درس حد یث
زمرہ : النور

بد گمانی

اِذا ظننتُم فلا تُحِقِّقُو

( جب کسی شخص کے متعلق تمہیں کوئی برا گمان ہوجائے تو پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو)

اللہ کے رسول ؐنے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہوکیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے اور لوگوں کے رازوں کی کھود کرید نہ کرو،اور نہ لوگوں کی نجی گفتگو کو کان لگا کر سنو۔ آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو۔ بھائی بھائی بن کر رہو۔
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا کہ کسی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ دوسروں ہو برا سمجھے۔
اللہ نے جس چیز کے بارے میں تمہیں علم نہیں دیا ہے اس کی ٹوہ میں نہ لگو۔ یہ بدگمانی تو گناہِ کبیرہ ہے۔
اہلِ ایمان کو اسلام نے یہ رہنمائی دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے تعلق سے ہمیشہ نیک گمان رکھے۔ یہاں پر اپنے دل و دماغ کے اندر برے خیالات کو پالنے اور اسے پروان چڑھانے سے قطعاً روکا جا رہا ہے۔بدگمانی ایک مہلک بیماری ہےجو غصہ، غیظ و غضب، نفرت، حسد و بغض جیسے بنیادی عناصر سے ظہور عمل میں آتا ہے۔شریعتِ مطہرہ نے بدگمانی سے مطلقاً روکا ہے۔ ان تنبیہات سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب آدمی گمان کر رہا ہو تو یہ سوچے کہ کیا یہاں پر فی الواقع اس گمان کی معقول وجہ میرے پاس ہے؟مجھ سے کہیں گناہ کا عمل تو سرزد نہیں ہورہا؟ یہ احتیاط لازماً ہر وہ شخص کرے گا جو اللہ اور روزِ آخر سےخوف کھاتا ہو۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں نیک گمان رکھے۔ إلّا یہ کہ یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اس نیک گمانی کا سزاوار نہیں ہے،تو اس کی یہ نیک گمانی، اخوت و محبت کا لازمی تقاضا بن جائے گی۔روزمرہ کی زندگی میں نوعِ انسان کو جن سے سابقہ پیش آتا ہے ان کی بابت کوئی اچھا یا برا گمان دل میں پیدا ہوجانا ایک فطری امر ہے۔ بدگمانی انفرادی و اجتماعی، تنظیمی و خاندانی تعلقات کے اندر بگاڑ، مخالفت اور غلط فہمیوں کا ظہور پیدا کرتی ہے۔بدگمانی انسان کی اخلاق و کردار کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے۔ قرآن مجید میں سورہ الحجرات کے اندر اللہ تعالیٰ نے کثرت سے گمان کرنے سے دوٹوک روکتے ہوئے بعض گمان کو گناہ قرار دیا ہے۔کثرت سے گمان کرنے والے کی مثال اس شوقین مچھیرے کی سی ہے جو مچھلیاں پکڑتے پکڑتے ایک دن سانپ بھی پکڑ لیتا ہے۔ایسے اندھے شخص سے اندیشہ ہے کہ وہ گمان کی پیروی کرتے ہوئے کسی دن اپنی دنیا و آخرت برباد کر لے گا۔ قرآن مجید میں مومن بندوں کو رحما ٓ بینھم کی تلقین کی گئی ہے۔
ایک مردِ مومن کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے میں وہ ہمیشہ بدگمانی سے ابتدا کرے، ہر پہلو و ہر معاملے میں بدظنی سے کام لے،لوگوں کے دلوں کو چھلنی کرنے جیسی عادت کو اپنی زندگی کا حصہ و اصول بنا لے۔کسی کی منفی و تاریک پہلو کو دیکھنا، اس کے متعلق negative thoughtsسکو بڑھانا اور اس کے ساتھ اسی طرح کا طرزِ عمل اختیار کرنا اس کو دینِ اسلام کی اصطلاح میں بدگمانی و سوء ظن قرار دیا گیا ہےجس کے اثرات بڑے بھیانک ہوتے ہیں اور جس کی تلافی عام نیکیوں سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے برعکس کسی کی مثبت و روشن پہلو پر نظر رکھنا اور اس کے تئیں positive thoughtsکو اپنے اندر پروان چڑھاتے ہوئے اس کے ساتھ اچھے تعلقات و مناسب طرزِ عمل اختیار کرنا یہ دینِ اسلام کی اصطلاح میں حسنِ ظن کہلاتا ہے۔حسن ظن کے ثمرات و درجات کا ایک الگ اونچا و اعلیٰ مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حسنِ ظن اپنے انبیاء، شہداء و صالحین کو نوازا تھا۔جس نے حسن ظن کی طبیعت پالی اس نے گویا دونوں جہاں کی نصرت پالی۔ جس نے سوء ظن کو اپنایا اس نے بڑے خسارے کا سودا کیا۔
حقیقی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے لئے حسنِ ظن رکھتے ہیں۔ جب کوئی معاملہ درپیش ہو تو اپنے روشن پہلو سے دلائل کے ساتھ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ یہی عمل جب دوسروں سے سرزد ہوجائے تو ہم ان کے کمزور پہلو پر focuse کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ اسے مجرم قرار دیتے ہیں۔یہاں پر تو اپنے لئے حسنِ ظن اور دوسروں کے لئے سوء ظن کا معاملہ ہے۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ صد چاکِ بُلبل کی
تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
اللہ کے رسول ؐنے مومن کی تعریف و توصیف کرتے ہوئےفرمایا، ’’ المومنُ عد کریم
( مومن بھولا بھالا و شریف ہوتا ہے)۔‘‘
اور ایک جگہ یوں فرمایا:

’’ اِذا ظننتُم فلا تُحَقِّقُو

( جب کسی شخص کے متعلق تمہیں کوئی برا گمان ہوجائے تو پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو)‘‘
   اللہ کے رسولؐنے اپنی اسوۂ حیات میں بعض مقامات پر جب سامنے والے کےبدگمان ہونے کا اندیشہ محسوس کیا تو فوراً اس کی وضاحت فرمائی تاکہ یہ غلط فہمی جڑ نہ پکڑ لے۔
         ایک دفعہ کا ذکر ہے جب اللہ کے رسولؐرمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے تو ام المومنین حضرت صفیہ بنتِ حییؓ تشریف لائیں۔ملاقات کے بعد جانے لگیں تو آپؐ انہیں چھوڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔راستے میں دو انصاری صحابہؓ کا وہاں سے گزر ہوا۔انہوں نے آپؐ کو سلام کیا۔ آپؐنے فرمایا : ’’کسی سوچ کی ضرورت نہیں یہ تو میری بیوی صفیہ بنت حئؓ ہیں۔ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔‘‘
 معاشرے کے سدھار و اپنی بقاء کی کامرانی اسی میں ہے کہ ہم سامنے والوں کو بدگمان ہونے کے مواقع فراہم نہ کریں اور اندیشہ ہو تو فوراً اپنا دفاع کریں۔ بدگمانی سے گریز کریں۔ آئے دن سوشل میڈیا کا غلط استعمال انسانی زندگی میں بدگمانی کو پروان چڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرنے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

اہلِ ایمان کو اسلام نے یہ رہمانی دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے تعلق سے ہمیشہ نیک گمان رکھے۔یہاں پر اپنے دل و دماغ کے اندر برے خیالات کو پالنے اور اسے پروان چڑھانے سے قطعاً روکا جا رہا ہے۔بدگمانی ایک مہلک بیماری ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

جولائی ۲۰۲۱