسے کراہنے کی آواز آتی ہے۔جاءنماز اسے نماز کی اہمیت سمجھاتی ہے مگر نیند اسے پیاری ہوتی ہے۔ جو اسے برے انجام تک لے جاتی ہے۔پیسہ بھی کیا چیز ہے۔ وہ جیب میں ہے تو دنیا مٹھی میں ہے وہ نہیں ہے تو زندگی مایوسی کا شکار ہے۔مگر اس کے پیچھے دوڑنے سے انسان بہت کچھ کھو دیتا ہے۔ آخر اس کی حیثیت کیا ہے یہ ‘دینار سے گفتگو پڑھ کر اجاگر ہوگا کہ یہ فتنہ ہے مگر ذاتی خرچ کے علاوہ دوسروں کی ضروریات کا خیال کیا جائے تو یہ نجات کا ذریعہ بھی ہے۔ غفلت سے گفتگو اس کتاب کا بہت ہی خوبصورت حصہ ہے۔داعی فکری اور تحریکی شعور رکھتا ہے مگر کبھی کبھی اسکا ایمانی پہلو کمزور ہو جاتا ہے‌ ۔اس گفتگو سے غفلت کے اسباب اور حل معلوم ہوتے ہیں۔دنیا سے وابستہ ہو یا نہ ہو یا بس دوسروں کی ہی خامیوں کی طرف نگاہ ڈالنا اور خود کے احتساب سے دور ہو جانا غفلت ہے۔غفلت کی وجہ سے جسم کا ہر عضو آزمائش کا شکار ہوتا ہے۔ مگر عقلمند وہ ہے جو نیند سے بیدار ہوجائے۔آئیے ماضی سے توبہ کریں اور نیکیاں کمائیں۔سایہ انسان کے ساتھ ہر وقت لگا رہتا ہے اور اس لیے انسان کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے۔یہاں سایہ پکار اٹھتا ہے کہ اب میں مزید تمہارے ساتھ نہیں چلنا چاہتا، تمہارے کاموں میں بظاہر چمک ہےمگر تمہارے اندر ریاکاری کا اندھیرا ہے۔ پھر سایہ اور انسان کے درمیان گفتگو شروع ہوتی ہے جس کا حاصل یہ ہے ریاکاری کی وجہ سے دل سیاہ ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ دروازہ ہے جس سے شیطان اندر آتا ہے اور آدمی کے عمل کو بگاڑ دیتا ہے داعئ اسلام کا ہر قدم بھی خلوص نیت سے بھرپور ہو تو باطل کی ہر طاقت پاش پاش ہو جائے گی۔سایہ درس دیتا ہے کہ اخلاص کے لئے خود کو آمادہ کرو کہیں عذاب کا سایہ جلا نہ ڈالے۔اور ساتھ ہی رحمت کے سائے کا تعارف دیتا ہے۔تنہائی میں برائی کا ارادہ کرتے دیکھ بدی بھی انسان کو خوف خدا دلاتے کہنے لگی کہ تنہائی میں گناہ کرنے سے خدا کے ساتھ خلق خدا سے بھی تعلق بگڑ جاتا ہے ۔ کیونکہ الله مومنوں کے دلوں میں اپنا غصہ ڈالتا ہے۔ اور تو اور نیکیاں کتنی ہی ہوں قیامت کے دن ایسے شخص کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔فکرمندی انسانی فطرت میں رچی بسی ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے کہ جس کے بغیر انسان سست اور نکما ہے۔فکرمندی سے گفتگو جب ہوتی ہے تو وہ درس دیتی ہے کہ الله دنیا اور آخرت کی فکر دل میں ایک ساتھ جمع نہیں کرتا۔ اگر کبھی دنیا کی فکر دل میں آبھی جائے تو اسے سب سے بڑی فکر نہ بنانا۔آخرت قبر سے شروع ہو کر جنت یا دوزخ پر ختم ہوتی ہے۔ موت کو یاد کرنا، آخرت کے بارے میں فکرمند رہنا اور جنت کےلیے مشتاق رہنا۔ زمین کی ہر بے جان چیز قیامت کے دن انسان کے سلسلے میں گواہی دے گی۔ اور مصنف اسی کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ابتدائی حصے کے آخر میں دیوار کو بھی سخن گویائی دیتے ہیں۔جس میں دیوار خلوت کے بارے میں درس دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی نازل ہونے سے پہلے غار حرا میں جایا کرتے تھے اور تنہائی میں عبادت کیا کرتے تھے۔ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہ الله کے ساتھ خلوت ہی ہے ۔ہمارے روحانی وجود کے لیے خلوت اور تنہائی بہت ضروری ہے۔ زمین کی مصروفیات، زندگی کے ہنگاموں، لوگوں کی فکروں سے خود کو کچھ وقت کے لئے کاٹ دینا اور اس بڑی کائنات اور اس کے آزاد حقائق پر غور و فکر کرنا اور ان سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لئے کچھ وقت فارغ کرنا ضروری ہے اس کے بعد روحانی وجود بہت عظیم ہو جاتا ہے اور قوت کا اک سر چشمہ حاصل ہوتا ہے جس کے استعمال سے صورت حال بدلی جاسکتی ہے۔ اس کتاب کے دوسرے حصے میں تحریک افزا مکالمے ہیں۔ جو تقریبا سات چیزوں سے ہیں۔ حوصلے ، قربانی، فتنہ، جمود، قلعہ ،پھول اور بادل سے۔ اس میں سب سے پہلے ابراہیم نوجوان سے ‘حوصلہ فون پر گفتگو کرتا ہے۔یہ حوصلہ اسلامی تحریک کے کارکنوں کا حوصلہ ہےجواب غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا ہے۔جس نے اپنا درد بانٹنے کے لیے ابراہیم کو فون کیا ہے ہے۔ یہ اپنی کمزوری کے دو قسم کے اسباب بیان کرتا ہے۔ داعی کی ذاتی شخصیت اور ماحول کس طرح داعیان اسلام کے جذبات کو ٹھنڈا کرتے ہیں، مختصر اور جامع انداز میں مصنف نے اسے قلمبند کیا ہے۔ چنندہ شجاع شخصیتوں کے بلند حوصلوں کی تصویر کشی بھی کی گئی ہے۔ قربانی کتابی لفظ کے ذریعے مخاطب ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں جان و مال لٹانے والے تو بہت ہیں مگر تحریک، کارکنان سے وقت کی قربانی چاہتی ہے۔جب وقت دینے کی باری آتی ہے اکثر کارکنان سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وقت کی قربانی دینے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اپنے ذاتی کام نہ کرنا اور صرف دعوت و اصلاح کے لیے خود کو صرف کرنا ہے اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ حد سے زیادہ آرام نہ کرنا اور مشن پر ہمیشہ نظر رکھنا۔ حسن اتفاق سے اس کتاب میں فتنہ بھی گفتگو کرتا ہوا پایا جاتا ہے۔ یہ ایک 60 سالہ عمر عمر تحریکی کارکن کے گھر تشریف لے جاتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ کس کس طرح اس پر حملہ کیا مگر ان کی نیت کے صاف ہونے کی وجہ سے وہ فتنوں سے محفوظ رہے ہیں اور کس طرح اس نے ان کے رفقاء کو اپنے جال میں پھنسایا۔ معلوم ہوا کہ جو اللہ سے تعلق مضبوط رکھتے ہیں وہ فتنوں سے بچ سکتے ہیں۔ اک داعئ حق کو راستے سے چلتے چلتے دو شخص جھگڑتے ہوئے دکھے۔ ایک کا نام جذبات اور دوسرے کا نام جمود تھا ۔ دونوں اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ داعیانِ حق کو بیزار بے ہمت کون کرتا ہے۔ داعی دونوں کو بات کرنے کا موقع دیتا ہے اس طرح ایک اچھی خاصی گفتگو چھڑ جاتی ہے۔ جمود کے اسباب ایمانی ،دعوتی اور نفسیاتی ہیں ‌۔ یہاں نفسیاتی اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ داعی بیماری کی وجہ سے مختلف اندیشے اور توہمات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔دنیاوی پیش کش بھی جمود طاری کرتی ہے۔ آسائشوں کی کثرت طبیعت کو سست بناتی ہے۔ جمود کی بات ہوتے ہی جذبات بھی اپنی کچھ باتیں رکھنا چاہتا ہے۔پھر عملی اقدامات سامنے آتےہیں کہ کس طرح جذبات کی انگیٹھی گرم کی جائے۔ ایک کارکن کا گزر قلعے سے ہوتا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ قلعہ اسلامی تحریک کی علامت ہے کیوں کہ تحریکی سفر میں کارکنوں نے پناہ گاہ کے طور پر اسے استعمال کیا ہے۔قلعے سے بات کرنے کے بعد چند اہم باتیں سامنے آتی ہیں۔اسلامی تحریک قلعے کی مانند ہے۔ داعی دین کو ناصرف یہاں پناہ ملتی ہے بلکہ زاد راہ، حوصلہ اور مدد بھی۔ یہ قلعہ ہمیشہ پس پشت رہتا ہے۔ مضبوطی اور استقامت پہنچاتا ہے۔ایک دلآویز گفتگو پھول سے بھی ہوئی ہے۔ کسی تحریکی کارکن کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے اور اسے خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب اسی کے جماعت کے دو کارکن آتے ہیں اور خون دے کر مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب اس کو ہوش آ جاتا ہے تو پھول کو وہ بات کرتا پاتا ہے۔ پھول محبت کا درس دیتا ہے۔ محبت ایک بہت خاص جذبہ ہے بہت ہی خوبصورت احساس ہے ۔ یہ احساس ہر مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لیے ہونا بہت ضروری ہے ۔ خصوصاً راہ حق کے مجاہدوں کے دلوں میں اپنائیت ہونی اشد ضروری ہے۔رشتے مضبوط ہوں گے، تعلقات استوار رہیں گے جبھی تو آپسی مشوروں اور باہمی تعلقات سے جماعت میں ہم آہنگی ہوگی۔ آخری مکالمہ بادل سے ہے۔عبدالله کو شدید گرمی میں ایک بادل ملتا ہے جو اس سے مقصد حیات پوچھتا ہے۔ اور وہ اس سے نمایاں ہدف کی امید کرتا ہے۔ مگر عبداللہ کو لوگوں سے ہٹ کر چلنا پسند نہیں۔پھر بادل اسے بتاتا ہے کیا صرف نسناس رہ گئے انسان نہیں۔ اور یہی نقطہ توجہ چاہتا ہے۔ نسناس سے مراد انسانی چہروں والے آدمی مگر حقیقت میں آدمی نہیں۔ بادل ماضی کی شخصیتوں کو یاد کرتا ہے کہ وہ کتنی انسانیت رکھتے تھے۔ موت کے بعد بھی دوستی کے حقوق بڑھ چڑھ کر ادا کرتے انہیں اسلام کی خاص لذت حاصل تھی۔ بادل یہی امید رکھتا ہے کہ اسلام دین حق کے راہی کو نیا وجود دے۔ اخلاق و کردار میں بلندی آئے۔سرگرمیوں کا معیار اونچا ہو جائے۔ افکار وخیالات بلندیوں پر پرواز کریں ۔ داعی دین ہر موسم میں متحرک رہے۔ بادل کی سی خوبیاں وہ عبداللہ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ بادل آسمان کی زینت ہے۔ مجاہدِ اسلام زمین کی زینت بن جائے بادل یہی چاہتا ہے۔ الغرض سارے مکالمات قرآنی آیات، احادیث، اقوال، قصوں سے نا صرف مزین ہے بلکہ ہر آن خوداحتسابی کی دعوت دیتے ہیں۔
وقت کی قربانی دینے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اپنے ذاتی کام نہ کرنا اور صرف دعوت و اصلاح کے لیے خود کو صرف کرنا کرنا ہے اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ حد سے زیادہ آرام نہ کرنا اور مشن پر ہمیشہ نظر رکھنا۔
اپریل ۲۰۲۱