جب زندگی شروع ہوگی: ادب اسلامی کا نیا نمائندہ
ادب اور مذہب زندگی کے وہ دو گوشے ہیں جن کے بغیر کارخانۂ حیات کی سرگرمیاں ادھوری ہیں۔ ابتدا میں ان دونوں کو مختلف دائروں میں رکھا گیا لیکن پھر آہستہ آہستہ مذہب نے ادب کے دائرے میں قدم رکھا اور اس میں ہم آہنگ ہونے کی کوشش شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں مختلف اقوام میں مذہبی ادب کی بنیاد پڑی۔ مغربی ادب میں والٹئیر کا ناول کینڈڈ candide اس کی بہترین مثال ہے۔
اردو میں مذہبی ناولوں کی ابتدا ڈپٹی نذیر احمد سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے معاشرے کی اصلاح کی غرض سے مذہب کو ادب میں شامل کرکے پندونصائح سے بھرپور ناول لکھے۔ بعد ازاں اردو میں باقاعدہ ادب اسلامی کی تحریک بھی چلائی گئی جو فکشن کے میدان میں زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ قاری ذوق کی تسکین اور حس لطافت کی سیرابی کی غرض سے فکشن پڑھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا وہ اس میں براہ راست کوئی نصیحت یا وعظ پڑھنا پسند نہیں کرتا۔
عبدالحلیم شرر نے اس ضمن میں کئی ناول لکھے لیکن وہ سب کے سب تاریخی ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے بھی فحاشی سے یکسر پرہیز کرتے ہوئے بہترین ناول لکھے لیکن ان کے ہاں بھی اسلامی اقدار کے فروغ کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ عربی میں نجیب کیلانی ہیں جن کے ڈرامے اور کہانیاں اسلامی ادب کی کامیاب نمائندگی کرتے ہیں۔لیکن ایسے ادیب بہت کم ہیں۔
فکشن میں ادب اور مذہب کا اشتراک کرتے ہوئے اس بات کا خاص دھیان رکھنا ہوتا ہے کہ تخلیق میں فن کے تمام عناصر بدرجہ اتم موجود ہوں۔ پلاٹ، کردار، مکالمے، منظرنگاری، جذبات نگاری، جزئیات نگاری، اسلوب یعنی زبان و بیان اور خارجی جمالیات یعنی تشبیہ،استعاہ،علامت،روزمرہ،محاورات غرضیکہ ہر معیار اپنی درست جگہ پہ بخوبی استعمال ہو۔ اس میں زاہد کی خشکی اور عالم کی رہنمائی کے بجائے دوست کی نرمی اور تخلیق کار کی لطافت موجود ہو۔چونکہ جمالیات کے بغیر فکشن کی تخلیق ناممکن ہے اور اسلامی ادب میں خدا،انسان اور کائنات کا احساس داخلی جمالیات کی حیثیت رکھتا ہے لہذا ان دونوں کے اشتراک کے بغیر اسلامی ادب تخلیق نہیں ہوسکتا۔
زیر نظر ناول’ جب زندگی شروع ہوگی‘ کے مصنف ابویحیٰی کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے۔ ان کی تخلیقات میں قرآن و حدیث کے ساتھ اسلامی فلسفہ حیات اور اخلاقیات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔فکری طور پر وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی،ابوالحسن ندوی،امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد سے متاثر نظر آتے ہیں۔
ناول کی کہانی کا مرکزی کردار عبداللہ ہے جس کے گرد پورے ناول کی کہانی گھومتی ہے۔عبداللہ ایک نیک اور باشرع انسان ہے جس نے ساری زندگی دین کی تبلیغ و ترویج میں گذار دی۔ قصے کی شروعات اس لمحے سے ہوتی ہے جب صور پھونک دیا گیا ہے اور قیامت برپا ہوچکی ہے۔ چہار جانب افراتفری کا عالم ہے۔ایسے میں عالم برزخ میں عبداللہ کی ملاقات صالح نامی ایک فرشتے سے ہوتی ہے جو ناول کے اخیر تک اس کے ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے۔ ضمنی کرداروں میں عبداللہ کے اہل خانہ اور اس کے کئی واقف کار اور شناسا اپنی موجودگی درج کرواتے ہیں۔
ناول کے عنوان کے مطابق اس میں اس زندگی کے تمام مراحل اور احوال لکھے گئے ہیں جو اس فانی دنیا کے اختتام کے بعد شروع ہوگی۔وہ زندگی جسے بقائے دوام حاصل ہے۔یعنی موت کے بعد ’جب زندگی شروع ہوگی‘۔ عموما ہمارے ہاں ادیبوں نے موت کو ایک نہایت تکلیف دہ اور ڈراؤنے عمل کے طور پہ متعارف کروایا گیا ہے جبکہ قبر اور قیامت کے حوالے سے سزا و مشکلات کی اتنی طویل فہرست ہے جسے پڑھ کر عام انسان دہل جاتا ہے اور موت سے بدکنے لگتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت موت کے بعد کی زندگی میں جو نعمتیں ملنے والی ہیں اگر اس کا دس فیصد بھی مثبت طریقے سے بتایا جائے تو مومن شخص مرنے کے لئے بیتاب ہوجائے۔لیکن ہمارے ہاں ’مرنے کے بعد کیا ہوگا‘اور ’قبر کا عذاب‘ جیسی کتب بچوں کو تھما کر انہیں بچپن سے ہی روز حشر اور آخرت سے اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ وہ ان موضوعات پر بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔
ابو یحیٰی نے ناول کے پیرایے میں موت کے بعد کی زندگی کا بیان اتنے دلفریب انداز میں کیا ہے کہ دل بے ساختہ نیک اعمال کرنے کو بے قرار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے اخروی نعمتوں اور آسائشوں کو نہایت خوبصورتی سے قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ دوزخ اور سزا کا بھی ذکر کرتے ہیں لیکن اس نرم طریقے سے کہ انسان خوفزدہ ہونے کے بجائے اس پہ غور کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔یہاں ایک آسان فارمولہ ہے۔اچھے اعمال،اچھا نتیجہ۔برے اعمال،برا نتیجہ۔
ناول کی زبان نہایت آسان،دلچسپ اور شستہ ہے۔ اسلوب کی روانی اور سلاست کی وجہ سے یہ ہرعمر کے قاری کے لئے باعث کشش ہے۔ابو یحیٰی نے کہیں بھی وعظ یا پند کا لہجہ اختیار نہیں کیا بلکہ عمل اور نتیجے کے اصول کو مدنظر لکھتے ہوئے یکے بعد دیگرے تمام مناظر ترتیب دئیے ہیں۔ تکالیف کا ذکر بھی کیا ہے اور انعامات کا بھی۔ جنت اور حور کے ذکر پہ بھی وہ کہیں تلذذ پسندی کا شکار نہیں ہوئے بلکہ جمالیات کا استعمال کرتے ہوئے نہایت دلفریب انداز میں سراپانگاری کی ہے۔
ناول میں منظر نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔جن میں روز قیامت،روز محشر،برزخ،حساب کتاب،فیصلہ اور جنت و دوزخ کی منظرنگاری تفصیل سے کی گئی ہے۔ ایک منظر ملاحظہ ہو:
’’اگرچہ میں پہلے بھی جام کوثر پی چکا تھا مگر اس ماحول میں پینے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔باہر محشر میں سخت اور چلچلاتی دھوپ تھی مگر یہاں شام کے جھٹپٹے کا منظر تھا۔ٹھنڈی،خنک اور سبک ہوا چل رہی تھی۔بالکل سورج ڈوبنے سے پہلے کا سماں محسوس ہوتا تھا۔سفید آسمان پر شفیق کی سی لالی چھائی ہوئی تھی۔یہ شفق کہیں گہری سرخ تھی،کہیں نارنجی اور کہیں زرد۔آسمان کے یہ رنگ جھیل کے سفید پانی پر اپنا عکس یوں پھیلائے ہوئے تھے کہ گویا کوئی گوری چٹی دوشیزہ سر پر رنگ برنگا دوپٹہ پھیلائے ہوئے ہو۔‘‘(ص 151)
ناول نگار کا کمال یہ ہے کہ موضوع کی سختی کے باوجود انہوں نے پیرایہ بیان اتنا لطیف استعمال کیا ہے کہ ناول نہایت سبک اور دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں رومان اور مزاح کے عناصر اسے ایک مکمل ادبی تخلیق بناتے ہیں۔ساتھ ہی سسپنس بھی موجود ہے جو قاری کو ناول کے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔مجھے لگتا ہے ہر شخص کو کم از کم ایک بار یہ ناول ضرور پڑھنا چاہئے تاکہ قیامت اور آخرت کے متعلق اس کے کئی سوالوں کے جوابات اسے مل سکیں۔ وہ جوابات جن کو پڑھنے کے بعد ہر شخص اپنی زندگی اور اعمال پر غور کرنے پہ مجبور ہوجاتا ہے۔
ابو یحییٰ نے ناول کے پیرایے میں موت کے بعد کی زندگی کا بیان اتنے دلفریب انداز میں کیا ہے کہ دل بے ساختہ نیک اعمال کرنے کو بے قرار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے اخروی نعمتوں اور آسائشوں کو نہایت خوبصورتی سے قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ دوزخ اور سزا کا بھی ذکر کرتے ہیں لیکن اس نرم طریقے سے کہ انسان خوفزدہ ہونے کے بجائے اس پہ غور کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔یہاں ایک آسان فارمولہ ہے۔ اچھے اعمال،اچھا نتیجہ۔ برے اعمال،برا نتیجہ۔

ویڈیو :

آڈیو:

جون ۲۰۲۱