دارالا من
’’میرا بیٹا اس شہر کا رئیس ترین شخص ہے۔یہ اولڈ ایج ہوم بھی اسی نے بنوایا ہے خاص میرے لئے۔ اس ہوم کا نام ’’دارالامن ‘‘ہے یعنی امن کی جگہ جبکہ یہاں روح تک مضطرب ہے۔!‘‘

شام کافی سرد تھی۔ ایک پرانی سی عمارت میں داخل ہونے کے بعد اندر کا گھٹن آمیز ماحول اور یہاں کی عجیب سی ہولناکی سے شیما کے وجود میں اداسی اور دکھ کی لہر سرایت کرگئی۔اس نےوارڈن سے اپنا اور جماعت کی ساتھیوں کا تعارف کروایا۔ بےبس بزرگوں کا حال احوال جاننے کی گزارش کی گئی تو وارڈن نے انہیں اندر جانے کی اجازت دےدی۔ شیما نے خوشی سے ساتھیوں کے ساتھ بڑی سی راہداری کی جانب بڑھ کر اسے عبور کیا۔ عمارت کافی خستہ حال تھی۔دیواریں کئی جگہ سے کھوکھلی تھیںاور ان کا رنگ اتر چکا تھا۔راہداری کے اختتام پر ایک بڑاہال نظر آیا۔ جس میں کئی بیڈ بالکل قریب قریب رکھے ہوئے تھے۔ایسا لگ رہا تھا کوئی سرکاری ہسپتال ہو۔ہر بیڈ پر ایک نحیف بزرگ خاتون لیٹی ہوئی تھیں۔سائیڈ ٹیبل جس پر ان کا کل اثاثہ کی شکل میں کچھ سامان بکھرا پڑا تھا، سرہانے ہی کپڑوں کی پوٹلی بھی دکھائی دی جو شاید ان خواتین کے روز مرّہ استعمال کے ملبوسات تھے۔یہ تمام خواتین نہایت کمزور اور ضعیف العمر تھیں ان کے چہروں پر اداسی اور غم و یاس کےبادل چھائے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھازندگی کی جنگ سے تھک ہار کر صلیب پر لٹک گئیں ہیں۔ نہ تو موت تک ان کی رسائی تھی اور نہ ہی راحت ان کی دسترس میں ۔
اس کرب ناک ماحول نے شیما کے دل ودماغ کو ماؤف کیا،شیما نے ایک جھرجھری سی لی اور ایک خاتون کی جانب بڑھ گئی۔
’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
’’مریم !‘‘ انھوں نے خشک لبوں تلے بڑی آہستگی سے جواب دیا۔
’’آنٹی آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ؟‘‘
’’آپ خوش ہیں نا؟‘‘شیما نے ٹھہر ٹھہر کر سوالات کی جیسے بارش کردی۔ اُس خاتون کے سوکھے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی لیکن ہونٹ اس قدر سوکھ چکے تھے کہ ان پر مسکراہٹ بھی ٹھہر نہ سکی، دم توڑ بیٹھی۔ دوسرے ہی پل ان کی آنکھیں بےاختیار چھلک گئیں۔انھوں نے اپنا رخ پھیر لیا اور آنسوؤں کو خشک کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگیں۔جب آنسوؤں نے بغاوت کا اعلان کیا تو انھوں نے بڑی بے بسی سے اپنا چہرہ دوبارہ شیما کی جانب کرلیا ۔
’’آپ رورہی ہیں؟‘‘ شیما کے بدن کو جھٹکا سا لگا اور درد کی لہر تمام وجود میں سرایت کرگئی۔وہ کسی کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کرسکتی تھی۔
’’بیٹی ! یہ خوشی کس چڑیا کا نام ہے ؟‘‘اس ضعیف العمر کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔
’’ آپ کو یہاں کسی چیز کی کوئی کمی تو نہیں ہے؟‘‘شیما نے دوسرا سوال داغا۔
’’اسی چیز کی کمی ہے جس کے تعلق سے ابھی آپ تحقیق کر رہی تھیں ۔‘‘
’’ یعنی خوشی ؟‘‘شیما کو یہ خاتون کافی دلچسپ لگی ،وہ ان کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی۔
’’آپ بہت غمزدہ ہیں، آپ کو یہاں کون لے کر آیا؟‘‘
’’میرے اپنے اعمال !‘‘ زہر خند لہجے میں جواب ملا۔
’’میں سمجھی نہیں؟‘‘ شیما بے چینی سے پہلو بدل کر اس خاتون کے ویران چہرے کو پڑھنے کی نا کام کوشش کرنے لگی ۔
اس خاتون کا ضمیر شاید غبارے کی طرح پھول چکا تھا شیما کی ہمدردانہ باتوں نے نشتر کا کام کیا اور غبارہ جیسے پھٹ پڑا ۔وہ کہنے لگیں:
’’جب میری شادی ہوئی تب میں اپنی زندگی کا ہر پل جینا چاہتی تھی۔ ایسے پل جو صرف ہمارے اپنے ہوں۔ اس میں کسی کی شراکت اور مداخلت گوارا نہیں تھی، خواہ وہ میری ساس سسر کیوں نہ ہوں۔
جبکہ سسرال میں رشتوں کی ایک فوج تھی جن کی تمام ضروریات کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہوتا۔دھیرے دھیرے مجھے نفرت ہوتی چلی گئی ان کی کوئی چیز پسند نہیں تھی۔ سوائے ان کے نور چشم ، جو میرے شریک حیات تھے۔میں نے بھی اپنا دماغ چلایا اور شوہر کو کہیں اور ٹرانسفر کی ضد کرنے لگی۔جب ہم دوسرے شہر منتقل ہوئے تومیرے شوہر کی ماںاپنے بیٹے کی محبت میں ہمارے پیچھے پیچھے چلی آئی۔پھر تو ساس گلے کا پھندا بن بیٹھی۔سسرال میں ہوتی تو چند پل تو تنہائی میسر ہوتی مگر یہاں آکر ہر وقت ساس کے اکیلے پن کو دور کرنے کی ڈیوٹی انجام دینی تھی۔دھیرے دھیرے مجھے ان کی ماں کے وجود سے نفرت ہوتی چلی گئی۔ صبح غلطی سے ساس پر نظرپڑتی تو میں نظریں پھیر لیتی۔ مجھے اندر ہی اندر یہ خدشہ تنگ کرتا کہ منحوس شکل دیکھنے سے تمام دن ناس ہوجائےگا۔ بے چاری اس کے باوجود میری دلجوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔

میں اپنی نفرت سے شکست خوردہ کبھی نہیں ہوئی بلکہ ان پر ظلم وتشدد کےپہاڑ توڑے۔دھیرے دھیرے گھر کا تمام کام ساس کے کندھوں نے سنبھال لیا۔بچوں کی دیکھ بھال بھی ان کی ذمےداری تھی۔ملازمہ کا خرچ بھی بچ گیا تھا۔زندگی بڑے ٹھاٹ سے گزررہی تھی کے ایک دن اچانک بی پی ہائی ہونے سے انہیں فالج کا اثر ہوا میرے ہاتھوں سے طوطےاڑگئے،گھر کا کام اور ذمےداریاں مجھ پر آگئیں۔ ایسا لگتا وہ آرام سے بستر پر لیٹی ہیں اور میں ملازمہ بن گئی ہوں۔!! میراغصہ عروج پر پہنچ چکاتھا۔ میں نے انہیں دوائی دینی بند کردی۔ان کی زبان بند تھی کسی سے شکایت کرنہیں پاتیں۔ وہ سسک سسک کر آخری سفر طے کرتی رہیں۔ ایک دن وہ خاموشی سے اپنا بوجھ اس زمین سے اٹھا لےگئیں۔‘‘
شیما کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔
’’ارررے آپ رورہیں؟‘‘ وہ طنز سے مسکرائیں پھر کچھ توقف کے بعد گویا ہوئیں۔
’’آپ نے سنا ہوگا کہ بچھو کی اولاد بچھو کا شکم چاک کرتی ہوئی دنیا میں آتی ہے ۔افسوس اس تکلیف سے بچھو فوت ہوجاتا ہے۔میرے رب نے اس کا انجام بھی یہی لکھا ہے۔ جب اسے ماں بننے کی سعادت نصیب ہوتی ہے تو وہ بھی اسی تکلیف کے مرحلے سے گزرنے پر مجبور ہوتا ہے!‘‘ وہ خاتون بری طرح سسک رہی تھیں
شیما کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔
’’میرا بیٹا اس شہر کا ریئس ترین شخص ہے۔یہ اولڈ ایج ہوم بھی اسی نے بنوایا ہے خاص میرے لئے۔ اس ہوم کا نام ’’دارالامن ‘‘ہےیعنی امن کی جگہ جبکہ یہاں روح تک مضطرب ہے۔اپنوں کی یاد دل ودماغ کو گھائل کرتی ہوئی درد کی کھائی میں دھکیل دیتی ہے۔!‘‘
’’آپ کو یہاں چھوڑ جانے کی کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’میں نےکریلا بویا تھامگر دل میں امرت کی چاہ تھی ۔یہ کہاں ممکن تھا؟‘‘

جولائی ۲۰۲۱