خزانہ علم
اللہ کے رسول ؐ پر جب پہلی وحی’ اقرأ‘ کی صورت نازل ہوئی تو اس سے یہ واضح ہوگیا کہ ’ علم‘ ہی انسان کی ترقی اور کامیابی کا اصل راز ہے۔ انسان کی ترقی و کامیابی،چاہے وہ اخروی ہو یا دنیاوی ’ علم کا حصول‘ اس میںشاہِ کلیدی کی حیثیت رکھتا ہے۔ علم کے حصول اور اس کے فروغ کا شعار نبی ؐ، صحابہ اکرامؓ اور علمائے دین کی زندگیوں میں ہمیشہ شامل رہا ہے۔ اسلام نے علم کےحصول کو ،ہر مرد و عورت پر بلا تفریق فرض قرار دیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ؐ مسجد میں تشریف لے آئے تو دیکھا کہ دو مجلسیں جمی ہوئی ہیں۔ ایک مجلس کے لوگ ذکر و تسبیح میں مشغول ہیں تو دوسرا گروہ علم دین سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا دونوں ہی مجلسوں کے لوگ نیکی اور بھلائی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ قرآن پڑھ رہا ہے اور اللہ سے دعا کررہا ہے۔ اللہ چاہے تو اس کی دعا قبول فرمائے یا نہ فرمائے، لیکن ان میں ایک مجلس دوسری مجلس سے بہتر ہے، کیوں کہ یہ لوگ دین سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے میں مصروف ہیں اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یہ فرما کر آپ بھی پڑھنے پڑھانے والوں کی مجلس میں بیٹھ گئے۔ ( مشکوۃ )
ہمارے اسلاف نے علم سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردی تھیں۔ وہ علم کے حصول کے لیے سخت محنت کرتے ، دوردراز کے سفر کی مشقتیں برداشت کرتے، رت جگے تصنیف و تالیف کا کام انجام دیتے، اسی کا ثمر ہے کہ انہوں نے خون پسینے کی سیاہی سے کاغذ پہ جو لفظ اتارے ہیں، وہ روشنی کے ایسے ابدی مینار ہیں، جن سے نور ہمیشہ پھیلتا رہے گا۔
ان عظیم ہستیوں کی زندگی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ دین نے علم کے حصول پر بہت توجہ دی ہے۔ علم وہ پیمانہ ہے جو حق کو باطل سے اور روشنی کو تاریکی سے ممیز کرنا سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
’’ کیا علم والے اور بغیر علم والے یکساں ہوسکتے ہیں؟‘‘(الزمر: 09 )

بہ حیثیت مسلمان ہم پر فرض ہے کہ ہم علم کے میدان میں آگے بڑھیں۔ اللہ کی پیدا کردہ کائنات کو سمجھنے کے لیے جو علم کی شاخیں تشکیل دی گئی ہیں، وہ چاہے فزکس، کیمیا، ریاضیات، الجبرا، مثلثات، افلاک، جغرافیہ، تاریخ، طب،میڈیسن کی شکل میں ہوں، ان میں غوطہ زن ہوکر کائنات کے اسرار کو تلاش کریں۔ یہ اسرار ہی اللہ کو پہچاننے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان اللہ کی قدرت کے اسرار و راز سے واقفیت حاصل کرکے اس کے وجود سے انکار کردے اوراس کی وحدانیت کی نفی کردے۔ اگر علم ہمارے ہاتھ میں عصائے موسیٰ کی طرح ہو تو ہماری ریسرچ پر مبنی دلائل ہر باطل فلسفوں اور منطق کا تریاق ثابت ہوں گے، ان شاء اللہ۔ ہمارے اسلاف نے ایسا علمی سرمایہ اہلِ جہاں کے لیے چھوڑا ہے، جو انسانوں کی علمی ترقی کی بنیاد ہیں۔ جب ہم نے علم کو اپنے ہاتھ سے جانے دیا تو مغرب نے ان ہی بنیادی اصولوں پر مبنی صنعتی انقلاب اور ایجادات کی دیواریں چن دیں اور آج بھی ان دیواروں کی دنیا میں پرستش کی جاتی ہے۔ اور یہ تب تک ہوتا رہے گا جب تک ان علم کے میدانوں کو ہم پھر سے تسخیر نہ کرلیں۔ یہ عالمگیر حقیقت ہے کے علم کی مشعل جس قوم کے ہاتھ میںہوتی ہے، وہ دنیا پر حکمرانی کرتی ہے اور جس قوم کا ناطہ علم سے ٹوٹ جاتا ہے، اس سے دنیا کی خلافت چھین لی جاتی ہے۔ یہی قانون قدرت ہے۔

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مصطفی محمد طحان اپنی تالیف’’ ادارۃالوقت ‘ میں لکھتے ہیں:
’’ مطلوب و مقصود دین و دنیا دونوں کا علم ہے۔ اسلامی تہذیب کا منارہ دونوں جہاں میں اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتا جب تک مسلمان علم حاصل کرنے میں سبقت نہ کریں۔‘‘ جس دین کے ہم ماننے والے ہیں، اس نے ہمیں ہر پہلو پرعلم کے جاننے اور فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ قرآن کے طرزِ تخاطب سے، جو ہمیں اللہ کی نشانیوں پر ہمیشہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی نشانیاں ہمیں جس علم سے رو شناس کراتی ہیں، وہ ہماری دنیاوی حیثیت کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں ہم باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج کرسکیںاور حق کو پوری دنیا پر غالب کرسکیں۔ دین کا علم ہمیں اس راہ پر چلنا سکھاتا ہے، جہاں دونوں جہانوں میں کام یابی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کا علم انسان کو ذہنی، منطقی، شعوری، روحانی اور جسمانی طور پر اس قابل بناتا ہے کہ وہ مہذب و مؤدب نظر آئے اور تمام مخلوقات میں’ اشرف‘ کےمرتبے پر فائض ہو۔
بحیثیت مسلمان ہمارا فرض منصب یہی ہے کہ ہم دنیا کو ان تعلیمات سے روشن کریں جو جھوٹے فلسفوں اور باطل نظریات سے پاک ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے اس گمشدہ مقام کو حاصل کرنا ہوگا جو علم کے میدان کو تسخیر کرنے سے ہی حاصل ہوگا۔ ہمیں انفرادی طور پر خود علم کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی اور پھر خاندان سے ہوتے ہوئے سماج اور معاشرہ میں علم سے لگاؤ اور محبت پیدا کرنے کے لیے دامے، درمے، قدمے ، سخنے اپنی کاوشوں کے دائروں کو پھیلانا ہوگا۔ اپنے قلم، زبان، مال ، وقت، اور قوت و صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر علم کی بجھتی لو کے گرد فانوس بننا ہوگا ،جس سےایسی روشنی پھوٹے کہ زمانہ اس سے منور ہوجائے۔
اے علم تجھ سے بہتر کوئی نہیں خزانہ
ہے تیری خوبیوں پر قربان سارا زمانہ

قرآن کے طرزِ تخاطب سے، جو ہمیں اللہ کی نشانیوں پر ہمیشہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی نشانیاں ہمیں جس علم سے رو شناس کراتی ہیں، وہ ہماری دنیاوی حیثیت کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں ہم باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے چیلنج کرسکیں اور حق کو پوری دنیا پر غالب کرسکیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر