درس قرآن
زمرہ : النور

لَن تَنَالُواْ ٱلْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ۔۔۔

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو۔۔ (آل عمران 92)

اسلام دین فطرت ہے اور زندگی کے تمام شعبہ جات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اسلام معاشرتی عدل واحسان کو پسند کرتا ہے۔
انسان جن چیزوں کی محبت میں فطری طور پر مبتلا ہوکر اللہ تعالی اور اس کی مخلوق سے بیگانہ ہوتا ہے قرآن و حدیث میں ان محبتوں کو اللہ تعالی کی راہ میں قربان کرنے کو “انفاق فی سبیل اللہ” کہا جاتا ہے۔ مثلاً ان میں والدین، اولاد ، بیویاں، قریبی رشتہ دار، مال و دولت، تجارت سب شامل ہیں۔ حسبِ موقع جس چیز کی ضرورت اللہ کے دین کو ہو اُس وقت اُسی چیز کو صرف رضائے الہی کی خاطر صَرف کر دینا اللہ رب العزت کو مطلوب ہے۔

لَن تَنَالُواْ ٱلْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ۔۔۔

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو۔۔ (آل عمران 92)
اللہ رب العزت قرآن حکیم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے مال کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اللہ جس کے مال کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے وہ بڑا کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
عہدِاوّل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے اندر اس جذبے کو خوب ابھارا چنانچہ سیرت کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ اس کی مثالیں ملتی ہیں۔
اور ساتھ ہی سورہ الحدید کی آیت نمبر 11

مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗۤ اَجۡرٌ كَرِيۡمٌ ۞

کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے۔
جب نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے دریافت فرمایا: اےرسول اللہﷺ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ آپﷺنے جواب دیا: ہاں ابو الدحداح۔ انھوں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔ آپﷺنے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ انہوں نے آپﷺکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: ’’میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ’’اس باغ میں چھ سو درخت تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور ان کا گھر بھی اسی میں تھا۔ آپﷺکے پاس سے جب وہ لوٹے تو باغ کے باہر ہی سے آواز دی، اے دحداح کی ماں! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔ وہ بولیں: دحداح کے باپ! تم نے نفع کا سودا کیا۔ پھر اسی وقت اس باغ کو چھوڑ دیا۔‘‘ (مشکواۃ)
غزوہ تبوک ہی کا واقعہ ہے کہ آپﷺلوگوں کو زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺمیں اللہ کی راہ میں سو اونٹ فراہم کروں گا، آپﷺنے دوبارہ ترغیب دی تو پھر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں دو سو اونٹ فی سبیل اللہ دوں گا۔ پھر تیسری مرتبہ آپﷺنے ترغیب دی تو پھر حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور بولے: اے اللہ کے رسول میں تین سو اونٹ راہ خدا میں دوں گا۔ راوی حدیث حضرت عبد الرحمان کہتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ آپﷺمنبر سے اترتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اس کے بعد عثمان کچھ بھی کریں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ (یعنی اب اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت کے عوض ان کو معاف کردے گا)۔ ۔ (ترمذی)
تاریخ ایسے بہت سے صحابہ و صحابیات کی ایثار و قربانی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ امہات المومنین اور صحابیات رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے چھڑی لے کر انہیں ناپا تو ان میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ سب سے لمبے تھے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد زیادہ صدقہ وخیرات کرنا تھا اور ہم میں سب سے پہلے وہی (حضرت زینب بنت حجش) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والی تھیں کیونکہ وہ صدقہ کرنا بہت پسند کرتی تھیں۔‘‘ ( بخاری،احمد، نسائی)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خرچ کرو اور گن کر نہ دو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن کر دے گا، اور ہاتھ نہ روکو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے اپنا ہاتھ روک لے گا۔‘‘ (متفق علیہ)
ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

” لِيَتَّقِ أَحَدُکُمْ وَجْهَهُ النَّارَ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ”

تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچائے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی خیرات کرنے سے ہو۔ ‘‘
بہت سارے مسلمان عام دنوں میں صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں لیکن چونکہ رمضان میں تمام عبادات کا اجر ستر گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے اس لیے بدنی عبادات کے ساتھ “انفاق فی سبیل اللہ” کو بھی مقدم رکھیں۔۔صدقہ کے سب سے پہلے مستحق قریبی اقرباء ہیں اس کے بعد غریب، مسکین، مسافر ہیں اور انفاق میں سب سے پہلے ان لوگوں کا حق ہے جو اللہ کی راہ میں ایسے سرگرداں ہے کہ انہیں تلاش معاش کے لیے سر اٹھانے کی فرصت نہیں ملتی۔ اس کے بعد اعلائے کلمۃ اللہ کے ضمن میں جتنے کام آتے ہیں۔
لیکن امت کا المیہ یہ ہے کہ ہم مسجدوں اور مدرسوں میں کثیر رقم خرچ کرتے ہیں اور عزیز و اقارب کو بھول جاتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دنیا کے فائدوں ، لذتوں اور خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں۔

جب کہ اللہ تعالی سورہ الأعلى آیت نمبر 16 اور 17 میں فرماتے ہیں

ۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۞ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّ اَبۡقٰىؕ‏ ۞

مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔۔
آخرت دو حیثیتوں سے سے دنیا کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے 1) اس کی راحت اور لذت دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہیں اور 2) دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی
رہنے والی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر آدمی ایک درہم اپنی زندگی میں صدقہ کرے تو یہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ سو درہم اپنی موت کے وقت خیرات کرے۔‘‘ (ابوداود)
جب تک ایثار کا جذبہ ہمارے اندر پیدا نہیں ہوگا تب تک ہم صدقہ و انفاق نہیں کر سکتے۔ ایمان۔۔۔ ایثار اور قربانی چاہتا ہے اس کے لیے ہمیں اپنی خواہشات اور فضول خرچی کو ختم کرکے دوسروں کو ترجیح دینا ہوگی۔
اللہ تعالی سورہ النساء آیت نمبر 32 میں فرماتے ہیں

لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبُوۡا ؕ‌ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبۡنَ‌ ؕ

کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ۔
گزشتہ ایک سال سے امت جس آزمائش سے گزر رہی ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ رمضان کی آمد آمد ہے اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ ایسے میں ہماری بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم خصوصاً خواتین اور ہمارے بچے ابھی سے کچھ رقم پس انداز کریں۔تاکہ ہم ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔ بالخصوص رمضان میں سحر و افطار کا انتظام کر کے دیں اور ساتھ ہی کچھ رقم جو دوسری ضرورتوں کے لیے کام آسکے۔اور خصوصاً وہ لوگ جو اپنی خود داری کی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلاتے احسن طریقے سے انکی ضروریات پوری کریں۔ تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے اور ہم حشر کے میدان میں اس کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہےکہ وہ ہمیں تمام عبادتوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ صدقہ و انفاق کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین

لِيَتَّقِ أَحَدُکُمْ وَجْهَهُ النَّارَ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ

تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچائے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی خیرات کرنے سے ہو۔ 

اپریل ۲۰۲۱