خبر پر نظر
مساوات مردوزن کے نام پر نسائی تحریک نے جب طول پکڑا تو فیصلے یوں ہونے لگے کہ خواتین جو گھر میں اپنے بزرگوں اور اپنے شوہر یا بچوں دیکھ بھال کررہی ہیں اس کی بھی قیمت لگائی جائے ۔ چین کی ایک عدالت نے حال ہی میں طلاق سے متعلق ایک معاملے میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے ایک شخص کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ سال تک جاری رہنے والی شادی کے دوران بیوی کی طرف سے کیے گئے گھریلو کام کے بدلے میں اس کو معاوضہ دے۔ اس معاملے میں خاتون کو 5.65 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ کئی دلائل اس حوالے سے دیے گئے کہ خواتین جو گھروں میں کام کرتی ہیں دراصل ملک کی جی ڈی بی میں مدد گار ہیں تب کیوں خواتین کو اس کا معاوضہ نہیں ملتا ہے، باضابطہ معاوضہ ملنا چاہیے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شادی کے بعد مرد اور خاتون دو جدا جدا محاذ پر اپنے اپنے حقوق کے مطالبے کے لیے برسر پیکار ہوں تو کیا خاندان بن سکتا ہے ۔؟ خاندان ایک باہمی تعاون کی جگہ ہے جہاں بزرگ اپنی قربانیاں دے کر اپنی اولاد کو مستحکم کرتے ہیں اور شوہر اور بیوی اپنے بزرگوں کا خیال رکھتے ہوئے نسل نو کو وہی گُر سکھاتے ہیں۔ خواتین کے گھریلو کام کے معاوضے کی بات کرتے وقت یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ انسانی وسائل میں خلوص، محبت، اور جذبات کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ماں کے دودھ پلانے، دوڑ کر بچے کو اٹھانے، خود بھوکے رہ کر خوشی خوشی بچے کو کھلانے کی قیمت کا تعین آخر کیسے کیا جاسکتا ہے۔؟ اور خاندانی زندگی بھی جب مادی معیار سے ناپی تولی جائے تو کیا وہ ایک ورکنگ کمپنی بن کر نہیں رہ جائے گا ۔۔؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خواتین گھریلو کام کے عوض معاوضے کے طور پر کچھ بھی لینے کا حق نہیں رکھتی ہیں۔ جب کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب خواتین اپنے کیریئر کے مواقع چھوڑ کر روزانہ گھریلو کام کرتی ہیں تو پھر انھیں معاوضہ کیوں نہیں ملنا چاہیے۔ اس سے قبل جنوری کے شروع میں انڈیا کی عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ‘گھریلو کام حقیقت میں خاندان کی معاشی حالت کے ساتھ ساتھ قوم کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پدرسری معاشرے کی بات کرتے ہوئے فیمنسٹ خواتین نے چین کے حالیہ فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے یوم حقوق نسواں کے موقع پر ایک ڈسکورس تیار کیا تاہم عالمی سطح پر یہ بات زیر بحث رہی ہے کہ خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں کا معاوضہ دیا جانا چاہیے لیکن یہ بات بھی یہاں زیر غور رہے کہ گھریلو ذمہ داریوں کا معاوضہ لینے کی وکالت کرنے والی خواتین کیا کام کے طے شدہ گھنٹوں کا کمپنی کی طرح تعین کرپائیں گی ۔۔؟ انسانی جذبات انسانی اقدار میں ہمہ وقت سروس وہ اپنے جذباتی خونی لگاؤ کی وجہ سے دیتی ہیں ۔ اپنی ذات پر اولاد کو ترجیح دینی والی ماں کیا اپنی اولاد سے اپنے شوہر سے تعلق کو اسی استحکام کے ساتھ جوڑ پائیں گی جیسا کہ وہ اب ان سے جوڑے رکھتی ہیں ۔؟ بعض کام تو انمول ہوتے ہیں جس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اس کی قیمت کیسے ادا کی جائے گی ۔فیمنزم کی یہ سوچ گھروں کو ایک کمپنی کی طرح چپقلش کا اڈہ تو بنا سکتی ہے ہیومن سپورٹ سسٹم باہمی تعاون کا نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ خاندان نامی ادارہ جن بنیادوں پر مستحکم ہوسکتا ہے وہاں سب سے پہلا اصول انسانی جذبات، احساسات، اور اقدار ہیں وہاں بھی اگر معاوضے کی بات ہو تو وہ اپک کمپنی تو ہوسکتی ہے جہاں ایک مالک اور سب ملازم ہوں لیکن وہ انسانی نسل کی پرورش کا ادارہ نہیں ہوسکتا ۔ معاشیات کے ماہرین ہر چیز کو پیسے سے ناپ تول سکتے ہیں لیکن سماج میں انسانی اصولوں کو پائمال کرتے ہوئے سماج ترقی تو نہیں کرسکتا البتہ نوکر شاہی نظام قائم کرسکتا ہے۔ پدرسری معاشرے کی بات کرتے ہم یہ بھول رہے ہیں کہ کام سے تھکی ہاری عورت کو احسان اور حسن اخلاق کی بنیاد پر شوہر بیمار ہونے پر محبت کے ساتھ دوائی پیش کرسکتا ہے اس کے برعکس معاوضہ لیتے ہوئے تو اس بات کی کم ہی امید ہے کہ بیوی سے ہمدردی کی جائے ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ مفت تو کام نہیں کرتیں سو اپنی پریشانی خود سنبھالو ۔ بہترین سماج اور خاندان میں باہم تعاون اور انسانی تعلق ہی کی بنیاد پر سماج اور خاندان استوار ہو نہ کہ مرد اور عورت کے حقوق کی جنگ خاندان اور سماج کے انتشار کا موجب بنے ۔
اپریل ۲۰۲۱