خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ
زمرہ : ادراک

عالمی سطح پربالخصوص مسلم ممالک میں، جہاں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے ،دنیا کی نظریں خواتین کے حقوق پر ٹک جاتی ہیں ۔کیا وہاںتعلیم کی آزادی دی جائے گی ؟ کیا حجاب کی پابندی کروائی جائے گی ؟ اور خواتین سے متعلق دیگر سوالات کیے جاتے ہیں۔
متعلقہ ملک کی کمیونٹی ،مزاج، کلچر اور جغرافیائی حالات سمجھے بغیر ہر بات اسلام سے جوڑ کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے ۔جو بات عالمی سطح پر دیگر ممالک کے لیے مباح اور جائز ہوتی ہے، وہی چیز مسلمانوں کے لیے اسلاموفوبیہ کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔
خواتین کے حقوق سےہمیں اختلاف نہیں ہے، بلکہ حقوق کا شعور ہر انسان کو ہونا چاہیے ۔لیکن شکوہ وہاں پیدا ہوتا ہے،جب اسلامو فوبیہ کے تناظر میں خواتین کے حقوق کے نام پر اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اسلام ہر فرد[مرد و عورت] کو فطری آزادی فراہم کرتا ہے ۔ لیکن بعض اسلام پسند، جانے انجانے میں خواتین پرغیر ضروری پابندیاں عائد کرکے یا دین کی غلط تشریح کرکےمعترضین کواعتراض کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
دین کی غلط تشریح اور تنقید کے نام پر پروپیگنڈے نے بھی گل کھلائے ہیں کہ مسلم خواتین نے تعلیم کے حصول کو بلا شعور ڈگری کے حصول اور پیشوں سے متعلق تقلیدی عمل کو خود پر لاد لیا، یہ سمجھتے ہوئےکہ مادی ترقی میں عورت کی حصہ داری ہی اصل کامیابی ہے۔جب کہ اصل کامیابی بہترین سماج کی تشکیل میں اپنی صلاحیت کے مطابق پورے اعتماد کے ساتھ حصہ داری ہے ۔
کوئی بھی انسان اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ عورت اور مرد، سماج کے دوبنیادی اور اہم جز ہیں ۔ جب سے انسان نے زمین پر زندگی کا آغاز کیا ہے، اس وقت سے آج تک،سماج اور معاشرے کی تشکیل و ترقی کسی ایک جنس کی مرہون منت نہیں رہی، بلکہ دونوں کے اشتراکِ عمل اور مساویانہ تقسیم کا نتیجہ رہی ہے ۔چاہے وہ تہذیب و تمدن کا معاملہ ہو یا دیگر شعبہ ہائے زندگی کی ترقی کا معاملہ ، ہر فرد اپنی صلاحیت اور اپنے مزاج کے مطابق اپنا حصہ ادا کرتا رہا ہے ۔
مرد و زن کا یہ مساویانہ کردار عین فطری تقاضوں کی تکمیل اور اسلام کا مطمح ِ نظر ہے۔ دور نبویؐ میں بھی صحابیات کا رول، عین فطری صلاحیت کے مطابق نظر آتا ہے۔ حضرت ام عمارہ ؓاپنے فطری میلان کے سبب جنگ کی ماہر تھیں اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ میں جنگِ احد میں نظر آتی ہیں ۔کیا ام عمارہ ؓکی تعریف، جو پیارے نبی ﷺ نے کی کہ’’ مجھے احد میں عمارہ ہی عمارہ نظر آتی ہے‘‘ کے بعد ہم نے جوق در جوق خواتین کو ام عمارہ کی نقل کرتے ہوئے پایا؟بالکل نہیں !تاہم اس دور میں ہم ہر فرد کو اپنے فطری رجحان کے بغیر دوسرے کی نقالی سرگرم عمل پاتے ہیں اور ھدف کی عدم اصولی پر مایوس ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
’ چلو تم ادھر کو ،ہوا ہو جدھر کی ‘ یہ کفیت انسان کو اپنی ذات کو سمجھنے اور اپنی خوبیدہ صلاحیت کو جلا بخشنے میں مانع ہے ان الجھنوں کے ساتھ ہم دیگر نظریات سے متاثر ہو کر نسلوں کو احساس کہتری کا شکار بنادیتے ہیں۔یاد رہے! اپنی فطری صلاحیت، جو اللہ نے ہمیں ودیعت کی ہے، اس کے مخالف عمل سے ہم زندگی کا اطمینان کھودیتے ہیں اور اپنی طبیعت پر جبر کرتے ہیں ۔
اسی طرح حضرت فاطمہؓ کی شخصیت کا غالب مزاج ’گرہستی‘ کا ہے۔ آپ انھیں سیرت میں،اسی کام کو پورے اعتماد کے ساتھ اور انتہائی کامیابی کے ساتھ کرتے ہوئے پائیں گے۔ مسافرین کے لیے غذا کی ضروریات ،حضرت فاطمہؓ کے گھر سے ہمہ وقت پوری ہوتی رہتی تھیں۔گویا راہِ خدا میں اپنا کردارادا کرنے کے پورے مواقع ایک خاتون کے پاس موجود ہیں ۔
جبکہ آج ہم تعلیم یافتہ خواتین کو نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہتے ہوئے ضرور پائیں گے کہ ’ہم کچھ بن نہیں سکے، زندگی تو گھر کے کام ہی ختم ہو گئی۔ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے باوجودوہ گھرمیں ہی رہیں، گویا کہ وہ ناکام ہیں ۔جبکہ گھر کا میدان بہترین مثالی نسل ملک کو دینے کا سب سے بہترین ٹاسک ہے ۔
ہر خاتوں اپنی صلاحیت کے مطابق پورے اعتماد کے ساتھ اپناکردار بقدر استطاعت ادا کرے۔ اس کی اولین ذمہ داری، جو اس کے رب نے اس پر ڈالی ہے، وہ اولاد کی تربیت اور گھر کےماحول کو خوشگوار رکھنے کی ہے ۔

حضرت زینب ؓ کو آپ چمڑوں کی دباغت کرتا ہواپائیں گے۔سخاوت و فیاضی اور فی سبیل اللہ حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا طرہ امتیاز یہ تھا وہ یتیموں ، بیواؤں ، فقراء ومساکین کی پناہ گاہ تھیں۔

انفاق کا یہ عالم تھا کہ جب حضرت زینب ؓ    کی وفات ہوئی تو’’ حضرت فاطمہؓ نے کہا ہائے زینب !تم تو چلی گئیں اور اپنے پیچھے یتیموں ، بیواؤں، فقراء ومساکین کو چھوڑ گئی ‘‘ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو مقید کیا ہے جبکہ میدان عمل میں ہم انھیں جہاد میں برابر مردوں کے ساتھ ان کی عورتیں شریک دیکھتے ہیں، بخاری میں ہے کہ غزوۂ احد میں ام المومنین حضرت عائشہ اپنے ہاتھ سے مشک بھر بھر کر زخمی سپاہیوں کو پانی پلاتی تھیں، ان کے ساتھ ام سلیم ؓ اور ام سلیطؓ دو اور صحابیہ بھی اس خدمت میں شریک تھیں۔
ام سلیم ؓ اور انصار کی عورتیں ان ہی خدمات کے لئے اکثر غزووں میں شریک رہی ہیں۔ ربیع بن معوذؓ اور دوسری عورتوں نے شہدا اور مجروحین کو احد کے میدان سے اٹھا کر مدینہ لانے کی خدمت انجام دی تھی، ام رفیدہ صحابیہ کا ایک خیمہ تھا جس میں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
ام زیاد اشجعیہ اور دوسری پانچ عورتوں نے غزوۂ خیبر میں چرخہ کات کر مسلمانوں کو مدددی تھی، وہ میدان سے تیر اٹھا کر لاتی تھیں اور سپاہیوں کو ستو پلاتی تھیں۔ حضرت ام عطیہ ؓ نے سات غزوات میں صحابہ ؓ کے لئے کھانا پکایا تھا۔
ابن جریر طبری ایک موقع پر لکھتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مقتولین کو ایک جگہ جمع کرکے صف کے پیچھے ڈال دیا اور جو لوگ مقتولین کی تجہیز و تکفین کے لئے متعین تھے، وہ مجروحوں کو عورتوں کے سپرد کرتے اور جو شہدا ہوتے ان کو دفن کردیتے، اغواث اور ارماث کی لڑائیوں میں جو فتح قدسیہ کے سلسلہ میں لڑی گئی تھیں، عورتیں اور بچے قبر کھودتے تھے۔
ان مذکورہ بالا مثالوں میں ہر خاتون اپنی صلاحیت کے اعتبار سے میدان عمل میں نظر آتی ہیں۔
کوئی تقلیدی عمل، سوائے علم کے حصول کے، خواتین نے نہیں کیا، جو مسجد نبوی جو خواتین نے تعلیم کے لیے پیارے نبی ﷺ سے کہا تھا ۔لیکن ہم نے علم کو پیشے سے جوڑنے کے عمل کو لازم کرلیا اور خود ساختہ کامیابی اور ناکامی کا ٹیگ دے دیا۔ جب کہ ایک علم رکھنے والی ماں،بچوں کی بہترین تربیت پر فوکس کرے، پاکباز اور سلیم الطبع نسل کو پروان چڑھائے اور ان کو اصل مقصد زندگی سے جوڑے، یہی اس کی اصل ذمہ داری ہے۔
ہم خواتین یہ بات گرہ میں باندھ لیں کہ شوہر، اولاد اور گھر، یہ اللہ کی امانت ہیں۔ اسی طرح ہماری اپنی صلاحیتیں بھی اللہ کی امانت ہے۔ ان صلاحیتوں کو پہچاننا اور اسے نکھار کر اسے راہِ خدا میں لگانا، ہماری ذمہ داری ہے۔ صرف اپنی گرہستی اور اسی کے بلندئ معیار میں لگنے والی خواتین کے سامنے آیت مستحضر رہے کہ

لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبوا ۖ وَلِلنِّساءِنَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبنَ ۚ وَاسأَلُوا اللهَ مِن فَضلِهِ ۗ إِنَّ اللهَ كانَ بِكُلِّ شَيءٍعَليمًا (النساء:32)
جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصّہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصّہ ہےاللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔
۲۰۲۱ ستمبر