درس حدیث
زمرہ : النور

دَخَلْتُ علَى النبيِّ صَلَّى اللهُ عليه وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِن بَنِي عَمِّي، فَقالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ:
يا رَسولَ اللهِ، أَمِّرْنَا علَى بَعْضِ ما وَلَّاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقالَ الآخَرُ مِثْلَ ذلكَ، فَقالَ:
إنَّا وَاللهِ لا نُوَلِّي علَى هذا العَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ، وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عليه.
الراوي : أبو موسى الأشعري | المحدث : مسلم | المصدر : صحيح مسلم الصفحۃأو الرقم:1733

ترجمہ :
حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ دومیرے چچا زاد بھائی بھی تھے ۔ان میں سے ایک نے کہا یارسول اللہ! مجھے ان ملکوں میں سے جو اللہ عزوجل نے آپ کو عطا کیے ہیں کسی ایک کی امارت عطا فرمائیں ۔دوسرے شخص نے بھی ایسا ہی کہا۔
آپ صلی الله عليہ وسلم نے فرمایا
’’بخدا ہم یہ خدمت اس کو نہیں سونپتے جو اس کی درخواست کرے اور نہ کسی ایسے شخص کو سونپتے ہیں جو اس کا حریص ہو ‘‘
اک اور حدیث ہے کہ آپؐ نے فر مایا لو گوں میں بہتر تم ا سے پاؤ گے جو اس ( سیادت و امارت) کوسخت نا پسند کر تا ہو۔
اک مرتبہ حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ نے آپ ؐ سے کسی منصب کی درخواست کی تو حضورؐ نے فر مایا : اے ابو ذر !تم کمزور ہو،اور یہ منا صب (بھاری) امانت ہیں۔ اور یہ قیامت کے دن سخت رسوائی اور پشیمانی کا باعث ہوں گے۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدہ و منصب انسان کو بڑی سخت آزمائش میں مبتلا کر دیتے ہیں دنیوی آزمائش تو کچھ اس طرح کی ہوسکتی کہ انسان کو ہمہ وقت احساس برتری، ریاکاری و خودنمائی وغیرہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔اخروی نقصان یہ ہے کہ اللہ کی رضا تو دور الٹا عذاب کا مستحق بن جاتا ہے ۔
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ؐ نے مجھ سے فر مایا:’’امارت طلب مت کرواس لیے کہ اگر مانگنے سے تمہیں امارت ملے تو تم اسی کے حوالے کر دیئے جاؤگے اور اگر بغیر طلب کیے تمہیں امارت ملےتو (اس سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے) خدا کی جانب سے تمہاری مدد کی جائےگی۔
اس حدیث میں ان تمام افراد کے لیے خوشخبری ہے جو کسی عہدہ و منصب کی طلب و خواہش کے بغیر کسی ذمہ داری پر فائز کیے گئے ۔خدا کی تائید و مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے اوروہ بحسن و خوبی اپنی ذمہ داری تا دم آخر انجام دیتے ہوئےاس د ار فانی سے کوچ کرتے ہیں ۔رہا وہ شخص جس کے دل میں منصب کی خواہش ہو تی ہے وہ اس کی نزاکتوں اور احساس ذمہ داری سے عاری ہو تا ہے ۔ایسے شخص کوآخرت میں رسوائی اور اللہ کے عذاب کا خوف نہیں ہوتا ہے نتیجتاً وہ خدا کی تائید و نصرت سے محروم رہتا ہے اور اس کے زیر دست افراد بھی اطمینان و خوشی کے ساتھ راہ حق پر گامزن رہنے سے محروم رہتے ہیں۔
اس واقعہ سے امارت وقیادت کے حساب کی سختی کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔عمربن عبدالعزیزرحمت اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے خیمے میں داخل ہوئےتو خادمہ نے آپ کو بے چین دیکھ کر پوچھا شاید آپ متردد ہیں؟
’’بولے یہ تشویشناک بات ہی ہے،مشرق و مغرب میں امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو اور بغیر مطالبہ و اطلاعا اس کا ادا کرنا فرض نہ ہو‘‘
اس طرح دیکھا جائےتوامارت کے معنی خدا اور اس کے بندوں کی جانب سے اک بھاری بوجھ کو اٹھانے کے ہے۔جس کی آخرت میں سخت جوابدہی ہوگی۔

عہدہ و منصب انسان کو بڑی سخت آزمائش میں مبتلا کردیتے ہیں دنیوی آزمائش تو کچھ اس طرح کی ہوسکتی کہ انسان کو ہمہ وقت احساس برتری، ریاکاری و خودنمائی وغیرہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔اخروی نقصان یہ ہے کہ اللہ کی رضا تو دور الٹا عذاب کا مستحق بن جاتا ہے ۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. حمیرہ صدیقہ

    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ..

    اللہ تعالیٰ اپ کو اس کاوش کے عوض جزائے خیر عطا فرمائے آمین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱