درس قرآن
زمرہ : النور
قلمکار‎ : منذرہ بیگم

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ
وَوَصَّينَا الإِنسانَ بِوالِدَيهِ حَمَلَتهُ أُمُّهُ وَهنًا عَلىٰ وَهنٍ
وَفِصالُهُ في عامَينِ أَنِ اشكُر لي وَلِوالِدَيكَ إِلَيَّ المَصيرُ

(سورہ لقمان :۱۴)
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر حمل میں رکھا اس کا دودھ چھڑانا دو برس کی مدت ہے تاکہ تم میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو (تم کو) میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
(تفسیر : چار منتخب تفاسیر کو منقول کیا جا رہا ہے۔)

تفہیم القرآن     مولانا     ابوالاعلی مودودیؒ

بچے کے ماں کے پیٹ میں رہنے اور اس کا دودھ چھوٹنے کا عمل تیس مہینوں میں ہوا، یہ ایک اہم و قانونی نقطہ ہے جو جائز و ناجائز ولادت کی بہت سی بحثوں کا فیصلہ کرتا ہے۔حضرت امام شافعیؒ،حضرت امام احمدؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام مالک نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچے کی دودھ پینے کی مدت رضاعت دو سال ہے اس مدت کے اندر کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو تو تب حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی۔
جب کہ امام ابو حنیفہؒ نے مزید احتیاط کی خاطر بچے کے دودھ پینے کی مدت ڈھائی سال کی تجویز کی ہے تاکہ بچے کی توجہ دوسری غذا پر رہے اور وہ دودھ کا محتاج نہ رہے۔آیت کا منشا یہ نہیں ہے کہ ماں لازماً دو سال ہی دودھ پلائے جس کی وضاحت کے لئے مولانا نے سورہ البقرہ آیت نمبر 233 کا حوالہ دیا ہے۔
دعوت القرآن مولانا شمس پیر زادہ
شمس پیر زادہ کے حوالے سے یہ تفسیر سامنے آتی ہے کہ باپ کے مدِ مقابل تکلیف پر تکلیف زیادہ جھیلنے کی بنا پر حسنِ سلوک کی زیادہ مستحق ماں ہے۔آپ نے رسول الله ﷺ کی حدیث کے اس حوالے سے بیان فرمایا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐنے فرمایا تمھاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمھاری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟
فرمایا تمھارا باپ۔
دیگر مقامات پر دیکھا جائے تو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی گئی ہے جبکہ اس آیتِ کریمہ میں والدین کی شکر گزاری کی ہدایت بھی کی گئی ہے یہ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ والدین کے ساتھ اولاد کا تعلق جذباتی لگاؤ والا ہو اولاد کی زبان سے خیر کے کلمات مطلوب ہیں اور اللہ کا شکر والدین کی شکر گزاری پر مقدم ہے۔
فی ظلال القرآن مولانا سید قطب شہید ؒ
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اولاد کو والدین کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے جبکہ بہت ہی چند محدود علاقوں میں بچوں کو زندہ درگور کر دینے کی رسم کا سلسلہ جاری تھا جس کے مقابل اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ حیات کو جاری رکھنے کے لئے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں، نگرانی کریں۔اس طرح والدین اپنے جسم، اپنے اعصاب، اپنی عمر اور اپنی عزیز سے عزیز تر چیز کو بھی بخوشی قربان کر دیتے ہیں۔لہٰذا بچوں کے لئے فطرتِ انسانی خود کفیل ہوتی ہے مزید کسی وصیت و تاکید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
اور جہاں تک بچوں اور اولاد کا تعلق ہے وہ والدین کی اس قربانی کا پورا معاوضہ اپنی تمام عمر وقف کر کے بھی نہیں دے سکتے۔اس آیت میں والدہ اپنے فریضۂ طبعی کی رو سے زیادہ قربانی دیتی ہے اور بچوں کے لئے ماں کی محبت، شفقت اور نرمی باپ کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے۔ اس بات کو صاحبِ فی ظلال القرآن نے ایک حدیث کے حوالے سے پیش کیا کہ ایک شخص اپنی ماں کو گود میں اٹھا کر طواف کروا رہا تھا تو اس نے نبی کریمﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں نے ماں کا حق ادا کردیا؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں،یوں ایک سانس کے برابر بھی نہیں جبکہ وضع حمل کے دوران وہ اسے ضعف جھیل کر اٹھا رہی تھی۔
اس آیت میں اولاد کے لئے تاکید کی گئی کہ وہ ان حقائق کے ساتھ ساتھ یہ اہم حقیقت بھی یاد رکھے والدین کی شکرگزاری بھی بجا لائے اگر والدین اولاد پر دباؤ ڈالیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائے تو ان کی یہ بات ہرگز نہ مانو کیونکہ والدین کی اطاعت کی سرحد یہاں ختم ہوجاتی ہے اور رب کی اطاعت اولاد و والدین کے مابین افضل اور اعلیٰ ہے۔یہ ایک نظریاتی اختلاف ہے کہ والدین کی عدم اطاعت حکم کے باوجود والدین کی عزت و احترام اور ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ ضروری ہے۔ دنیا کی زندگی ایک مختصر سا سفر ہے۔اصل سفر تو اہلِ ایمان کی پیروی ہے جہاں اللہ کے سامنے حاضری دینا ہے۔ اس روز یہ بات واضح ہوجائے گی کہ شرک کی راہ اختیار کی ہے یا توحید کی۔بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت سعد ابن ملک کے حق میں نازل ہوئی ہے جبکہ طبرانی نے العشرۃ کی کتاب میں نقل کیا ہے کہ سعد ابن ابی وقاصؓ کا قصہ آیا ہے البتہ اس آیت کا مفہوم اور اس آیت کا حکم تمام حالات پر عام ہوگا۔ اسلام میں اللہ کا رتبہ سب سے اعلیٰ ہے، اللہ کے حقوق سب سے افضل و اونچے ہیں۔ حضرت لقمانؑ کی اس تقریر میں انتہائی شعور، انسانی تصویر اور یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اللہ اس کائنات کے ذرے ذرے کو جانتا ہے۔
تدبر القرآن مولانا امین احسن اصلاحی
لقمان نے بیٹے کو خدا کی شکرگزاری اور اس کے حق کی ادائیگی کی تاکید فرماتے ہوئے اللہ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انھوں نے ادب کے خلاف فرمایا۔اس بنا پر قیامت کے ذکر کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس آیت میں صاحبِ تدبر نے شکر کے مفہوم کو یوں واضح کیا کہ اس کی اصل حقیقت ایفائے حق ہے۔اگر یہ نہ ہو تو فقط زبانی شکر ایک بے حقیقت چیز ہے۔ جسے سورۂ بنی اسرائیل اور سورہ العنکبوت کے حوالے سے ان لشکرلی ولو الدیک کوسمجھایا ہے۔
اس آیت میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ شکر گزاری اور والدین سے خدمت و ہدایت کا تعلق دونوں کے لئے برابر فرمایاہے لیکن قربانیاں و جانفشانی ماں کی گنوائی گئی ہیںجبکہ باپ کی کسی قربانی کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ حمل، ولادت اور رضاعت تینوں کا تعلق ماں سے ہے جس کی وضاحت کے لئے بطور دلیل صاحبِ دعوت القرآن کی وہی حدیث کا حوالہ آپ نے بھی بیان کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مشرک والدین سے حسن سلوک دستور کے مطابق باقی رہیں گے اور آپ نے ان کے حق میں دعا کا تعلق اس وقت تک رکھا تھا جب تک کہ اللہ کی طرف سے روک نہیں دیا گیا۔اس بات میں بظاہر خطاب والدین اور اولاد دونوں سے یکساں ہے اور آخر میں تنبیہ و اطمینان دہانی کرائی گئی ہے کہ ایک دن تو سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے جس دن سب کچھ سامنے رکھا جائے گا کہ کن والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو اس کی سزا بھگتے گا اور جس اولاد نے والدین کی حق تلفی کی تو وہ بھی اس کی سزا بھگتے گا۔اس کے برخلاف حقوق و شکرگزاری کی راہ میں استقامت و عزیمت دکھائی تو اس شکل میں اس کا بھر پور صلہ پائے گا۔
حرفِ آخر: اسلام میں والدین کی فرمانبرداری و حقوق کی ادائیگی کو اللہ کے ساتھ تشبیہ کی گئی ہے۔یہ آیت والدین کی عزیمت، ان کی حقانیت اور اہمیت کو واضح کرتی ہے والدین سے حسن سلوک کی توفیق گویا کہ دونوں جہاں کی سعادت مندی ہے۔ ایک جگہ ان سے احترام سے بات کرنے کی تلقین کی گئی ہے تو دوسری طرف انہیں اُف تک نہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ان کی رضامندی کو جنت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام میں والدین کے مطالبات کو بخوشی و رضا پورا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ایک نیک و صالح اولاد صدقۂ جاریہ ہے۔والدین کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت گویا کہ دنیا و آخرت میں موجبِ ہلاکت ہے۔ قرآن مجید میں خصوصیت کے ساتھ ہم ماؤں بہنوں کا پراثر انگیز انداز میں اس آیت میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ایک طرف ہماری نفسیات اور اس کی حقیقت کو واضح کیا تو دوسری طرف ہمارے درجات کو بلند و پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔اسوۂ صحابیاتؓ اس بات پر شاہد ہے کہ ایک مشرک ماں کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہو؟رضاعی ماں کے ساتھ ہم کیسا سلوک کریں؟ حتیٰ کہ ایک ظالم و جابر ماں کے ساتھ ہمارا کردار کیاہو؟
آج ہمارے معاشرے میں والدین کا احترام ختم ہوچکا ہے ان کے ساتھ عاجزی و انکساری والی وہ کیفیت باقی نہ رہی جو کہ ہمارے اسلاف میں تھی۔آج قرآنی احکامات ہمارے اندر ماند پڑ چکے ہیں۔
تجھے آباسےاپنے کوئی نسبت ہونہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارہ
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ہمارا رشتہ مضبوط ہو۔تعلق باللہ ہی حقوق کی پاسداری کا بنیادی سبب ہے۔آئیے دلسوزی اور قلبی جذبات کے ساتھ ہم اپنے والدین کے حق میں دعا گو ہوں۔
اور دعا کرو کہ، اے پروردگار! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش فرمائی تھی۔ آمین

دیگر مقامات پر دیکھا جائے تو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی گئی ہے جبکہ اس آیتِ کریمہ میں والدین کی شکر گزاری کی ہدایت بھی کی گئی ہے یہ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ والدین کے ساتھ اولاد کا تعلق جذباتی لگاؤ والا ہو اولاد کی زبان سے خیر کے کلمات مطلوب ہیں۔