تعلیم یافتہ بھارت
کا خواب شرمندہ تعبیر کریں!

تحقیق کے مطابق کیرلا کے بعد دہلی میں خواندگی کی شرح 88.7 فیصد ہے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ کا87.6 فیصد، ہماچل پردیش کا86.6 فیصد اور آسام کا 85.9 فیصد ہے۔واضح رہے کہ خواندگی کی شرح 96.2 فیصد کے ساتھ کیرلہ ایک بار پھر ملک کی سب سے تعلیم یافتہ ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے۔

دنیا بھر میں 8 /ستمبر کو عالمی یوم خواندگی منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا سے جہالت کے اندھیرے دور کرکے آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور روشن مستقبل کی ضمانت دینا ہے۔ بہت سے ممالک میں ہر سال خواندگی کے فروغ کے عالمی دن کی مناسبت سے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اسکول نہیں جاپاتے اور تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کے مختلف علاقوں میں بھی کم شرح خواندگی کی ایک بڑی وجہ تعلیم اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی نہ ہونا اور ناقص تعلیمی نظام بھی ہے۔
شرح خواندگی بڑھانے کے لیے تعلیم بالغاں کی اشد ضرورت ہے۔
خواندہ افراد کی کارکردگی ہی ہر شعبے میں بہتر ہوتی ہے
بلاشبہ نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ پڑھے لکھے، صحت مند اور گوناگوں صلاحیتوں کے مالک ہوں تو وہ ملک کی اقتصادی ترقی میں ممد ومعاون ثابت ہوتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر وہ ناخواندہ، بیماریوں کا شکار اور صلاحیتوں سے عاری ہوں تو وہ قوم پر بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے اس حقیقت کو پاتے ہوئے تعلیم کو فروغ دیا، ملک سے ناخواندگی دور کرنے کو فوقیت دی اور اس کے لیے وسائل مختص کیے، وہ صنعتی اور زرعی اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔
تعلیم ہر قوم کے لیے کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ اگر ہم نے تعلیمی میدان میں خاطر خواہ ترقی نہیں کی تو نہ صرف یہ کہ ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ شاید ہمارا وجود ہی قائم نہ رہے۔ افسوس کہ ہم آج تک تعلیم کے میدان میں خاطر خواہ کام نہیں کر پائے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہماری حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ ہماری ترقی کا خواب اسی وقت پورا ہو گا جب ہمارا فوکس تعلیم پر ہو گا اور ہماری نوجوان نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہو گی۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں اسکول داخل نہ کروائے جانے والے بچوں کی شرح بہت زیادہ ہے، ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ بھی بڑھا ہوا ہے ۔ ان بچوں کو اسکول میں لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
وطن عزیز میں ہمیشہ سے ہمارے ارباب اختیار کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ انتہائی نچلے درجے پر رہا ہے۔ اب دیر آید درست آید کے مصداق صوبائی حکومتوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ کے لیے بجٹ میں ماضی کے مقابلے میں خاطر خواہ وسائل مختص کیے ہیں، جو حکومتی اعلانات دعووں اور وعدوں کی حد تک تو انتہائی پر کشش اور سحر انگیز دکھائی دیتے ہیں، مگر تعلیمی شعبہ میں انقلاب کے لیے ہمیں ان پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
ایک اندازے کے مطا بق ملکِ عزیزمیں غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے 90 فیصد بچے، چار سالا سکول جانے کے بعد بھی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے، جب کہ ملک میں ناخواندہ بالغوں کی تعداد تقریباً 29 کروڑ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تازہ ترین رپورٹ کےمطابق دنیا بھر میں ناخواندہ بالغوں کی کل تعداد کا 37 فیصد حصہ بھارت میں رہتا ہے۔ ادارے کے مطابق ملک میں آبادی کے تناسب سے خواندگی میں تو اضافہ ہوا ہے، لیکن آبادی بڑھنے کی وجہ سے ناخواندہ افراد کی مجموعی تعداد کم نہیں ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کے خوشحال طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں اب سو فیصد خواندگی ہے، لیکن غریب ترین طبقےکے لیے منزل ابھی دور ہے اوراندازے کے مطابق یہ ہدف2080 تک ہی حاصل ہونے کا امکان ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا کی ناخواندہ آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ صرف دس ملکوں میں رہتا ہے اور تعلیم کے خراب معیار کی وجہ سے بھارت میں 90 فیصد غریب بچے چار سال تک اسکول جاتے رہنے کے بعد بھی لکھ پڑھ نہیں پاتے۔ مزید برآں غریب ممالک میں صورتِ حال اتنی خراب ہے کہ ہر چار میں سے ایک بچہ ایک جملہ بھی نہیں پڑھ سکتا۔
ناخواندگی کی شرح ملک کے مختلف حصوں میں مختلف ہے، لیکن سب سے زیادہ ناخواندگی دیہات میں دیکھنے میں آتی ہے، جہاں اکثر عورتیں پڑھنا لکھنا نہیں جانتیں۔ شہروں میں اگرچہ بیداری کی نئی لہر دوڑ چکی ہے، لیکن ملک کا اہم حصہ یعنی دیہات اب بھی خواب غفلت میں محو ہیں۔ اگر ہم ترقی یافتہ قوموں کے حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھا اور خود احتسابی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے کبھی اپنی غلطیوں کو نہیں دوہرایا۔
ماہرین کے مطابق تعلیمی میدان میں ہماری ناکامیوں اور زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اساتذہ زیادہ تر غیر تدریسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ کبھی پولیو مہم، کبھی ڈینگی آگاہی مہم، کبھی امتحانات اور الیکشن میں ڈیوٹیاں یا پھر کوئی اور سرکاری کام، جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی بری طرح متأثر ہو تی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو کسی بھی غیر تدریسی عمل میں شریک کرنے کے بجائے ان کاموں کے لیے الگ سے بھرتیاں کی جائیں تا کہ اساتذہ اپنے کام پر پوری توجہ دے سکیں، ورنہ ہمارا معیار تعلیم پست سے پست ہو تا چلا جائے گا۔
مغربی ممالک کی اقتصادی میدان میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ناخواندگی کا قلع قمع کر دیا۔ ان ممالک میں کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور کارخانوں میں کام کرنے والے کاری گر سب تعلیم یافتہ ہیں۔ ایسے افراد جو بچپن میں کسی وجہ سے اسکولوں سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے، انہیں ضروری تعلیم دے کر معاشرے کے مفید افراد بنانا تعلیم بالغاں کہلاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم بالغاں کی بدولت خواندگی کی شرح کو سو فیصد تک کر لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہیں۔ تعلیم بالغاں کی بدولت افراد کو ضروری تصورات کی تفہیم کے ساتھ مختلف فنون سکھائے جاتے ہیں تا کہ وہ کار آمد افراد بن کر ملک وقوم کے لیے مفید بن سکیں۔ ان پڑھ بالغ افراد کو تعلیم دینا کہ وہ اپنے کھیتوں کو سرسبز بنا سکیں یا کارخانوں میں بہتر کاریگر ثابت ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بالغ شخص کو تعلیم دینا دولت اور محنت کا ضیاع نہیں ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹی عمر کے ان تمام بچوں کو جو کسی وجہ سے اسکول نہیں جا رہے ہیں، ان کا داخلہ یقینی بنانے کے ساتھ ایسے والدین جو بچوں کو اسکول نہیں بھیج رہے، کی نشاندہی کر کے ان کا تعلیم کا شعور بیدار جائے۔ میٹرک تک تعلیم نہ صرف بالکل مفت ہو بلکہ غریب بچوں کو وظائف، جوتے اورکپڑے وغیرہ بھی دیے جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ بالغ افراد کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جائے تا کہ ایسے افراد جو بچپن میں کسی بھی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکے، تعلیم کی بدولت کار آمد افراد بن سکیں۔
ماضی میں ہم نے تعلیم بالغاں کی طرف کچھ خاص توجہ نہیں دی۔ اگرچہ اس کے لیے سفارشات تو بہت پیش کی گئیں ، لیکن ان سفارشات کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح کم ہی رہی۔ تعلیمِ بالغاں کے لیے جامع اور مکمل درسی مواد وسیع پیمانے پر ترتیب دینا اور تیار کرنا ضروری ہے۔ تعلیم بالغاں معاشرتی استحکام پیدا کرنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے اور ملک کے ان پڑھ باشندوں کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ پورے وثوق سے اپنی شہری ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو سکیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ہر شہر اور دیہات میں خواندگی کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے۔ ملک کے تمام مدارس، فیکٹریوں، زرعی فارموں، یونین کونسلوں اور دیگر معاشرتی اداروں میں تعلیمِ بالغاں کے مراکز کھولے جائیں اور روایتی طریقہ ہائے تدریس کے ساتھ ساتھ جدید رجحانات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ جیسے ٹی وی، ریڈیو، نمائش، سیمینار، چارٹ، ماڈل اور پوسٹرز وغیرہ۔ تعلیم ِبالغاں کے ان مراکز کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کی سلیکشن کی جائے اور انہیں ابتدائی تربیت دی جائے۔ تعلیم بالغاں کے پروگرام میں فیکٹریوں کے مزدوروں، دیہی علاقوں کے کسانوں، کاریگروں اور دیگر بالغ افراد جنہوں نے اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی، شامل کیا جائے تاکہ وہ کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔ خاص طور پر خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنا از حد ضروری ہے تا کہ وہ بہتر انداز میں گھریلو زندگی گزار سکیں۔ تعلیمِ بالغاں کے فروغ کے دوران کچھ مسائل درپیش آسکتے ہیں کیوں کہ بالغ افراد کو تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنا مشکل امر ہے۔ اکثر افراد کا پہلا اعتراض یہی ہو گا کہ ہماری پڑھنے کی عمر اب کہاں رہی ہے، ہمارے اوپر ذمہ داریاں بہت ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچے کے گھر اور اسکول کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔ وہ جو زبان اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے بولتاہے، اسی زبان میں اسکول میں لکھتا، پڑھتا اور سیکھتا ہے۔ یہ طرز عمل اسے آگے بڑھنے اور خود اعتمادی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ وہ بنا ہچکچاہٹ اپنی زبان میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔وہ پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی بہتر ہوتا ہے اور اپنے علم و تجربہ کو اپنی آئندہ نسل میں منتقل کردیتا ہے، جب کہ دیگر ترقی پذیر ممالک میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ بچے کو مادری زبان کے بجائے انگریزی زبان میں پڑھانے یا سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بہر حال ان تمام مسائل کوبہت حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔ جیسے انہیں اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ پڑھائی کے بعد نہ صرف وہ اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کر سکتے ہیں، بلکہ بڑھاپے یا جوانی میں کسی پر بوجھ بھی نہیں بنیں گے۔ اگر بالغوں کی تعلیم کے لیے بہتر ماحول پیدا کیاجائے اور انہیں ایسی چیزیں پڑھائی جائیں، جن کا ان کی زندگی کے ساتھ براہ راست واسطہ ہو تو وہ یقیناً اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ جس طرح حکومت نے سرکاری سکولوں میں کتابیں اور کاپیاں مفت فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے، اسی طرح حکومت کو تعلیم بالغاں کے لیے بھی ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگ صرف اس لیے تعلیم حاصل نہیں کرتے کہ گھر کاگزر بسر کیسے ہو۔ لہٰذا مفت کتابیں، کاپیاں اور تعلیم ان کی اس مشکل کو نہ صرف کم کر سکتی ہے بلکہ کافی حد تک ختم بھی کر سکتی ہے۔
تعلیم بالغاں سے مراد صرف نا خواندہ لوگوں کو اس حد تک خواندہ بنانا نہیں کہ وہ محض دستخط کرنا سیکھ جائیں ،بلکہ اس کے ذریعے نا خواندہ لوگوں اور بالخصوص دیہی آبادی کی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنا ہے۔ مثلاً اس میں ان کی تعلیم، صحت، طرز رہائش، عام رسم و رواج، اقتصادی اور مالی حالت کو بہتر بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔
فجی(Fiji)میں 3سے5سال تک کے بچوں پر ان کے گھروں اور کمیونٹیز میں تحقیق کی گئی، تحقیق کے نتائج میں کہا گیا کہ بچے مختلف میڈیا کے ذریعے اپنے گھروں اور کمیونٹیز میں جو کچھ سیکھتے ہیں، اس کے ان کی خواندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف اَپلائیڈ اکنامکس اینڈ سوشل ریسرچ کے نتائج بھی اسی سے ملتے جُلتے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں کو باقاعدگی سے گھر میں کتاب پڑھ کر سُنانے کی عادت انھیں اسکول جانے پر زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگر ہم تعلیمی نقطۂ نگاہ سے دنیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو ہمیں فن لینڈ آئیڈیل دکھائی دیتاہے۔ اس ملک میں اساتذہ کی تعیناتی کا نظام اتنا دشوار اور مقابلے پر مبنی ہے کہ اگر دس افراد بطور ٹیچر اپنی خدمات دینے کے لیے درخواست دیں تو ان میں سے صرف ایک ہی منتخب ہو کر تدریس کے شعبے میں داخل ہوسکتا ہے۔ان کے انتخاب کے مرحلےمیںان کے تعلیمی ریکارڈز کے ساتھ ساتھ ان کی غیرنصابی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتاہے ۔ ان کی نہ صرف تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو پرکھا جاتاہے، بلکہ مخصوص مدت تک ان کوایک کلاس روم میںاپنی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار بھی کرنا ہوتا ہے۔ تب کہیں جا کر ان کو معلم یا معلمہ کے طور پر منتخب کیا جاتاہے۔
اس ماڈل کو سامنے رکھیں تو نہ صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی تدریس کا معیار کسمپرسی کا شکار ہے۔ جب اساتذہ ہی قابل اور لائق نہیں ہوں گے ، تو بچوں کا کیا تعلیم دے پائیں گے؟ اور ایسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکول کے اندر لانے کی پالیسی اور نئے اسکولوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور ان کے انتخاب کے حوالے سے بھی انقلابی اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں خواندگی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوسکے۔
گزشتہ سال ایک خوش آئند خبر یہ بھی آئی ہے کہ :
’’ دہلی نے ملک میں خواندگی کی شرح میں دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی پر نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم نے اپنی حکومت کی تعلیمی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔ اس کامیابی کے بارے میں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کے ذریعے معلومات فراہم کی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ دہلی نے شرح خواندگی کے لحاظ سے ملک میں دوسرے نمبر پر جگہ بنا لیا ہے۔ دہلی کی تعلیمی ٹیم کو مبارکباد۔ ہم 100فیصد تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ تناؤ کو کم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ہر گھنٹے ایک خودکشی ناقابل قبول ہے۔تحقیق کے مطابق کیرلا کے بعد دہلی میں خواندگی کی شرح 88.7 فیصد ہے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ کا87.6 فیصد، ہماچل پردیش کا86.6 فیصد اور آسام کا 85.9 فیصد ہے۔واضح رہے کہ خواندگی کی شرح 96.2 فیصد کے ساتھ کیرلہ ایک بار پھر ملک کی سب سے تعلیم یافتہ ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے، جب کہ آندھرا پردیش 66.4 فیصد خواندگی کی شرح میں سب سے آخری مقام پر ہے۔وہیں راجستھان خواندگی کی شرح 69.7 فیصد کے ساتھ دوسری سب سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاست بن گئی ہے۔بہار کی شرح خواندگی 70.9 فیصد ، تلنگانہ میں 72.8 فیصد، اتر پردیش میں 73 فیصد اور مدھیہ پردیش میں 73.7 فیصد ہے۔ یہ معلومات این ایس او کے سروے کی بنیاد پر جاری کی گئی رپورٹ میں دی گئی ہیں۔‘‘
آئیے، ہم سب مل کر اپنی قوم و ملک سے ناخواندگی کو دور کرنے کے لیے جد و جہد کریں اور ملک و ملت کی ترقی پر گامزن ہوں۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچے کے گھر اور اسکول کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔ وہ جو زبان اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے بولتاہے، اسی زبان میں اسکول میں لکھتا، پڑھتا اور سیکھتا ہے۔ یہ طرز عمل اسے آگے بڑھنے اور خود اعتمادی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ وہ بنا ہچکچاہٹ اپنی زبان میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔وہ پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی بہتر ہوتا ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

۲۰۲۱ ستمبر