جامعہ کی طالبات وزیراعظم فیلوشپ سے سرفراز

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لئے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ان کے چھ محققین یعنی رسرچ اسکالرز کو دسمبر 2020کی ڈرائیو کے لیٹرل انٹری اسکیم کے تحت پرائم منسٹر ریسرچ فیلوشپ (پی ایم آر ایف) سے نوازا گیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان چھ کامیاب طلباء میں پانچ خواتین ہیں۔ جن کے نام ہیں:
عالیہ طیب (بیسک سائنس انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر)
مومنہ (سول انجینیئرنگ ڈپارٹمنٹ)
فوزیہ تبسم (سول انجینیئرنگ ڈپارمنٹ)
عذرا ملِک (الیکٹریکل انجینیئرنگ ڈپارٹمنٹ)
عاشی سیف (سینٹر فار فیزیو تھیریپی اینڈ ریہیبلیشن سائنس سینٹر)
ان ریسرچ اسکالرز کو پہلے دو سالوں کے لیے 70000روپے، تیسرے سال کے لیے 75000روپے، چوتھے اور پانچویں سال کے لیے بالترتیب 80000روپے کی فیلوشپ ملے گی۔ علاوہ ازیں تمام کو فیلو شپ پی ایم آر ایف کے تحت سالانہ دو لاکھ روپیے (پانچ سال کے لیے کل 10لاکھ روپے) کا ریسرچ گرانٹ ملے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مئی 2020کی لیٹرل اینٹری اسکیم کے تحت، نینو سائنس اینڈ نینو ٹیکنالوجی سینٹر (سی این این) سے ماریہ خان اور آبگینہ شبیر کو فیلوشپ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
یہ کامیابی جامعہ کے ساتھ ہندوستان کی تمام مسلم خواتین کے لئے باعث رشک و تقلید ہے۔ جہاں ایک جانب میڈیا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلم معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم پر اتنی خاص توجہ نہیں دی جاتی ،وہاں ایسی محنتی لڑکیاں یقینا ہم سب کے لئے ایک مثال قائم کررہی ہیں۔یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکے کی بہ نسبت لڑکی کی اعلی تعلیم کو لوگ ضروری نہیں سمجھتے اور انہیں گریجویشن یا زیادہ سے زیادہ پوسٹ گریجویشن تک کی تعلیم ہی دلواتے ہیں۔ لیکن جامعہ کی ان پانچ لڑکیوں کی طرح مزید کئی ایسی لڑکیاں ہیں جو ثابت کررہی ہیں کہ وہ امورخانہ داری کے ساتھ ہر میدان میں اپنے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت متوسط طبقے کی ہے جہاں عموما لڑکیوں کی اعلی تعلیم سے زیادہ ان کے جہیز کی فکر کی جاتی ہے۔ بیشتر والدین سوچتے ہیں کہ بیٹیوں کو شادی کے بعد امورخانہ میں ہی خود کو مصروف رکھنا چاہئے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ شوہر اور والدین کی ذرا سی سپورٹ حاصل ہونے سے یہ لڑکیاں آسمان سر کرسکتی ہیں۔ ان کے نازک پروں کو اگر شوہر اور والدین کی حمایت کی مضبوطی حاصل ہوجائے تو یہ اپنی پرواز سے ہواؤں کو تسخیر کرلیں۔ عالیہ طیب نے کہا کہ:
’’لگن اور اعتماد نے انہیں یہ فیلو شپ حاصل کرنے کی ترغیب دی۔اور یہ ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘‘
عالیہ طیب کی تحقیق کینسر دبانے والی دواؤں پر جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ’’اس وبا کی وجہ سے میں نے محسوس کیا کہ تحقیق نہایت ضروری ہے،خاص طور پر چونکہ ہم وائرس پر تحقیق کررہے ہیں،ہمیں اس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ آخرکار معاشرے میں ہماری مدد کرتا ہے۔‘‘
عالیہ نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران تحقیق کرنابہت مشکل تھا۔لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ خاندان کا تعاون ان کے لئے بہت اہم رہا۔ ’’اپنے شوہر اور والدین کی حمایت سے میں یہ باوقار اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔فیلو شپ حاصل کرنے والے چھ ساتھیوں میں پانچ خواتین ہیں اور یہ حقیقت دوسری لڑکیوں کو تحقیق کے میدان میں آگے آنے کی ترغیب دے گی۔‘‘
سول انجینیرنگ کی ریسرچ اسکالر مومنہ کہتی ہیں:
’’ اس فیلوشپ کو حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ وبا کے باوجود میں ۸۰ فیصد اسکور حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ساتھ ہی میں مختلف چیزیں شائع کروانے میں بھی کامیاب ہوئی۔‘‘
ان کا بھی یہ ماننا ہے کہ’’جامعہ کی پانچ خواتین کا یہ فیلوشپ حاصل کرنا ایک خوش آئند قدم ہے جس سے مزید لڑکیوں کی آگے بڑھنے میں حوصلہ افزائی ہوگی۔‘‘
آج وقت تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے اور وقت کے ساتھ ترجیحات بھی تبدیل ہوگئی ہیں۔ اب بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اپنا فخر تسلیم کیجئے۔ ان کے جہیز سے زیادہ ان کی اعلی تعلیم کی فکر کیجئے۔انہیں دین اور دنیا کے درمیان توازن رکھنا سکھائیے۔ انہیں کھلا آسمان دیجئے جہاں وہ کھل کر پرواز کرسکیں اور اپنے والدین کے ساتھ ملک و قوم کا نام روشن کرسکیں۔

جولائی ۲۰۲۱