خواتین بہترین ہوم مینجر!
زمرہ : ادراک

        آج کل حالات ٹیلی وژن اسکرین کی طرح بدلتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ حالات بدل رہے ہیں جتنا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اتنی تیزی سے حالات تبدیل ہوئے ۔
کون تصور کرسکتا تھا کہ تعلیمی ادارے اس طرح بند ہوں گے بچے گھروں میں بے مصرف وقت گزارنے پر مجبور ہوں گے ۔تعلیمی طریقہ کار چاک اور ٹاک chalk and talk  سے بدل کر سکرین پر آجائے گا  اس بات کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ انسانی وسائل ضائع نہ ہوں ۔علم کے حصول میں امیری غریبی کی تفریق نہ ہو اور ہر بچے کو علم حاصل کرنےکی سہولت میسر ہوسکے۔لیکن حالات نے پھر اس دوراہے پر کھڑا کیا ہے کہ امیری غریبی کی تفریق کھل کر سامنے آگئی ہم چاہے جتنا انکار کریں۔بدلتے حالات میں نئے  تعلیمی طریقوں کو فورا سے پیشتر جس نے اپنایا وہ گھرانے وہی تھے جہاں پیسے کی فراوانی تھی ۔
 غربت زدہ علاقوں میں والدین اور بچے اسکول کے کھلنے کے منتظر ہیں ۔
بدلتے ہوئے حالات تقاضہ کررہے ہیں کہ والدین خصوصاََ خواتین اس بحران سے نکلنے کے لیے لائف اسٹائل کو تبدیل کریں اور اپنی فیمیلی کے لیے آسانی پیدا کریں ۔
تیزی سے بدلتے حالات نے نئے مسائل جنم دئیے ہیں تجارتی نظام ٹھپ پڑ گیا، روزافزوں گرتی معیشت نے فروانی کو تنگی میں بدل دیا  تاجر سے لیکر دھاڑی مزدور تک غربت وافلاس کی ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
کم رقبے پر بنے تنگ مکانات میں لاک ڈاون میں وقت گزارتے گھر کے افراد نفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔کرائے کے مکانات نے قرض کے بوجھ تلے دبادیا پہلے سے چلی آرہی قرضوں کی قسطوں کی وقت پر نہ ہونے والی ادائیگی نے سودی قرض کو بڑھا دیا ۔
، سماج کے تقاضے اور بچوں کے مطالبے والدین کے لیے مایوس کردینے والی حد تک بدل گئے ۔بیماری کا سر پر منڈلاتا خوف اور کہیں اپنوں کو کھونے کا غم،  ویکسین لینے اور نہ لینے کی کشمکش اور کووڈ کی تیسری لہر کا اعلان ان حالات نے ان کو اندیشوں کا شکار بنادیا ہے ۔

ڈجیٹل مہنگی تعلیم :

بچوں کے بے مصرف وقت گزاری نے والدین کو متفکر کردیا ہے۔ بعض والدین جو بچوں کے مستقبل کے لیے زیادہ پریشان ہیں وہاں نفسیاتی امراض جیسے اضطراب، بےچینی، ڈپریشن اور مایوسی، ان سیکوریٹی ، عدم تحفظ کے احساس نے جگہ لے لی ہے ۔ بچوں کی تعلیمی ضروریات کی عدم تکمیل انہیں ہمہ وقت پریشان رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ غریب والدین کے لیے کارپوریٹ میڈیا کے کمرشیل ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں ہیں جو عام انسان کو اپنی بساط میں خوش رہنے بھی نہیں دیتیں ۔کم سرمائے پر کفایت شعاری سے گزر بسر کرنے والے بچوں کے والدین نے موبائل ڈیٹا کے خرچ کو جیسے تیسے برداشت کر ہی لیا تھا اور موبائل پر آن لائن پڑھائی میں مشغول  تقریباََ 6.1ملین طلبہ و طالبات آن لائن ایجوکیشن لے رہے ہیں۔ :30فیصد طلبہ کی تعداد ہرسال بڑھ رہی ہےباوجود اس کے کہ یہ پورے بھارت کے طلبہ کا ریشو نہیں ہے بڑے پیمانے پر طلباء کا بہت بڑا نقصان ہے ۔ ایجوکیشنل سائٹس اور گورنمنٹ کے ایجوکیشنل سائٹس میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور سرکاری اداروں کی تفریق ڈجیٹل ورلڈ میں بھی واضح طور پر موجود ہے ۔
 پرائیویٹ ایجوکیشن سائٹس کے کمرشیل ایڈورٹائزنگ آکر سبزباغ دکھانے لگتی ہیں اور پریشان حال والدین سے بچوں کے مطالبات شروع ہوجاتے ہیں۔
بعض والدین جو سود سے لیے گئے قرض کے عذاب کو نہیں جانتے وہ اس طرح قرض لے کر بچوں کی تعلیمی فیس ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔
ہر فرد پریشانی سے نکلنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے ۔یہ کہہ لیجیے کہ ایک غریب اپنی بساط میں خوش رہنے کےحق سے بھی ہوگیا ہے۔

سماج کے تقاضے : 

لاک ڈاون کھلنے کی دیر تھی وسائل محدود اور مسائل لا محدود کا مسئلہ وسیع ہوتا گیا،  معاشرے میں شادی بیاہ کا ماحول پھر سے زور پکڑنے لگا ۔ شادیوں کی تقریبات تو نہ صرف یہ کہ شادی گھر کے لیے بلکہ شرکت کرنے والوں کے لیے بھی پریشانیوں کا مژدہ ہیں ۔تیاری اور تحائف اور ہر شریک کے لیے میک اپ اور تیاریوں کی لاگت انسانی زندگی کے سکون کو برباد کر رہی ہے،  رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والے برتھ ڈے کلچر اور اسکی تصاویر اور پارٹیوں نے پوری کردی ۔

لائحہ عمل : 

۱]کفایت شعاری :
کفایت شعاری مسلم خواتین کی آپس میں منتقل ہونے والی وراثت ہے جو گھر کی بزرگ خواتین دوسری خواتین کو دیا کرتی تھیں ۔ موجود وسائل میں کچھ بہتر کرنے کا تصور ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے بے لگام خواہشات کے مطالبات کرنے والی خواتین ہر دور میں شوہر کو مقروض رکھتی ہیں جبکہ سلیقہ شعاری یہی ہے کہ موجود اور درکار وسائل میں بحسن وخوبی گھر کا نظام چلایا جائے ۔

۲] شادی بیاہ کی تقریب سے مکمل اجتناب :
سرمایہ دارانہ کارپوریٹ کلچر  یا ماڈرن کلچر میں ایک دوسرے کے حالات پر تنقید، غربت کی تضحیک، کفایت شعاری کو کنجوسی کا نام دے کر کم میں گزارہ کرنے کو معیوب سمجھا جارہا ہے ۔ یہ کلچر پروان چڑھتا ہے ملاقات کے دوران، لباس، اور اسٹائل پر تفاخر جس کی آمجگاہ شادی بیاہ کی تقاریب ہیں ۔
یا واٹس ایپ و سوشل سائٹس سے تحریک دلانے والی پوسٹ اور سرگرمیاں ہیں ۔بس اس قسم کی تقریبات میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے ملنا چھوڑ دیں مبارک باد بھی رشتہ داروں کو ویڈیو کال پر دے دیجیے ان دنوں یہی سب سے
بڑی حکمت ہے۔
ہم علی الاعلان کفایت شعاری کے کلچر کو فروغ دیں ۔ بہت فخر سے لوگوں کو بتائیں ہم شادیوں میں شرکت نہیں کرتے تاکہ بے جا اخراجات روک سکیں ۔
ہم نے عملاً اس پر عمل کیا تو یقین کریں راوی چین ہی چین لکھے گا ۔ ان خرافات نے جہاں خاندان کا سکون برباد کیا وہیں انسانی ذہن کا سکون تک چھین لیا ۔ہم نے عملا دس سال سے شادی میں شرکت پر خود کو پابند کرلیا یہی ترکیب اپنے اسٹاف کے ساتھیوں سے شئیر کی۔
آج دس سال بعد ہم لوگ جب بھی دوران گفتگو شادی میں شرکت کے خلاف اس مہم پر غور کرتے ہوئے تخمینہ لگاتے ہیں تو یہ اندازہ لگا کر خوشی ہوتی ہے کہ ہم نے وقت اور پیسہ ضائع ہونے سے بچالیا ۔ ہم شادیوں میں شرکت نہیں کرتے اس جملے کو اپنے حلقے میں پھیلانے کی ہم نے مہم چھیڑ رکھی ہے اور مطمئن ہیں ۔
 کفایت شعاری کے یہ سلوگن ہمارے نسلوں کے تمدن وطرززحیات کا  حصہ بن جائیں ۔بچوں سے بچت اور کم خرچ، اور اپنی بساط میں خوش، رہنے فضولیات سے پرہیز کے کلچر کو عام کریں تاکہ ناگزیر حالات کے لیے پیسہ بچا سکیں اور گھر کے مرد حضرات پیسوں کی تنگی اور اخراجات کو دیکھ کر مایوس نہ ہوں ۔یہی ہمارے دین کا تقاضا بھی ہے۔

اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ‌ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا ۞

(سورۃ الاسراء:۲۷)
فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں،اور شیطان اپنے رب کا نا شکراہے۔

۳]آن لائن مفت تعلیم :
تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں بچوں میں دو طرح کے بچے ہوتے ہیں وہ بچے جنہیں تعلیم کے لئے motivate و آمادہ کرنا پڑتا ہے۔پڑھنے پر مجبور کرنا یا تاکید کرتے رہنا والدین کی ذمہ ہوتی ہے دوسرے بچے وہ جو motivate intrinsic ہوتے ہیں انھیں خارجی تحریک کی ضرورت نہیں ہوتی ۔وہ پڑھنے کے لیے فطری طور پر آمادہ ہوتے ہیں اپنی پڑھائی کے راستے خود تلاش کرلیتے ہیں انہیں خان ایکاڈمی سے واقف کروائیے ۔
Khan academy(ا www.khanacademy.org ). مفت تعلیم بچے یہاں سے لے سکتے ہیں خان اکادمی پر مفت تعلیم میں آپ جو پڑھوانا چاہیں نصابی کتاب کی کسی بھی سبجیکٹ کی آپ کو یہاں مفت تعلیم مل جائے گی Coding, Javascript, SQL (Structured Query Language), HTML(Hyper text markup language), CSS(Cascading Style Sheets), “Animation Drawing” curriculum,,  اس کے علاوہ online business course,   بنیادی کمپوٹر سائنس کے کورس آپ کروائیے یا آپ نصابی تعلیم دلوائیے ابتداء میں انگلش ایکسنٹ پر دشواری ہوسکتی ہے لیکن لیکچر سنتے سنتے بچوں کی سماعت عادی ہوجائے گی اور بچے یوز ٹو ہوجائیں گے ۔
فخر بنادیجیے بچوں کے لیے یہ کہنا کہ ہم خان اکاڈمی سے مفت تعلیم لے
رہے ہیں ۔
unacademyپر جو مفت میں میتھس کی لیکچر سیریز ہیں وہ بھی بہترین ہے اس کے ٹیٹوریلز لیجیے یوتیوب لیکچر سیریز جہاں مفت ملے برا کیا ہے وہاں سے فائدہ اٹھائیں ۔ پڑھنے والے بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر پڑھنے کی سہولت بہت ارزاں ہیں شرط یہ کہ فطرتاً سیکھنے کی چاہ ہو اور رہنمائی کو فالو کرنے کی عادت ہو ۔بچوں کو اپنے موجود وسائل میں حل نکالنے اور ان پر نازاں رہنے کی عادت ڈالنا ایسے ماحول میں بہت اہم ہے جہاں ہر دوسرا شخص کمرشیل سائٹس کا چلتا پھرتا اشتہار بنا ہوا ہے ۔جس سے ملیئے فخر سے بتائے گا ہمارے بچے تو فلاں کورس کررہے ہیں ستر ہزار فیس ہے یہ دیکھے بغیر کہ غریب والدین کے دل عین اسی لمحے کتنے کرب سے گزررہے ہیں ۔ بچوں کے کان میں یہ جملے پڑجائیں تو اضطراب سے بچے اپنے والدین کو تقابلی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں ۔جان رکھیں کہ کمرشیل کمپنيوں کی بے جا تشہیر سے ہم کسی کے دل کو زخمی کررہے ہیں یہ اسلامی معاشرہ کا شیوہ نہیں ہوسکتا ۔
تعلیم کا مہنگا ہونا صرف ایک شور وغوغا ہے تعلیم کے لیے کمرشیل ایڈز پر تحقیق کریں اپنے بچوں کو اس کا متبادل دے کر سیلف موٹیویٹ کرنے کی ہم کوشش کریں ۔کمرشیل ایڈز سے بیزار ہونا سکھائیں  نہ کہ مرعوب ہونا خود بھی مرعوب ہونے سے گریز کریں ۔

ووکیشنل کورسیز بچوں کے لئے کرونا وقت کی اہم ضرورت : 

17سال سے بڑی عمر کے بچوں میں معاشی بچت اور کمائی کی جانب رجحان پیدا کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ گھنٹوں موبائل ہاتھ میں لے کر گیم کھیلنے والے بچوں کو صحت مند مصروفیت دینا سب سے اہم کام ہے۔
Guru Skool , Udemyسے آپ کم خرچ بالا نشین یہ کورسیز کروائیے ۔اس کے علاوہ آن لائن بزنس، ویب ڈیزائننگ، کمرشیل سوشل سائیٹس،  ایڈیٹنگ،  وقت کی اھم ترین ضرورت ہے اور اس میں روزگار کے مواقع ہیں۔

ہوم اسکولنگ :

ہوم اسکولنگ کا کلچر بہترین ہے جوتیزی سے زور پکڑ رہا ہے یوں بھی مسلمان گھرانوں میں اسکول کے زمانے میں بھی بچوں کو گھروں میںقرآن و حدیث دعائیں پڑھانے کا رجحان پہلے ہی سے موجود ہے اب گھروں میں موجود چھوٹے بچے نرسری میں ایڈمیشن کے منتظر ہیں سیکھنے کا وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ماؤں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے انہیں گھر میں نرسری کے رائمس پڑھائیں ، عربی نشید پڑھانا، ترانے اور نعت کے اشعار یاد کروانا ،لینگویج ڈیولپمنٹ کے لیے اھم ہے ۔ جدید تعلیم کے لیے ہوم اسکولنگ پر یوتیوب چینلز ہیں اس سے مائیں مدد لے سکتی ہیں سلیبس ختم کریں چلتے پھرتے کام کے دوران دعائیں یاد کروانا، آداب وتہذیب، یوٹیوب پر ہوم اسکولنگ بچوں کی عمر کے مطابق والدین کی رہنمائی کرنے والے ویب سائٹس یا چینلز موجود ہیں ۔Pinterest پر parenting و پرورش سے متعلق بہترین سائٹس ہیں جو ماؤں کی رہنمائی کرتی ہیں کہ کیسے بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دی جاسکتی ہے ۔

شوہر کا حوصلہ بڑھانا :

خواتین کی ذمہ داری ہے کہ ایک بہترین ہوم مینجر ہونے کی حیثیت سے جہاں اخراجات پر کنٹرول کریں وہیں بچوں کے تعلیمی سائٹس پر مفت تعلیم کے ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی بحران میں اپنے شوہر کا حوصلہ بڑھائیں دوران کووڈ بے شمار ایسے افراد ہیں جوہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے جن پر معاشی بوجھ، قرض کا بوجھ بڑھ رہا تھا اور اس سے نکلنے کی صورت نظر نہیں آرہی تھی اسی لیے اوپر ذکر کیا گیا کہ بچوں میں آن لائن کمائی کے لیے اسکیل پیدا کرنے پر مائیں خصوصی توجہ دیں ۔خود بھی اہلیت رکھتی ہوں تو اس میدان میں جمپ لگائیں ۔ہمارے گھروں کے مینیجمنٹ کی ہم خود ذمہ دار ہیں زیرک مینجر حالات کے ساتھ باہر نکلنے کی راہ فورا َپیشتر تلاش کرلیتا ہے آپ بھی اپنے گھر وں کی زیرک مینجر ہیں ۔

قناعت کی تلقین:

قناعت کی تلقین کوئی تیھوریٹکل پارٹ نہیں ہے یہ اپنے حالات میں کم تر وسائل میں بلند نگاہ رکھنے، تنگ راستے سے بھی آگے نکلنے کی راہ نکالنے اور کمپرومائز نہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر مطمئن رہنے کا نام ہے یہ ادا جب گھر کی خواتین کے پاس ہوتو پوری فیملی اسی رنگ میں رنگی آپ کو نظر آئے گی اللہ کریم انسانیت کو اس بحران سے نجات عطافرمائے ۔

عزم محکم ہو تو سرگرم عمل ہو کر ہم
آؤ، ذروں سے کریں چاند ستارے پیدا
ڈوبنے والوں کو توساحل بھی ڈبوسکتا ہے
ورنہ طوفاں میں بھی ہوتے ہیں کنارے پیدا

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ۲۰۲۱