جمہوریت محاصرے میں

امریکی تھنک ٹینک فریڈم ہاؤس نے سال 2020 کے حالات کا جائزہ لے کر 3 مارچ 2021 کو ‘جمہوریت محاصرے میںنام سے رپورٹ جاری کی ہے۔سال 2020 اپنے ساتھ کووڈ ١٩ کی سوغات لے کر نمودار ہوا تھا، جس سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر کی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا طریقہ اختیار کیا۔رپورٹ کہتی ہے کہ وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر کی حکومتوں کے ردعمل نے جمہوریت کے ستونوں کو کمزور کیا ہے۔حکومتوں نے لاک ڈاؤن کو انتخابات ٹالنے، سیاسی مخالفین پر بے جا پابندیاں عائد کرنے،قانون سازی جیسے اہم کاموں کو روکنے کے لئے اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کیا ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران کچھ ممالک میں اقلیتی طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کی کہانی مزید گہری ہوئی ہے۔ مثلاً بھارت اور سری لنکا میں مسلمانوں کو وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھرایا گیا۔ان ممالک میں جہاں جمہوری اداروں کی حالت پہلے ہی نازک تھی، دائیں بازو گروپ نے وبائی بیماری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وبائی بیماری کو حکومت مخالف احتجاجات کو کچلنے کے لئے استعمال کیا۔رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد سے بھی کچھ کم حصہ آزاد ممالک میں آباد ہے وہیں بقیہ تقریباً 80 فیصد آبادی غیر آزاد یا جزوی طور پر آزاد ممالک میں جی رہی ہے۔ یہ 1990 کے بعد کا سب سے چھوٹا تناسب ہے۔جن ممالک نے 2020 میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا کیا ان کے اسکور میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔
فریڈم ہاؤس ادارہ سیاسی حقوق کو 40 فیصد اہمیت دیتا ہے، بقیہ 60 فیصد شہری آزادی کے لیے مختص ہے۔ شہری آزادی میں اظہارِ رائے کی آزادی، عقیدہ کی آزادی، تنظیمی حقوق، قانون کی حکمرانی، ذاتی خود مختاری، انفرادی حقوق کو شامل کیا جاتا ہے۔شام، جنوبی سوڈان، ترکمانستان، سعودی عرب، سومالیہ، تاجکستان، چین، لیبیا، سب سے کم اسکور حاصل کرنے والے ممالک ہیں، وہیں فنلینڈ، ناروے، سویڈن، سب سے زیادہ اسکور حاصل کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔رپورٹ بتاتی ہے کہ قرنطینہ کے دوران بری معاشی حالت اور بیماری سے جوجھ رہے طبقات کی پسماندگی میں اضافہ ہوا ہے۔تمام‌ہی جمہوریتوں میں اظہارِ رائے کی آزادی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے، ظالمانہ حراستیں، آزاد صحافیوں کے خلاف غیر قانونی گرفتاریوں کا گراف بڑھتا ہی جا رہا ہے۔وطنِ عزیز پچھلے سال کے مقابلے میں چار پائیدان نیچے ہے، مجموعی اسکور71 ہے، سال 2020 اور 2019 میں یہی اسکور 75 ہوا کرتا تھا، تو سال 2018 میں 77۔
ہم نے سیاسی حقوق کے معاملے میں 40 میں سے 34 تو شہری آزادی کے سلسلے میں 60 میں سے صرف 38 پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔ احتجاجیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، صحافیوں کی گرفتاری، غیر مرتب لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجر مزدوروں پر آئی آفت، مسلمانوں کو وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینا، لوجہاد کی بنیاد پر غیر آئینی قوانین، کشمیر اور دہلی بارڈر پر انٹرنیٹ سروس بند کرنے، میڈیا کی آزادی کا زوال پذیر ہونا، ان سب اقدامات نے وطنِ عزیز کو آزاد سے جزوی طور پر آزاد ممالک کے زمرے میں دھکیل دیا ہے۔
حسبِ معمول حکومت نے حقیقتوں کو خارج کر دیا ہے۔ مگر ایک طرف دنیا ہماری جمہوریت، میڈیا کی آزادی کا مذاق اڑا رہی ہے تو وہیں دوسری طرف دنیا صدیق کپن اور رونا ولسن کو بھی جانتی ہے، اور کسان احتجاج میں شامل خواتین کا کردار بھی دیکھ رہی ہے۔
دنیا کی حقیقت یہ ہیکہ یہاں جھوٹ اور سچ کے درمیان مقابلہ ہے ، جب سچ کے علمبردار ڈر کر بیٹھ جاتے ہیں تو جھوٹ کی تاریکی کے سوا کچھ دکھائی نہیں پڑتا۔ مہیب تاریکی اگر اپنا رقص جاری رکھے ہوئے ہے تو صرف اس لئے کہ سچ کے علمبردار ڈر کر بیٹھ گئے ہیں۔

 

مئی ۲۰۲۱