درس حدیث
زمرہ : النور
قلمکار‎ : تحسین عامر

عن ابى هريره رضى الله عنه ان النبى ، قال للمملوك طعامه وشرابه و كسوته ،ولا يكلف الا ما يطيق ، فإن كلفتمؤهم فأعينؤهم ولا تعذبؤا عباد الله خلقا امثا لكم
(ابن حبان)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمہارے غلاموں کا تم پر یہ حق ہے کہ انہیں کھانا پانی دو اور کپڑے پہناؤ اور ان پر کاموں کا اتنا ہی بوجھ ڈالو جتنا وہ اٹھا سکتے ہوں۔ اور اگر بھاری کام ان سے کرواؤتو تم ان کی مدد کرو ۔اور اے اللہ کے بندو ان لوگوں کو جو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق اور تمہاری طرح انسان ہیں عذاب اور تکلیف میں مت مبتلا کرو۔

حضرت عمر بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،’’تم اپنے مزدوروں سے جتنی ہلکی خدمت لو گے اتنا ہی اجر و ثواب تمہارے اعمال نامے میں لکھا جائے گا ۔‘‘
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔(ابن ماجہ)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جو اپنے اقتدار و اختیار کو غلط طریقے سے استعمال کرتا ہو یعنی نوکروں یا مزدوروں پر سختی کرتا ہو ۔
یہ حکم گھر کے مستقل نوکروں کا بھی ہے دفتر کے ملازمین کا بھی ہے اور وہ بھی جو کارخانوں میں کام کرتے ہیں جو ہمارے زیردست ہوں۔
مزدور کو مزدوری دینے میں ٹال مٹول سے کام لینا کھلا ظلم ہے۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مزدور کو اس کی مزدوری فوراً ادا کردی جائے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدور کو مزدوری اس پر واضح کئے بغیر اسے مزدور رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
طبرانی کی وہ طویل حدیث جس کے راوی ہیں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوکر اور مالک کے تعلق کا ذکر کیا ہے ۔نوکر کی خطا سے درگزر کا ذکر کیا ہے غصے کو پی جانے اور معافی کا معاملہ کرنے اور فیاضی کے سلوک کی نصیحت ہے ۔
خرم مراد رحمتہ اللہ علیہ ویمنع رفدہ (اور اپنے عطایا کو روک کر رکھتے ہیں ) کی بہت اچھی تشریح لکھتے ہیں۔
لکھتے ہیں:اگر غور کیا جائے تو یہ حدیث ایک خاص ترتیب سے چلتی ہے ۔خود غرضی دوسروں کے ساتھ برا سلوک ان کو حقیر سمجھنا اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس کو روک کر رکھنا یہ بنیادی خامیاں ہیں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن جب یہ بڑھ جائیں تو برائیاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور آدمی برا ہوتا چلا جاتا ہے۔
غصے کو پی جانا معاف کر دینا اور عطا کرنا یہ دونوں اصل میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی صفات ہیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ آپ ؐ کے خادم تھے وہ کہتے ہیں کہ دس سال تک میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی لیکن آپ ؐنے کبھی کسی بات پر اف تک نہیں کہا اور یہ تک نہ فرمایا کہ یہ کیوں کیا اور وہ کیوں نہیں کیا ؟ دس سال کے عرصےمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک دفعہ بھی مجھ سے شکایت نہیں کی۔
معافی اور درگزر کے بے شمار پہلو ہیں ۔
معرور بن سوید نے ایک مرتبہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جو چادر وہ اوڑھے ہوئے ہیں ویسی ہی ان کے غلام کے بدن پر بھی ہے پوچھا اس کا سبب کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں نے ایک غلام کو گالی دی تھی اس نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ ؐسن کر ناراض ہوئے اور مجھے بلا کر فرمایا :
ابوذر تم سے ابھی تک جاہلیت کی بو نہیں گئی۔
پھر یہ نصیحت فرمائی کہ ان غلاموں کو مزدور کو اپنے ساتھ ایک دسترخوان پر بٹھا کر کھلاؤ ۔اور اگر اتنا نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے کھانے میں سے ایک دو لقمے ان کو کھلایا کرو۔اور ایک مرتبہ آپ ؐنے نصیحت فرمائی ،‘‘یہ تمہارے بھائی خادم ہیں جنہیں اللہ نے تمہارا دست نگر بنایا ہے۔ بس جب کسی کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہیے کہ اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ تم ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور اگر ایسی کوئی بھاری خدمت ان کے سپرد کرو تو خود ان کا ہاتھ بٹاو۔ حدیث میں ان تین افراد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو غار میں پھنس گئے تھے اور غار کا منہ چٹان گرنے سے بند ہوگیا تھا۔ تینوں افراد نے اپنے اپنے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ تعالی سے دعا کی تو چٹان ہٹ گئی اور وہ لوگ وہاں سے نکل آئے ۔ان میں ان میں سے ایک شخص نے دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ:
’’اے پروردگار میں نے کچھ لوگوں کو اجرت پر کام پر لگایا اور ان سب کو اجرت دے دی ان میں سے صرف ایک شخص اپنی اجرت چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کی اجرت تجارت میں لگا دی یہاں تک کہ کافی بڑی رقم تک پہنچ گئی پھر ایک دن وہ مزدور آیا اور اس نے اپنی اجرت کا مطالبہ کیا میں نے کہا تمہارے سامنے یہ جو اونٹ بھیڑ بکریاں اور غلام ہیں یہ سب کچھ تمہارا ہے اس نے مجھ سے کہا مذاق نہ کرو میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کر رہا ہوں چنانچہ وہ سب کچھ لے کر چلا گیا اے پروردگار اگر میں نے یہ کام صرف تیری خوشنودی کے حصول کے لیے کیا تھا تو ہمیں اس تنگی سے نکال دے چنانچہ چٹان ہٹ گئی۔

(بخاری و مسلم )
امام زین العابدین کو ایک مرتبہ ان کی ایک کنیز وضو کرا رہی تھی اتفاق سے اس کے ہاتھ سے برتن چھوٹ گیا اور چھوٹ کر ایسا گرا کہ امام زین العابدین کے چہرے مبارک پر کچھ زخم لگ گیا ۔ابھی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا ہی تھا کہ کنیز جلدی سے بولی !’’اور وہ غصے کو پی جانے والے ہیں۔‘‘
یہ سن کرحضرت امام نے مسکراتے ہوئے فرمایا ،’’میں نے اپنا غصہ پی لیا ۔‘‘
پھر اس کنیز نے آیت کا اگلا حصہ تلاوت کیا،’’اور وہ لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں ۔‘‘
پس امام زین العابدین نے کنیز سے ارشاد فرمایا ، ’ ’جا میں نے تجھے معاف کر دیا۔ ‘‘
پھر کنیز نے آیت کا آخری حصہ پڑھا ،’’اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔‘‘
آیت مکمل ہوگئی اور اس کا اثر بھی کمال کو پہنچ گیا۔امام موصوف نے اپنا آخری حکم صادر فرمایا ،’’جا آج سے تو آزاد ہے ۔‘‘
ان تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھ کر اور تاریخ کی ان حسین مثالوں سے ہمیں اپنے ماتحتوں کے ساتھ اپنے طرز عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔دوسری اور آخری بات جدید دور میں عالمی سطح پر ایک مئی کو لیبر ڈے یا ‘یوم مزدور ‘ منایا جاتا ہے ۔انہیں ایک دن کی چھٹی دی جاتی ہے کیا اس سے وہ تمام حقوق انہیں مل جاتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں؟اسلامی شریعت کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اعتدال پر قائم ہے ۔انصاف اور توازن سے مل کر ہی اعتدال وجود میں آتا ہے ۔آسمانی ہدایت کا مقصد بھی یہی ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے :’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ‘‘ (الحدید ۲۵)
اسلامی شریعت ہر فریق کو انصاف کے ساتھ لیتی ہے انہی چیزوں کا حکم دیتی ہے جن کو انسان بگاڑ اور مشقت کے بغیر انجام دے سکتا ہے بلکہ وہ ایسی متوازن balanced ہے کہ تمام مکلفین و مامورین سے اعتدال چاہتی ہے۔
یہ قانون سازی در اصل انسانیت کو راہ اعتدال پر لانے کے لئے ہے ۔ایک طرف مزدور کا حق بتایا گیا ہے وہیں دوسری طرف مزدور کی ذمہ داری بھی بتائی گئی ہے ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب نوکر اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی اچھی طرح سے عبادت کرے تو اس کے لئے دوہرا اجر و ثواب ہے۔
خادم اور مزدور کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے مالک کا خیر خواہ ہو بد خواہ نہ ہو ۔مال کی خیرخواہی کے ساتھ وہ اپنے حقیقی مالک یعنی اللہ رب العزت کی بندگی سے بھی غافل نہ ہو تو وہ لازماً دوہرے اجر و ثواب کا مستحق قرار پائے گا۔
مسلم کی ایک اور حدیث ہے جس کے راوی حضرت جریر رضی اللہ عنہ ہے نبیؐ نے یہاں تک فرمایا :جب نوکر/ مزدور بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی ۔
دوسری جگہ آپ ؐنے فرمایا : جو کوئی غلام بھاگ جائے تو اس کے سلسلہ کی ضمانت اور ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
جو شخص اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتا ہے وہ خدا کی امان میں ہوتا ہے ۔سوسائٹی کے افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کے حقوق کا بخوبی پاس و لحاظ رکھیں ۔
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا جواب بہت پسند آیا۔
’’مالک کی اجازت کے بغیر بکری کا دودھ کسی کو دینا امانت میں خیانت ہے میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘
حقوق اور ذمہ داریوں کے دلکش امتزاج کے ساتھ ہی ایک پر امن معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔یہ وہ زریں اصول ہے جس سے مالک بھی خوش مزدور بھی خوش ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے وہ کہتے ہیں کہ دس سال تک میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی بات پر اف تک نہیں کہا اور یہ تک نہ فرمایا کہ یہ کیوں کیا اور وہ کیوں نہیں کیا ؟