تعمیر اور تخریب میں امتیاز

تخریب شور و ہنگامہ بپاکرتی ہے اور تعمیر سنجیدگی سے انجام پاتی ہےبربادی توڑ پھوڑ اور فساد کریہہ شور و ہنگامہ کے ساتھ انجام پاتے ہیں ۔
تعمیر کا عمل سنجیدگی متانت مستقل مزاجی اور قربانیوں کا متقاضی ہوتا ہے ۔
درخت کا بیج اپنے آپ کو ذمین میں دبا کراور جڑیں گہرائی میں پیوست ہوکر درخت کی نشونما کرتی ہیں پتے اور تنا غذا فراہم کرتے ہیں۔
لمبے عرصے تک یہ خاموش سرگرمیاں اور قربانیاں جاری رہتی ہیں نتیجتا پھل اور پھول دینے والا سایہ دار درخت وجود میں آتا ہے تخریب کا عمل یک لخت ہوتا ہے تعمیر صبر اور برداشت سے واقع ہوتی ہے۔
1945میں امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم برسائے دھماکے کئے اور بھیانک تباہی مچائی ۔ایک لمحے میں جاپان کے دو بڑے علاقے تباہ و برباد ہوگئے بظاہر امریکہ اسکو فتح سمجھتا تھا لیکن اسکا یہ عمل تاریخ میں ظلم کے نام سے یاد کیا جاتا رہا مہذب دنیا اس ظلم کی ملامت کرتی رہی وہیں جاپان نے اس بربادی کے بعد تعمیر کا عزم کیا ور سخت محنت وجانفشانی سے تعلیم اور ٹکنالوجی میں ترقی کے لئے خاموش جدوجہد جاری رکھی ایک وقت آیا جب جاپان بغیر کسی تخریب کے فاتح اقوام میں جانا جانے لگا بلکہ ترقی کی دوڑ میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔
رکاوٹوں کے باوجود منصوبہ کی تکمیل کے لئے ثابت قدمی سے محنت جاری رکھیں تو ہی ترقی ممکن ہے ۔
نکتہ :کسی کہ خلاف تخریب کاری خود اپنی تخریب ہوتی ہے دوسروں کو نقصان پہنچانے والا اپنے نقصان کا مؤجب بنتا ہے۔
ٹھوس اور دیرپا تعمیر صبر آزماانتظار اور خاموش انتھک محنت سے حاصل ہوتی ہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ۲۰۲۱