جہد مسلسل کاحسین عنوان
سمیرہ محی الدین

’’آ پ جس صبر اور حوصلہ کے ساتھ ہرمحاذپرمیرےساتھ کھڑی رہیں،حالات کے نشیب وفرازمیں حوصلہ مندی وجراَت کا ثبوت دیا،سچ تویہ ہےکہ آپ کی ہم راہی اور استقامت کےبغیرمیں تنہاکچھ نہیں کرسکتا تھا۔‘‘
یہ ایک مجاہد شوہر کی محاذجنگ سے اپنی رفیقۂ حیات کی عظمت کا اعتراف اور راہ حق میں شوہر کی معاونت کی گواہی ہے۔یہ گواہی شیخ عبداللہ یوسف عظامؒ نے افغانستان میں روسی جارحیت کامقابلہ کرتے ہوےسمیرہ محی الدین کےحق میں دی تھی۔سمیرہ قابل رشک تھیں کہ مجاہدشوہرمیدان جنگ سےاعتراف کر رہاہےکہ اس کی میدا ن جنگ میں استقا مت کے پس پشت سمیرہ کی ذات ہے ۔مسلم ا مت کی تاریخ ایسی گواہیوں سے معمور ہے ۔

’’والمومنون والمومنات بعضھُم اولیأ بعض‘‘

کی یہ عملی تعبیریں اس زمین پر عدل وقسط کے قیام کی منزل کی جانب رواں دواں قافلوں کے لئےمنارۂ نورکی حیثیت رکھتی ہیں۔سمیرہ محی الدین اورعبداللہ عظام فلسطین کے رہنے والے تھے ۔اسرائیلی ریاست کواپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لئےجن فلسطینیو ں سے خطرہ محسوس ہوتاہے ان کو جلاوطن کردیتی ہے۔ سمیرہ اور عبداللہ عظام بھی جلاوطن کردیئے گئے۔سمیرہ کا کہنا تھاکہ غاصب اسرائیلی حکومت کے مظالم اور جلا وطنی نے میرے شوہر کو ایک معمولی لکچرر سے معروف مجاہد بنا دیا۔ارضِ فلسطین ،جس کو استعماری طاقتوں نےاپنی ناپاک سازشوں سے یہودی ریاست کےقیام کے لئےمیدان جنگ میں تبدیل کردیا۔ا ہلِ فلسطین خوداپنے ہی وطن میں بے وطن بنادیئےگئے۔گھروں اور زمینوں سے بےدخل کرکےکیمپوں میں زندگی گزارنےپر مجبور کر دیئے گئے ۔
۱۹۶۷ کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل ،مغربی کنارہ ،گولان کی پہاڑیوں اور سینا کے علاقہ پر قابض ہوگیا۔اس جنگ کے بعد جن جیالے نو جوانوں سےاس نے خطرہ محسوس کیا ان کو جلاوطن کردیا گیا۔سمیرہ کہتی ہیں کہ حالات کی تپتی ہوئی بھٹی نےعبداللہ کوکندن بنادیا۔آزمائشیں مومن کے لئے مواقع لے کر آتی ہیں۔ غاصب طاقتوں کی جانب سے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے سےوہ جبریہ روک دیئےگئے لیکن وہ ان سےان کا جذبۂ حرّیت و جہادچھین نہ سکے۔مومن کو جغرافیائی حدوداور انسانوں کی کھینچی ہوئی لکیریں زندگی کے اعلیٰ مقاصدکے لئےجد وجہد کرنےسےنہیں روک سکتیں۔ان دنوں افغانستان روسی جارحیت سےنبرد آزما تھا۔عبداللہ اور سمیرہ نے افغانستان کا رخ کیا۔ روسی جارحیت کےخلاف جاری مزاحمت میں مجاہدین افغانستان کےساتھ شریک کار ہوگئے۔سمیرہ کو فلسطین میں اعلیٰ تعلیم کےحصول کے مواقع نہ مل سکےتھے۔لیکن ان کے عزائم میں یہ کمی مانع نہ ہو ئی۔شوہر نےمحاذجنگ سنبھالا اوربیوی نےمجاہدین کے اہل خانہ اورمہاجرین کے کیمپ کواپنی جدوجہد کا مرکزبنالیا۔ مہاجرافغان خواتین اورمجاہدین کی خدمات کےلئےوہ متحرک ہوگئیں۔خواتین کی تعلیم،ان کی ذہنی وفکری تربیت کے لئے کیمپس کا انعقادکرتیں۔خواتین کی خود اختیاری کی حمایت کرتیں اوران کواپنی شخصیت کی تعمیراورذمہ دارانہ رول کی ادائیگی کے ساتھ سماجی خدمات کے دائرہ میں متحرک ہو نے کے لئے آمادہ کرتیں۔ ان کےجذبۂ محبت و لگن کے ساتھ کی جانے والی کاوشوں نے ان کوجلد ہی خواتین میں ہردل عزیز بنادیا۔وہ ان کے لئے رول ماڈل بن گئیں۔کچھ ہی دنوں میں وہ مہاجرین خدمات آفس میں خواتین کمیٹی کی صدر بنا دی گئیں۔اب صورت حال یہ تھی کہ ایک جانب عبداللہ عظام کی قائدانہ صلاحیتوں اور جذبۂ جہادو شہادت نے مجاہدین کے درمیان ان کواس قدر ممتا ز بنادیاکہ وہ ان کو اپنا رہنماو قائد سمجھنےلگے۔مسلم امت کا اتحاد ان کا خواب تھا جس کے لئے وہ مسلسل کوشاں رہے۔
۱۹۷۹ تک جہاد افغانستان میں مختلف محاذوںپر داد شجاعت دیتےہوئےوہ 48سال کی عمر میں اپنےدوبیٹوںاسامہ اور ابراہیم کے ساتھ پر اسرار طریقے سے بم دھماکے میں شہیدکردیئےگئے۔اس مجاہد جوڑے کو اللہ نےنوبچوں سے نوازا تھا۔شوہراور دو بیٹوں اسامہ،اور ابراہیم کی شہادت کے بعد سمیرہ محی الدین پشاورمجاہدین کیمپ سے اردن منتقل ہوگئیں۔اس شیردل خاتون نےبیوگی کے ایام میںاپنی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی بلکہ اپنے شوہر کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔بے سہاراا وربے گھر مہاجرین کی خدمت میں لگی رہیں۔اپنی ان خدمات سے سمیرہ نےایشیا،مشرق وسطیٰ اورشمالی افریقہ میں اپنی شخصی حیثیت سے بڑے دوررس اثرات چھوڑے۔ان کےکام اور رفاہی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔وہ دنیابھر کے مہاجرین،پناہ گزینوں کی مدد،بیواؤںاور یتیموںکی دادرسی اوران کے لئےتعلیمی اداروںاوریتیم خانوں کے قیام کے لئے کوشاں رہیں اور اپنے پیچھےمحبت،ہمدردی اوردانش مندی کی حسین روایات چھوڑگئیں۔
ہجرت او ر جلا وطنی کی پرصعوبت زندگی کے باوجودسمیرہ اورعبداللہ عظام کی ازدواجی زندگی بہت ہی مثالی تھی۔دونوں کی ذہنی ہم آہنگی،جذبۂ جہاد وشہادت کا اشتراک ،ایک دوسرے سے سیکھنے اور سمجھنےکے عمل نے ان کے رشتہ کو مضبوط تر بنا دیا۔ان کے داماد عبداللہ بتاتے ہیں کہ وہ صرف ایک بیوی اور ایک ماں ہی نہیں تھیں بلکہ ان کی سماجی اور معاشرتی خدمات کادائرہ بہت وسیع تھا۔انتہائی عبادت گزاراورقرآن سے بے انتہاشغف رکھنےوالی خاتون تھیں ۔ماہ رمضان میں قرآن سے والہانہ لگاؤ اس قدر بڑھ جاتا کہ ہم ان کامقابلہ نہ کرپاتے۔ستّرواسّی کے عشرہ میں روسی جارحیت کے خلاف افغان مزاحمت امریکہ کی نظر میں ایک نیک کام تھا ۔افغان مجاہدین کوامریکہ کی حمایت حاصل تھی۔روس کی ہزیمت کے بعدافغانستان میں اسلام کی بالادستی کے رجحان نےامریکہ کی امیدوںپر پانی پھیردیا۔اپنے مفادات کے حصول میں ناکامی ہاتھ آئی توکل تک جو مجاہدین آنکھوں کے تارےتھےاب خار بن کر کھٹکنے لگے۔عبداللہ عظام کی شخصیت کو مغربی میڈیانے بری طرح مسخ کرکے پیش کیا ۔ان پر دہشت گردی اورانتہا پسندی کے الزامات لگائےگئے۔سمیرہ محی الدین نےاپنے شوہر پر لگائے گئے ان الزامات کا نوٹس لیااورمغربی میڈیا کے اس پروپیگنڈہ کامقابلہ کیااورچیلنج کیا کہ جو لوگ میرے شوہر پردہشت گردی اور انتہا پسندی کے الزامات لگا رہے ہیں وہ اس کو ثابت کریں۔انہوں نے میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ان کے شوہر کی تصویر کو مسخ کرکے پیش کررہاہے۔جہاد پر اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوے کہا کہ :
’’ہماری لڑائی صرف ہمارے دشمنوں سے ہے جو ہماری زمینوں پر قابض ہیں۔ہم فلسطین ہو یا افغانستان،ہرجگہ دشمنوں سے جنگ کررہے ہیں جو ہمارے اپنے وطن میں ہم پر حملہ آور ہیں ۔‘‘

عربوں میں ایک سے زیادہ شادیوں کا معمول رہا ہے۔عبداللہ عظا م کوبھی نکاح ثانی کے لئے کئی رشتےآئے۔عبداللہ کا ہر بار یہی جواب ہوتا کہ میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے سمیرہ کو ہی وقت نہیں دے پاتا ہوںاگر میں نےایک اور نکاح کرلیا اور وقت نہ دے پایا تو اللہ کے ہاں کیا جواب دوںگا۔وہ کئی کئی ماہ بعدمحاذجنگ سے واپس آتے۔سمیرہ ان سے کہتیں :
’’میں آپ کے لئے بہت فکر مند تھی۔سلامتی کے ساتھ آپ کی واپسی کے لئےدعا کرتی رہی، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری دعا سن لی۔‘‘
عبداللہ بڑے خوشگوار موڈمیں کہتے :’’آپ میری شہادت پانے اور جنت میں جانے کے راستے میں سلامتی کے ساتھ واپسی کی دعاؤںسے رکاوٹ کھڑی کر رہی ہیں۔‘‘
برطانیہ کی معروف نومسلمہ صحافی یوان ریڈلی کہتی ہیں کہ سمیرہ محی الدین سے میری ملاقات ۲۰۰۵؁میں لندن میں ہوئی تھی ۔میں نے کئی دن اسلام کی اس عظیم بیٹی کے ساتھ گزارے۔وہ بہت عظیم تھیں۔اسلام کی یہ عظیم بیٹی ۳۰  مئی ۲۰۲۱ ؁کو اردن میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ان کی وفات پر یوان ریڈلی کا کہناہے کہ’’ اس عظیم خاتون کےتئیں مغربی میڈیا کارویہ بہت افسوسناک ہے۔مجھے اس بات کا بہت دکھ ہےاوریہ رویہ ظاہرکرتا ہےکہ ان کی طرح مسلم دنیا کی کئی عظیم بیٹیوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘
وہ ایک عظیم اسکالرتھیں۔انسانی حقوق کے سلسلے میں ان کی نمایاں خدمات رہی ہیں۔مغربی ممالک انسانی حقوق اور ویمن امپاورمنٹ کی حمایت اور علمبرداری کا  دعوی کرتےہیں اور ان کی طے شدہ پالیسیوں کے مطابق ان میدانوں میں کام کرنے والوں کی خدما ت کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔سمیرہ محی الدین نے ان دونوں محاذوں پر نمایاں کام کیا ہےلیکن اسلامی تشخص کے ساتھ اورا سلامی اقدار پر عمل آوری کرتے ہوئے ۔دور حاضر آج اسلام کی بیٹیوں سےاسی کردار کا متقاضی ہے۔اللہ کی رحمتیں ہوں سمیرہ محی الدین پر۔ان کی مثالی جدجہد نے قرون اوّل کی تاریخ کے تسلسل میں ایک سنہرے باب کا اضافہ کردیا۔

دنیابھر کے مہاجرین،پناہ گزینوں کی مدد،بیواؤں اور یتیموں کی دادرسی اوران کے لئےتعلیمی اداروںاوریتیم خانوں کے قیام کے لئے کوشاں رہیں اور اپنے پیچھےمحبت،ہمدردی اوردانش مندی کی حسین روایات چھوڑگئیں۔

جولائی ۲۰۲۱