خمیازہ

 (طالبة جامعة الصفة الإسلامية )

عشاءکا وقت تھا۔ فضا میں ہر طرف سکوت طاری تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد لوگ مسجد سے اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔مسجد کے سامنے تھوڑے فاصلے پر ایک دو منزلہ عمارت اپنی تمام ویرانیوں کے ساتھ کھنڈر بنی کھڑی تھی۔ اسی ویران و خاموش عمارت کی دوسری منزل پر واقع بالکنی میں ایک بوڑھی عورت خستہ حال آرام دہ کرسی پر دراز اُن نمازیوں کو دیکھنے میں محو تھی اور اس کے سامنے ایک معصوم سی لڑکی اپنے ہاتھوں میں خستہ حال کتاب لئے بیٹھی پڑھنے میں مصروف تھی۔
تبھی اک ننھا معصوم سا لڑکا ”دادی،دادی“ پکارتا ہوا اس کی جانب دوڑتا ہوا آیا ۔
”ارے واہ !آگیا میرا لاڈلا پوتا نماز سے“۔اُس بڑھیانے اُسے چمکارتے ہوئے پوچھا۔
”جی دادی“۔بڑھیا کے سوال پر اس لڑکے نے معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور کچن میں کھڑی اپنی ماں کی طرف دوڑا۔
وہ بڑھیا پھر سے أُن نمازیوں کی طرف متوجہ ہوگئی لیکن سامنے سڑک ویران ہوچکی تھی۔ وہ اس سنسان سڑک کو تک رہی تھی کہ اچانک چند آوازوں نے اُسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔اُس نے نظراُ ٹھا کر دیکھا تو اُسے چند لڑکوں کی اک ٹولی نظر آئی جس میں چند کے ہاتھوں میں سگریٹ اور چند کے ہاتھوں میں شراب کی بوتلیں تھیں۔اُس منظر کو دیکھتے ہی اُس بڑ ھیا کی آنکھوں میں درد اُتر آیا۔ نہ جانے ماضی کی وہ کو ن سی یاد تھی جس کی وجہ سے بڑھیا کے چہرے پر برسوں کا غم اُتر آیا تھا ۔اُس نے ایک تاسف بھری نگاہ ان نوجوانوں پر ڈالی اور پلٹ کر اپنی بیوہ بہو اور پوتا پوتی کو دیکھا۔ آخر یہی تو غلطی کی تھی اُس کے بیٹے نے جس کا خمیازہ وہ،اس کی بہو اور یتیم بچے بھگت رہے تھے اور یہی وہ چیز تھی جس نے اس کی بہو اور بچوں کے چہرے کی مسکراہٹیں ہمیشہ کے لئے چھین لی تھیں۔
تبھی اس کے منہ سے بے اختیار یہ دعا نکلی۔ ’’یا رب ان نوجوا نوں کو ہدایت دے اور ان کے گھر والوں پر رحم فرما۔‘‘
اسی لمحے دادی نے عزم کیا کہ اب وہ اپنے پوتے کی طرح کسی معصوم کو یتیم ہوتے نہیں دیکھ سکتی اور اس عزم کے ساتھ وہ اپنے نقاہت زدہ جسم کو بوسیدہ عصا کے سہارے سنبھالتے ہوئے ان نوجوانوں کو اپنے بیٹے کی کہانی سنانے کے لیے آگے بڑھ گئی ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ۲۰۲۱