خمار ِگندم

’’یہ انگریز روٹی یا چاول نہیں کھاتے، تو ان کا پیٹ کیسے بھرتا ہے؟ یہ کھاتے کیا ہیں؟
دماغ نے سوال اٹھایا۔
’’وہی کھاتے ہیں جو ان کا دل کرتا ہے۔‘‘دل نے جواب دیا تھا
’’لیکن پھر بھی۔۔۔ ‘‘دماغ سوچ میں پڑ گیا اور سوچ میں تو ہم بھی جب سے انگلینڈ آئے ہیں، ڈوبے ہوئے ہیں کہ یہ انگریز اپنا پیٹ کیسے بھرتے ہیں! ہمیں تو جب تک دوپہر یا رات کے کھانے میں روٹی یا چاول نہ ملیں، ہمارا گزارا نہیں ہوتا۔کبھی کبھی تو ناشتے میں بھی ڈبل روٹی کی بجائے پراٹھا کھائیں تو حوصلہ ہوتا ہے کہ ہاں، آج کچھ کھایا ہے۔ اور یہ انگریز ! ایک پیالہ کارن فلیکس دودھ کے ساتھ اور ساتھ میں چائے یا کافی اور بس، ان کا ناشتہ ہو گیا۔ یا پھر گوروں کی ایک اور پسندیدہ چیز ہے، پین کیک، جسے یہ بڑے اہتمام کے ساتھ بناتے اور کھاتے ہیں۔ ہمارے میاں کو ایک دن شوق چڑھا پین کیک کھانے کا، سو ہم سے فرمائش کر ڈالی۔ ہم نے نیٹ سے ترکیب ڈھونڈ کے پانچ چھ پین کیک بنائے اور میاں کے آگے رکھ دیے۔’’ اسے کھانا کیسے ہے؟‘‘میاں نے سوال کیا تھا۔ جناب یقین مانیں ، یہ سوال نہایت اہم اور سنجیدہ تھا۔
’’پتانہیں۔ نیٹ پہ تو جو تصویر تھی، اس میں اس کے اوپر کیلے اور سٹرابری رکھی تھی، اور ساتھ میں چاکلیٹ ساس۔‘‘میاں نے کوشش کی، ایک پین کیک پہ کیلے کے ٹکڑے اور تھوڑی سی کریم ڈالی۔
’’اب؟‘‘
’’اب کیا؟‘‘
’’اب کیسے کھاؤں؟ میرا مطلب ہے کہ رول کر کے کھاؤں، روٹی کی طرح لقمے توڑ کے یا کانٹے چھڑی سے؟‘‘یہ سوال بھی معقول تھا۔
’’رول کر کے کھا لیں۔نہ اچھا لگے تو باقی پین کیک کسی اور طریقے سے۔‘‘ہمارا مشورہ مانا گیا لیکن پہلا لقمہ لیتے ہی ان کے چہرے کے جو تاثرات تھے، اس پہ ہماری ہنسی نکل گئی۔
’’اچھا لگ رہا ہے۔‘‘زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ میاں نے زبردستی لقمہ نگلا۔اگلے پین کیک پہ چھری کانٹے سے زور آزمائی کی گئی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے ہماری پلیٹ سے تھوڑا سا آملیٹ اٹھایا اور اسے اپنے پین کیک کے ساتھ روٹی کی طرح کھایا۔ تو جناب ثابت ہوا کہ ہم ایشیائی لوگوں کے اندر خون نہیں بلکہ گندم روٹی کی شکل میں گھومتی ہے۔
انگلینڈ آنے کے بعد سب سے بڑا shock culturalبھی کھانے سے متعلق ہی تھا۔ہم کہیں گھومنے گئے تو وہاں ایک جگہ مینو کارڈ پہ لکھا تھا، corn on the cob یعنی آسان الفاظ میں، ’’ہمارے ہاں مکئی بھٹے دستیاب ہیں۔‘‘ہمارے تو منہ میں پانی آ گیا، تصور میں وہ چھلیاں گھوم گئیں جو ہمارے ملک میں ہماری یونیورسٹی کے گیٹ پہ ریڑھی والےبھائی بیچا کرتے تھے، خوب چٹ پٹی سی ابلی ہوئی. میاں ہمارے بے حد اصرار پہ دو بھٹے لے آئے۔
’’یہ کیا؟؟ یہ تو پھیکی ہیں!‘‘ پہلے لقمے پہ ہی ہم پہ انکشاف ہوا۔
’’او ہاں، یہ دو پڑیاں بھی ساتھ میں دی تھیں نمک اور کالی مرچ کی۔‘‘ میاں جی نے دو ننھی منی سی پڑیاں ہمارے حوالے کیں۔ ہم جو پہلے ہی صدمے سے دوچار تھے، مزید دکھ میں گھر گئے۔
’’وہ مرچ مسالہ، وہ لیموں کا ٹکڑا۔۔‘‘ہم یہی کہہ سکے۔
’’محترمہ، یہ انگلینڈ ہے. یہاں ایسی ہی مکئی کی پلیٹ ملتی ہیں۔‘‘ یہ صدمہ ہمارے لیے ٹھیک ٹھاک بڑا تھا۔ اس دن سے ہم تو اپنے ملک کے چٹ پٹی مکئی لیے ترس رہے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ جب اپنے جانا ہوتا ہے تب وہاں مکئی کی فصل کٹ کے سوکھ چکی ہوتی ہے۔ اور یہاں کی مکئی ہمارے ذوق اور معیار کی نہیں۔ اب تو یہی حال ہے
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات د ن
بیٹھے رہیں مکائیاں کیے ہوئے
کھانے پہ بات شروع ہو ہی گئی ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہاں یعنی مغرب میں گرم مصالحوں کی بڑی دھوم ہے۔ غالباً انہی گرم مصالحوں کی خوشبو انگریزوں کو برصغیر کی طرف کشاں کشاں کھینچ لائی تھی اور وہ ایسے دیوانے کہ برصغیر کے ہی ہو بیٹھے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے آزادی کے مصلحین اور دوسرے رہنماؤں کا کہ ان گوروں کو چلتا کیا۔ اور اب یہ حال ہے کہ ان کا بس نہیں چلتا کہ سب چیزوں میں پسی دار چینی، پسا ہوا ادرک ڈال دیں۔ ایک دفعہ ہمیں ادرک والے بسکٹ biscuits gingerکھانے کا اتفاق ہوا اور وہ بس پہلا اور آخری ہی اتفاق تھا۔ اس کے بعد دوبارہ کبھی ان بسکٹس کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا۔بھئی ہم اپنے دیسی کھانوں میں خوب ادرک ڈال لیتے ہیں اس لیے ہم ایسے ہی بھلے۔
ہمیں پچھلے سال ایک دن کے لیے ہسپتال داخل ہونا پڑا۔دوپہر کے ٹائم ایک نرس نے آ کر مینیو کارڈ دیا کہ جو کھانا ہے، اس پہ نشان لگا دیں۔ ہم نے کارڈ پہ نظر دوڑائی۔ سب حلال تھا۔
’’واؤ، چکن قورمہ۔‘‘ہم نے اس کے اور چنے کی دال کے آگے نشان لگا دیا۔کچھ دیر بعد ایک خاتون مجھے ایک ٹرے دے کر چلی گئیں۔ بڑے شوق سے چکن چاولوں پہ ڈال کر چکھا اور سارے ارمانوں پہ اوس پڑ گئی۔ پتا نہیں وہ کیا، کون سا، کہاں کا، اور کس طرف سے چکن قورمہ تھا، کچھ سمجھ نہیں آیا۔ آج بھی جب گوروں کے سپر سٹورز میں کسی ولایتی کمپنی کے،چکن قورمہ،پیسٹ کے ڈبے   دیکھتے ہیں تو ان بےچاروں کے حسِ ذائقہ پہ افسوس، ہنسی اور تعجب ہوتا ہے۔ ’بندر کیا جانے ادرک کا سواد‘ کے مصداق یہ ولایتی لوگ کیا جانیں اصل قورمے کا مزا۔
تو جناب، بات گھوم کے پھر وہیں پہ آ ٹھہری جہاں سے شروع کی تھی کہ ان لوگوں کا روٹی چاول کھائے بغیر پیٹ کیسے بھرتا ہے۔ ہمارا دماغ بھی سوچ رہا ہے، ذرا اپنے دماغوں کو بھی اس کام پہ لگا لیں۔
اور ہمیں بتائیں کہ یہ بھلا روٹی چاول نہیں کھاتے تو کھاتے کیا ہیں۔

پین کیک پہ چھری کانٹے سے زور آزمائی کی گئی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے ہماری پلیٹ سے تھوڑا سا آملیٹ اٹھایا اور اسے اپنے پین کیک کے ساتھ روٹی کی طرح کھایا۔ تو جناب ثابت ہوا کہ ہم ایشیائی لوگوں کے اندر خون نہیں بلکہ گندم روٹی کی شکل میں گھومتی ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱