خوش گوار زندگی کی ضمانت
’’ بیٹی میں بھی زیادہ پڑی لکھی نہیں ہوں،بس میری یہ چند باتوں کو گرہ میں باندہ لو تو زندگی خوشگوار گزرے گی…….‘‘
اتنا کہنا تھا کہ ماضی کے اوراق الٹنے شروع ہوگئے۔ وہ اپنی بچی کی انگلی پکڑے، بنگلہ کے سامنے کھڑی تھی۔ گیٹ پر لگی بیل بجاگر اجازت کے لیے منتظر تھی۔ کریم الدین انجینئر کا یہ بنگلہ کسی نہ کسی بے سہارہ کے لیے رحمت ثابت ہورہا تھا۔ ویسے عام بنگلوں میں اور اس بنگلہ میں ایک نمایاں فرق یہ تھا کہ اکثر شرفاء کی نشستیں یہاں ہوتیں۔ قوم وملت کے لیے نہایت مفید اور قابل عمل منصوبے یہاں بنتے۔ بنگلے کا اچھا استعمال کیوں نہ ہو، اس کی تعمیر میں حلال کمائی کا پیسہ ہی استعمال ہوا ہے اور اس گھر کے مکینوں میں سادگی ہے۔ فخر و غرور کی ادنیٰ سی جھلک نظر نہیں آتی۔یہاں غریبوں مسکینوں کی امداد کے لیے ہمیشہ در کھلے رہتے ہیں۔
دروازہ کھلا۔ ’’اوہ نجمہ! آجاؤ۔اندر آجاؤ۔‘‘ اسے دیکھتے ہی اس کی شناسا اور اس گھر کی خادمہ زینب نے اسے اندر بلایا۔ نجمہ بھی خوشی خوشی اپنی بچی کے ساتھ بنگلہ میں داخل ہو گئی۔
زینب نے دالان میں رکھے بینچ پر اسے بٹھا کر پانی اور پھر چائے لاکر دی۔ بچی کے ہاتھوں میں پارلے کا چھوٹا پیکٹ تھماکر اور اس کے گال بڑے پیار سے تھپ تپاکر کہا: ’’لو بیٹیا کھاؤ اسے‘‘ اور نجمہ کو کچھ ہدایات کر کے کہنے لگیں کہ مالکن ابھی مصرف ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں یہاں آجائیں گی۔ میں نے تمہارے تعلق سے انہیں سب بتا دیا ہے۔ بس ان شاء اللہ ان سے تمہاری ملاقات کے بعد، یہ سمجھو کہ تمہاری نوکری پکی۔ نجمہ، جس کے لبوں پر ہلکی ہلکی مسکان کھیلتی رہتی تھی، اندر تو شاید غم کے پہاڑ ہی پہاڑ ہوں، لیکن لب ہیں کہ مسکراہٹ سے جدا نہیں ہوتے اور زینب کی دوستی کا سبب بھی یہی ہے کہ اس نے کبھی نجمہ کی زبان سے کسی کی شکایت نہیں سنی۔ نجمہ گزشتہ چار(۴) سال سے اس کے پڑوس میں رہ رہی تھی۔ اس کے شوہر نے قریب کے ایک دیہات سے یہاں اس مقصد کے لیے ہجرت کی کہ شہر میں کوئی کاروبار بھی کریںگے اور بچی کو معیاری تعلیم سے بھی آراستہ کریں گے۔ پہلے وہ گاؤں میں کھیتوں میں کام کیا کرتے تھے، لیکن جب بچی نے چوتھے سال میں قدم رکھا تو انہیں اس بات کی فکر ہوئی کہ یہاں ایک ہی اسکول ہے اور اس میں صرف دو ٹیچر ہیں۔ پہلی سے چوتھی کلاس تک یہی دو ٹیچر ایک کمرے میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھائی کا میڈیم مراٹھی ہے۔ ہندو مسلم بچے سب ایک ساتھ پڑھتے ہیں، یہ بات بڑی اچھی ہے کہ یہ سب مل جل کر رہتے ہیں۔
چونکہ لڑکی کا معاملہ ہے، کم از کم میٹرک تو وہ اردو میڈیم سے پڑھ لے۔ یہی سوچ کر وہ یہاں آگئے۔ کرایہ کا مکان اور شہر کے اخراجات سے پریشان تھے۔ لیکن نجمہ کی کفایت شعاری ، صبر و تحمل اور حوصلہ نے انہیں مایوس نہیں ہونے دیا۔ ایک دن دونوں پڑوسی جب بے تکلف ہوگئے تو زینب نے کہا کہ میں جس بنگلہ میں کام کرتی ہوں، وہاں کے سب لوگ بہت دین دار، متقی اور پرہیز گار ہیں۔ مگر میرا بیٹا، جس کو ہماری مالکن نے خود ہی اپنے خرچ پر پڑھایا، اب جوان ہو گیا ہے اور میں اپنی ہی بہن کی بیٹی سے اس کی شادی بھی کرنے والی ہوں۔ بیٹے کا کاروبار اچھا چل رہا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ میں اسی کے ساتھ رہوں۔ اس نے نئی آبادی میں ایک چھوٹا سا پلاٹ خرید کر اپنا مکان بھی بنا لیا ہے۔ مالکن نے مجھے اس شرط پر جانے کی اجازت دی ہے کہ میں انہیں ایک اچھے مزاج والی خادمہ لاکر دوں۔ ہماری مالکن بڑی نیک ہیں۔ وہ خادمہ کو خادمہ نہیں، اپنی بیٹی یا بہن سمجھتی ہیں۔ زینب نے یہ ایک خاص بات بھی بتائی کہ وہاں الگ رہنے کا معقول انتظام بھی ہے۔ اسی بات نے نجمہ کو ملازمت پر آمادہ کیا اور وہ بنگلہ پر پہنچ گئی۔
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ مالکن جیسے ہی دالان میں حاضر ہوئیں، مسکراتے ہوئے،نجمہ کو دیکھ کر جو مالکن کے آنے پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی تھی، کہنے لگیں: ’’ارے کھڑے رہنے کی کیا ضرورت ہے،، بیٹھو نجمہ بیٹھو۔ ‘‘ نجمہ نے بڑے پیار بھرے انداز میں مالکن کی زبان پر اپنا نام سنا تو اس کے دل میں مالکن کے لیے کشش پیدا ہو گئی۔ مالکن کہنے لگیں: تم سے ملنے سے قبل میں نے تلاوتِ کے بعد دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ تمھارا آنا ہم سب کے لیے مبارک کرے اور مجھے شرح صدر ہو رہا ہے کہ ان شاء اللہ ہمیں بھی سکون ملے گا اور تمہارے مسائل بھی اللہ حل کر دے گا۔ تم نے زینب سے تمام باتیں سمجھ لیں نا ؟
نجمہ نے مسکراتے ہوئے کہا: جی مالکن۔ اچھا زینب نے تمہیں یہی بتایا؟ نجمہ خاموش رہی۔ اس کے ہونٹوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ کہنے لگیں : نجمہ تم میری پیاری بہن ہو، مجھے منور بیگم کہتے ہیں، تم منور آپا کہہ سکتی ہو اور میں تو تمہیں نجمہ ہی کہوں گی۔ نجمہ مسکرائی اور کہا: اچھا آپا جان اور دالان میں کھیلنے والی بچی کی طرف دیکھ کر پوچھا : یہ تمہاری گڑیا ہے؟ اس کی پڑھائی کی فکر ہی نے تمہیں ہجرت پر مجبور کیا۔ اللہ تمہاری مراد پوری کرے گا، ان شاء اللہ۔ اچھا اپنا کمرہ دیکھ لو، اس کا باہر سے بھی ایک راستہ ہے، ادھر سے ہی تمہارے شوہر کا آنا جانا رہے گا۔ وہ بلا تکلف اپنی فرصت میں انجینئر صاحب سے ان کی بیٹھک میں مل سکتے ہیں۔ ہمارے صاحب ماشاء اللہ بہت ملن سار ہیں، تب نجمہ کہنے لگی: یہ بھی ماشاءاللہ بہت نیک اور پابند صوم و صلوٰۃ ہیں۔
’’جی جی….۔‘‘ مالکن نے کہا۔مجھے زینب سے تمام تفصیلات معلوم ہو چکی ہیں اور غالباً ہمارے گھر کی بھی تمام باتوں سے زینب نے تمہیں آگاہ کردیا ہوگا۔ جی آپاجان۔ اور زینب کو آواز دی ۔ زینب نے سلام کیا: منور آپا کہنے لگیں: زینب تم نے نجمہ کے تعلق سے جو کچھ بتایا ،اس میں تمہیں صرف چالیس نمبر ہی ملے۔
زینب کہنے لگیں: تو کیا میں فیل ہوگئی ہوں؟ زینب تم نے ساٹھ فی صد نجمہ کو چھپاکر رکھا تھا۔ اس کے تعلق سے جو کچھ کہا تھا، وہ اس سے کئی گنا، خوبیوں کی مالک ہے۔ اچھا جاؤ، ان لوگوں کو تمام کمرے اور باغ سے متصل ان کی رہائش گاہ بھی دکھا دو۔ پھر طعام گاہ میں لے آنا،ہم سب ساتھ میں کھانا کھائیں گے۔
اس طرح کھاتے پیتے، ہنستے کھیلتےدن گزرنے لگے۔ زینب اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش دوش ہوگئی۔ اسے کپڑوں کے جوڑے اور کچھ نقد رقم دے کر بڑی عزت واحترام کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہاں مالک و نوکر کا رشتہ ہے۔ زینب اس گھر میں، گھر کے ایک فرد کی طرح رہ رہی تھی۔ گھر کے بڑوں اور بچوں نے اسے اپنے افراد خانہ میں ہی شمار کیااوروہ بھی اس گھر میں پوری اپنائیت کے ساتھ ہر کام کرتی رہی۔ کبھی کسی کام کے لیے اسے کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اسے پورا تجربہ حاصل ہوچکا تھا کہ کس کے لیے کیا تیار کرنا ہے؟ اور اس نے نجمہ کو بھی اچھی طرح یہاں کے طور طریقے سمجھا دیے تھے۔
چند ہی دنوں میں سب نجمہ کے بھی گرویدہ ہوگئے۔ کام کے ساتھ اس کی زبان نے سبھی کے دل جیت لیے تھے۔ خاص طور پر گھر آنے والی مہمان خواتیں بھی اس کے کام سے متأثر تھیں۔
انجینئر صا حب کا ایک ہی لڑکا تھا اور باپ کی طرح اسے بھی انجنیئربننے کی خواہش تھی۔ گورنمنٹ کالج میں اسے داخلہ مل گیا تھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چار سال بیت گئے۔ کیمپس ہی میں ایک بڑی کمپنی کے لیے اس کا سلیکشن ہو چکا تھا۔ والد کا تو منصوبہ تھا کہ دوتین سال کسی بڑی کمپنی میں کام کرنے کے بعد خود کی کمپنی اسی کے حوالے کر دیں اور آخر وہ دن بھی آگیا۔ جب والد نے اپنی کمپنی میں اسے جنرل مینیجر بنا دیا۔
ماں کے لیے بڑی خوشی کی بات یہ تھی کہ ان کا بیٹا ایاز اپنے ہی وطن میں اور اپنے ہی گھر میں رہے گا۔ اب ان کی ساری توجہ اس جانب تھی کہ جلد ہی گھر میں بہو آجائے۔ رشتے دار بھی انجینئر صاحب کی سادگی پسند طبیعت کو دیکھ کر، راست رشتوں کی بات کر نے لگے تھے۔ ان کا جواب تھا کہ رشتے کے بارے میں تو ایاز میاں ہی کو اختیار ہے۔ جو رشتے ہمارے پیش نظر ہیں،وہ ہم ان کے سامنے رکھیں گے، ساتھ ہی یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ خود اس سلسلے میں کیا سوچتے ہیں ؟
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے بڑے گھرانوں کی بچیوں کی تصاویر اور بایوڈاٹا سے ایک البم ماں نے تیار کرلی تھی۔ نجمہ کے شوہر اشرف، چونکہ ایک عرصہ سے ساتھ تھے، انہوں نے بھی اپنے گاؤں کے ایک بڑے زمین دار کی نہایت خوبصورت لڑکی کی تصویر نجمہ کے کہنے پر منگوالی تھی۔ انجینئر صاحب نے اسے بھی پسندیدہ تصاویر میں شامل کرلیاتھا۔ نجمہ نے اپنی مالکن منور آپا کو واقعی اپنی بڑی بہن کی طرح پایا تھا۔ لہٰذا ان کے پوچھنے پر کھل کر اس خاندان کی اور لڑکی کی والدہ کی تعریف کی۔
منور آپا نے اپنے بیٹے ایاز کو تمام تصاویر اور ان کا بایوڈاٹا اس کے حوالے کرکے کہا کہ بیٹے ہم نے ہماری پسندیدہ لڑکیوں کی تصاویر پر نشان لگادیا ہے۔ اب تم اپنی پسند سے فائنل کرکے اپنا فیصلہ بتاؤ۔اس نے کہا کہ ابھی کمپنی کا ایک اہم کام ہے، میں ان شاء االلہ دوتین روز میں آپ لوگوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردوں گا۔
ایک دن وہ نماز فجر کے بعدابو کے کمرے میں بیٹھا ان سے مشورہ کر رہا تھا۔ کہنے لگا: ابو! یہ رشتہ ناطہ بھی تو مقدر کا لکھا ہوتا ہے۔ باپ نے کہا: یقیناً، جس طرح تمہارے مقدر میں باپ کی طرح انجینئر بننا لکھا تھا،تم بن گئے۔ اس کے لیے تمہیں بھی کچھ کرنا پڑا، یا نہیں، ہاں کرنا تو پڑا۔ بس اسی طرح رشتے ناطوں کا بھی معاملہ ہے۔ تمہاری امی نے کوشش کر کے ڈھیر ساری معلومات حاصل کرلیں ہیں، اب تم سوچ سمجھ کر اپنا فیصلہ سنادو، اور ہم لوگ بیٹھ کر مشورہ کر لیں گے۔ ابو میں پہلے آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ باپ نے کہا: ہاں بتاؤ۔ وہ کہنے لگا: ابو! نجمہ آنٹی کا اخلاق و کردار، ان کی دین داری اور سلیقہ مندی تو میں بچپن سے ہی دیکھ رہا ہوں۔ باپ کہنے لگا: اچھا تو ان کے گاؤں کی لڑکی تمہیں پسند ہے۔ بیٹے سچ کہتا ہوں، مجھے بھی وہی لڑکی پسند آئی اور تمہاری ماں نے تو نجمہ کو یہاں تک کہہ دیا کہ نجمہ! تم کو شاید اللہ نے اسے لیے ہم سے ملایا ہے۔
ابو! مجھے اس معاملہ میں بات کرتے ہوئے کچھ تکلف ہورہا ہے۔ میری گزارش ہے کہ آپ اور امی میری یہ تحریر پڑھ کر مجھے اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ اسی اثناء میں باپ بیٹے کے لیے منور بیگم چائے لے کر حاضر ہوگئیں۔دونوں کو محوے گفتگو دیکھ کر کہنے لگیں: کیا باپ بیٹے چپکے چپکے ہی صلاح مشورہ کرلیں گے، یا ہمیں بھی مشورے میں شامل کریں گے۔ ایاز کہنے لگا: امی آپ کا تو ویٹو پاور رہے گا۔ امی نے کہا: بیٹے ہم تو تمہاری پسند کو ہی اپنی پسند سمجھیں گے، سمجھے! چائے پینے کے بعد اس نے والدہ سے کہا: میری پسند اب آپ کو ابو بتائیں گے۔ تاہم میں آپ لوگوں کا احترام بھی ملحوظ رکھوں گا اور یہ کہہ کر وہ کمرے سے چلا گیا۔
منور بیگم شوہر سے پوچھنے لگیں۔ کیا فیصلہ ہے اس کا؟ وہ ایاز کی تحریر پڑھ رہے تھے۔ کہا: سنو، تمہارا لخت جگر لکھتا ہے کہ’’ آپ لوگ نجمہ آنٹی کے اخلاق وکردار، ان کی دین داری اور سلیقہ مندی سے واقف ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسی ہی ماں کی بیٹی میری ماں کی بہو بنے۔ ‘‘ اور دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ منور بیگم کہنے لگیں: نجمہ کی بیٹی تو واقعی شرم وحیا، سنجیدگی، دیانت و ذہانت اور صورت وسیرت میں بہت اچھی ہے۔ بس صرف ایک یہ بات کہ وہ گھر کی خادمہ کی لڑکی ہے، اس میں ہمارے لیے تو کوئی معیوب نہیں، لیکن رشتہ داروں کی نظر میں………انجینئر صاحب بات کاٹ کر کہنے لگے: اگر تمہاری نظر میں اور ایاز کی نظر میں وہ بچی قابلِ قبول ہے، تو پھر ہمیں دنیا والوں کی قطعی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ ویسے بھی ہم نے اپنے گھرمیں کبھی خادمہ کو خادمہ نہیں سمجھا……!
اشرف اور نجمہ کے تو ہوش ہی اڑ گئے، جب منور بیگم نے انہیں یہ فیصلہ سنایا۔ لیکن بیٹی کو معلوم ہوا تو کہنے لگی :ماں ذرا تو سوچو !میں صرف میٹرک اور وہ انجینئر، کیسے نباہ ہوگا۔ ماں نے کہاکہ میں یہ سب باتیں منور آپا سے کرچکی ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان باتوں کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ انہیں گھریلو اور نیک لڑکی چاہیے، بس۔ اور بیٹی! ہم لوگ بھی پچھلے بارہ تیرہ سال سے ایاز کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ انجنیئر ضرور ہے، لیکن وہ بہت متقی اور پرہیزگار بھی ہے۔ مجھ سے آپا نے یہ بھی کہہ دیا کہ اس رشتے کے بعد آپ لوگ ہمارے گھر میں افرادِ خاندان کی طرح رہیں گے اور گھر میںکسی دوسری خادمہ کو لے آئیں گے۔چند ہی دنوں بعد زینب نے پھر ایک دوسری خادمہ کا انتظام کرلیا۔ ماں نے بیٹی کی احساس کمتری کو نکالنے کی پوری کوشش کی اور کہا:
’’ بیٹی میں بھی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوں، بس میری یہ چند باتوں کو گرہ میں باندھ لو ،ان شاء اللہ زندگی خوشگوار گزرے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ دکھ سکھ سب اللہ کی طرف سے ہیں اور وہ ہر حال میں اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ لہٰذا جس حال میں ہو، خوش رہو، صبر اور شکر کا دامن کبھی نہ ہاتھ سے چھوڑو اور اللہ کو یاد کرتی رہو۔
ویسے تم بہت خوش نصیب ہو۔ ایسی جگہ رشتہ ہورہا ہے کہ جس ماحول سے تم اچھی طرح مانو س ہو، سب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، غصہ کی آگ سے ہمیشہ دور ہی رہنا کہ یہ عقل و خرد کو جلا دیتی ہے۔
اور ایک اہم بات، اسے کبھی فراموشی نہ کرنا کہ زیب و زینت شوہر کا حق ہے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے ہر چیز میں حسن نظر آنا چاہیے، گھر میں صفائی، تمہاری زینت اور تمہاری گفتگو سے اسے راحت ملنی چاہیے۔ یاد رکھو، مرد اس میں اپنی توہین سمجھتا ہے کہ جب کسی تقریب میں، بن سنور کر جاؤ اور وہاں سے آتے ہی گھرمیں سادگی اختیار کرلو۔ اس کے حق میں یہ بڑی کوتاہی ہے۔ یہ روش دھیرے دھیرے عورت کو مرد کی نگاہوں سے گرا دیتی ہے۔
خیال رہے ایسی کوئی حرکت نہ کرنا جس سے شوہر کے دل میں نفرت کو جگہ مل جائے، شیطان کے وساوس سے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا۔
اللہ تمہارا حامی و محافظ ہو۔ آمین‘‘
اور اس طرح ایک بیٹی نے اپنی ماں کے ان قیمتی ہیرے جواہرات کے ساتھ، اپنی نئی زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔
دعوت ولیمہ میں شرکت کرنے والے رشتہ دار اس بے جوڑ جوڑے پر حیرت کر رہے تھے اور والدین اپنے سادگی پسند اور لائق و فائق بیٹے کے اس مبارک انتخاب پر فخر کر رہے تھے۔ ان کے بیٹے کو نہ دولت کانشہ تھا اور نہ اپنی ڈگری کا غرور، اس نے نہایت سادگی سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیااور نیتوں کی پاکیزگی نے خوش گوار زندگی کو جنم دیا۔
ان شاء اللہ اس کا ان کو فائدہ ہوگا۔
دعوت ولیمہ میں شرکت کرنےوالے رشتہ دار اس بے جوڑ جوڑے پر حیرت کر رہے تھے اور والدین اپنے سادگی پسند اور لائق و فائق بیٹے کے اس مبارک انتخاب پر فخر کر رہے تھے۔ ان کے بیٹے کو نہ دولت کانشہ تھا اور نہ اپنی ڈگری کا غرور، اس نے نہایت سادگی سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیااور نیتوں کی پاکیزگی نے خوشگوار زندگی کو جنم دیا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر