تعلیم میں ترقی کا راز پنہاں ہے
تعلیم نہ صرف یہ کہ بہترین روزگار کے لیے، بلکہ ملک کی ترقی میں تعلیم یافتہ بیوروکریٹ شخص کا رول بہت اہمیت کاحامل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت ملک کی ترقی میں اسی وقت حصہ لے سکتے ہیں، جب وہ اعلی تعلیم کے زیور سے خود کو مزین کریں۔
ملک عزیز بھارت میں جہاں لڑکیوں کو تعلیم کی آزادی ملنے کی تاریخ پچاس سال پرانی بھی نہیں ہے، وہاں کوئی لڑکی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے ترقی کرے، تو یہ ملک کے لیے حوصلہ بلند کرنے والی بات ہے۔
پچھلے دنوں جامعہ ملیہ کی طالبات نے ریسرچ انٹرینس ایگزام میں اسکالرشپ حاصل کیا، خصوصا مسلم طالبات نے۔ وہیں آج انڈیا ٹومارو کی خوش آئند خبر نظر سے گزری کہ’’ممتاز‘‘ کوکرناٹک کی پہلی مسلم خاتون ڈسٹرکٹ جج بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
ضلع اڈوپی کی رہنے والی ممتاز نے کرناٹک ریاست سے جج بننے کے لیے عدالتی امتحانات میں شامل ہوئیں۔بنگلورو عدالتی امتحانات اس سال فروری، مارچ 2021 میں منعقد ہوئے، جس میں ممتاز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کرناٹک کی پہلی مسلم خاتون ڈسٹرکٹ جج بن کر قوم و ملت کا نام روشن کیا۔
ممتاز عبدالرحمن اور ملکی کی عطی جمّا کی بیٹی ہے۔ اس نے ڈسٹرکٹ جج بننے کے لیے امتحان میں کامیاب ہونے والے 12امیدواروں میں سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ اس نے اپنی اسکولی تعلیم منگلورو میں پونارور کے بھارت متھا ہائی اسکول سے مکمل کی اور یونیورسٹی سے قبل کی تعلیم کے لیے پومپئی کالج ، ایکالا گئی۔ اس نے ایل ایل بی(LLB) کی ڈگری ایس ڈی ایم لاء کالج(SDM Law College) منگلورو سے مکمل کی اور میسور سے قانون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔
اس نے قانون میں اپنے مستقبل کا آغاز سابق ایم ایل سی ایوان ڈی سوزا (MLC Ivan D’Souza) کے جونیئر کے طور پر کیا۔ اسے 2010 میں بھٹکل جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی) عدالت میں اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر (Assistant Public Prosecutor) کے طور پر مقرر کیا گیا۔ بعد میں اڈوپی جے ایم ایف سی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ 2018میں، اڈوپی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آفس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف پراسیکیوشن (ADP) کے طور پر اس کا درجہ بڑھایا گیا، فی الحال وہ اسی عہدے پر کام کر رہی ہیں۔
اعلی عہدے پر ایماندارانہ کردار پیش کرنے کی امید رکھتے ہوئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ممتاز کے سفر کا سرسری جائزہ ملک کی دیگر طالبات کے لیے سنگ میل بنے گا۔
۲۰۲۱ ستمبر