تقسیم وراثت کا مسئلہ

سوال: وراثت کا مال و جائیداد عموماً جس کے قبضے اور اختیار میں ہوتی ہے وہ برسہا برس تک اسے اپنے تصرف میں رکھتا ہے اور دیگر ورثاء میں سے بعض احتراماً خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور بعض کچھ وقت گزرنے کے بعد دبے الفاظ میں اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح کئی برس کے بعد طوعاً و کرہاً وراثت کی تقسیم عمل میں آتی ہے۔
یہ رویہ    شریعت  کی نظر میں کیسا ہے ؟
جواب: کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے مال و اسباب اور تمام مملوکہ چیزوں کی اس کے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کو ’وراثت‘ کہتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِّلرِّجَالِ نَصیِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ نَصِیْباً مَّفْرُوضاً ( النساء :۷)

’’ مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو،خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ ( اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔‘‘ اس آیت سے متعدد باتیں مستنبط ہوتی ہیں جن میں سے تین اہم ہیں: اوّل یہ کہ مال ِ وراثت میں صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں ، بلکہ عورتوں کا بھی حصہ ہے۔ دوم یہ کہ مال ِ وراثت کو ہر حال میں تقسیم ہونا چاہیے ، خواہ وہ کتنا بھی کم ہو۔ سوم یہ کہ مستحقین ِ وراثت کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق تقسیم اختیاری اور ترغیبی نہیں، بلکہ فرض ہے، جس کی ادائیگی میں کوتاہی پر آدمی گناہ گار ہوگا اور روزِ قیامت اس کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ درج بالا آیت کے بعد مزید کئی آیات میں تقسیم ِ وراثت پر ابھارا گیا ہے، نفسیاتی طور پر اس کی ترغیب دی گئی ہے اور جو لوگ اس سے پہلو تہی کرتے ہیں ان کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ آیت نمبر ۸ میں کہا گیا ہے کہ تقسیم کے موقع پر خاندان کے دوسرے لوگ، یتیم اور مسکین آجائیں ، جن کا وراثت میں حصہ نہ ہو تو انہیں بھی کچھ دے دو۔ آیت نمبر ۹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر خود ان کا انتقال ہو جائے ، جس کے بعد کوئی ان کے مال پر قبضہ کرلے اور ان کے بچوں کو محروم کردے تو انہیں کیسا لگے گا؟ اسی طرح انہیں بھی دوسرے مستحقین کو محروم نہیں کرنا چاہیے۔آیت نمبر ۱۰ میں یہ وعید سنائی گئی ہے کہ جو لوگ ظالمانہ طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ آگ کے انگاروں سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ آیات نمبر ۱۱۔۱۲ میں وراثت کے احکام اور مستحقین کے حصوں کا بیان ہے۔ اس کے بعد آیات نمبر ۱۳۔۱۴ میں پھر تقسیم ِ وراثت کے پس منظر میں عمومی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اوران باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کام یابی ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا ،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے مال ِ وراثت کی تقسیم مستحقین کے درمیان جلد از جلد ہونی چاہیے۔ سماج کے رواج یا لالچ کی بنا پر اس میں تاخیر کرنا درست نہیں۔ میّت کا مال اور جائیداد جس شخص کے قبضے اور اختیار میں ہو وہ اسے تقسیم نہ کرے یا اس میں تاخیر کرے اور عرصہ تک اسے اپنے تصرف میں رکھے تو گناہ گار ہوگا اور ان وعیدوں کا مستحق ٹھہرے گا جن کا تذکرہ آیات ِ بالا میں کیا گیا ہے۔
جون ۲۰۲۱