درس قرآن
زمرہ : النور

اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّـٰهِ حَنِيْفًا ۖ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ

(سورة نحل:۔آیت120)

حضرت نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو انسانی ہدایت کے لیے مقتدی اور امام بنایا گیا۔ انہی سے تاریخ کی دو عظیم قومیں وجود میں آئیں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں کے جدامجد، امام و پیشوا آپ ہی ہیں۔
سیدنا ابراہیم علیہ اسلام کا ذکر قرآن مجید کی تقریبا 22سورتوں میں آیا ہے اور جابجا آپ علیہ السلام کے اوصاف کا ذکر کیا گیا۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ذکر اس لحاظ سے بھی خصوصیت کا حامل ہے کہ مسلمان اور دیگر اہل کتاب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا اور مقتداء سمجھتے ہیں۔
آپ علیہ السلام کی زندگی کے کارناموں اور قربانیوں نے وہ گہرے نقوش ثبت کیے جن سے امتوں نے استفادہ کیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے اوصاف:۔

’’اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّـٰهِ حَنِيْفًا ۖ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْن٥َ ‘‘

’’بے شک ابراہیم ایک پوری امّت تھا اللہ کا فرمانبردار تمام راہوں سے ہٹا ہوا، اور مشرکوں میں سے نہ تھا۔‘‘(سورة نحل:۔ آیت120)
۱۔ امّت:۔
سیدنا ابراہیم علیہ اسلام اپنی ذات میں خود ایک الگ امّت تھے۔لغت عربیہ میں امّت کا لفظ متعدد معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
مثلاً:
۱۔ وہ انسان جو تمام خوبیوں کا جامع ہو۔
۲۔امام اور پیشوا۔
۳۔ علمبردار حق و صداقت
۴۔جو دنیا بھر سے الگ تھلگ ہو
حضرت ابراہیم علیہ السلام ان تمام اوصاف کے اعتبار سے امّت کہے جانے کے مستحق ہےاورآپ علیہ السلام کی امامت کی گواہی خود قرآن کریم نے دی۔
۲۔قانت :۔کے معنی ہے اطاعت گزار اور فرماں بردار۔
۳۔ حنیف:۔ یعنی ہر آستانے سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالی کا ہو جانے والا۔
(یہ صفت قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے 8مرتبہ آئی ہیں )
ان دونوں صفات کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ایک ایسا نمونہ معلوم ہوتی ہے کہ جس پر فخر تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی اتباع آسان نہیں۔
۴۔شرک سے بیزار:۔
قرآن مجید میں حنیف کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے بار بار شرک سے بیزاری کا ذکر کیا گیا۔
۵۔مسلم:۔

إِذ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسلِم ۖ قالَ أَسلَمتُ لِرَبِّ العالَمينَ  (سورةالبقرہ:۔ آیت131)

جب اسے اس کے رب نے کہا فرمانبردار ہو جا تو کہا میں جہانوں کے پروردگار کا فرمانبردار ہوں۔
مسلم کہ معنی ہے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا ،حوالہ کر دینا۔
بندے اور اس کے رب کے درمیان حقیقت میں یہی رشتہ ہے۔ اس میں کمی اور کمزوری گمراہی ہے۔ اسی رشتے کو پختہ کرتے چلے جانا اس تعلق کی معراج ہے اور یہی ملت ابراہیم اور اسلام ہے۔

اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَحَلِيْـمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ 

’’بے شک ابراہیم بردبار نرم دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ (سورةھود:۔آیت75)

۶۔حلیم:۔ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے والا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام چونکہ طبعی طور پر نہایت حلیم اور برباد تھے جو کسی دشمن سے انتقام لینا پسند نہیں کرتے تھے۔

7 ۔اَوَّاهٌ:۔

نرم دل ،رقیق القلب ،خداترس۔یہ صفت اسی میں ہو سکتی ہے جسے اللہ نے دردمند دل عطاء کیا ہو۔ایک مومن کو ہر حال میں اللہ کی رضا سے وابستہ رہنا چاہیے۔ اس کا دل اللہ اور اس کے دین کی محبت سے لبریز ہونا چاہیے۔اسے دین کی خاطر ان بندوں کے لیے جو اللہ کے دین سے باغی ہیں اور جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں ہمیشہ بے تاب اور بےچین ہونا چاہیے۔

۸۔ مُّنِيْبٌ:۔

اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے والا، اس کی طرف بار بار پلٹنے والا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی فطرت میں چونکہ اللہ تعالی نے انابت کا ملکہ رکھا تھا اسی لیے اللہ تعالی نے آپ کو منیب قرار دیا ہے کہ آپ کثرت سے اللہ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ ہر بات میں ہر تکلیف کے وقت آپ کا رجوع اللہ کی ذات کی طرف ہوتا تھا۔

’’وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ اِنَّهٝ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا‘‘

اور کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجئے ، بے شک وہ راست باز اورنبی تھے۔
(سورةمریم:۔آیت 41)
۹۔ صِدِّيْقً:۔
حق کی تصدیق کرنے والا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جو بنیادی اعتقادات اور شریعت دی گئی آپ علیہ السلام نے ساری زندگی اس کا مصداق بن کر گزاری اور اس راستے میں جو بھی امتحان دینا پڑا اس میں کامیاب ہوئے اور جو بھی تکلیف اٹھانا پڑی اسے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔

’’رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ‘‘

’’اے ہمارے رب! ہمیں ان کا تختہ مشق نہ بنا جو کافر ہیں اور اے ہمارے رب ہمیں معاف کر، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘
(سورة الممتحنة:۔آیت5)
۱۰۔ انابت:۔ بارگاہ الہی میں توبہ و استغفار کرنے والا۔
انبیاء معصوم عن الخطا ہوتے ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے قرآن مجید باربار اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کو پکارا اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کیا اور یہی انبیاءعلیہ السلام اور ان کی اتباع کرنے والوں کا شیواء ہے۔
۱۱۔ شکر گزار:۔ نعمتوں پر شکر ادا کرنے والا۔

اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ وَهَبَ لِىْ عَلَى الْكِبَـرِ اِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَسَـمِيْعُ الـدُّعَآءِ

’’اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے، بے شک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے۔‘‘(سورة ابراہیم:۔آیت 39)
نعمتوں پر شکر، نعمتوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے اللہ رب العالمین کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
۱۲۔ صاحب قلب سلیم:۔
ایسا دل جو تمام اعتقادی و اخلاقی خرابیوں(شرک و نفاق اور فسق و فجور کی ہر آلائش) سے پاک ہو۔

’’اِذْ جَآءَرَبَّهٝ بِقَلْبٍ سَلِـيْمٍ‘‘

جب کہ وہ پاک دل سے اپنے رب کی طرف رجوع ہوا۔
(سورة صافات:۔آیت 84)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اصل سرمایہ قلب سلیم ہے۔ اور یہی وہ علامت ہے جسے حنیفیت کہا گیا ہے۔
قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے۔ جس کی منزل اللہ تعالی کی ذات ہو اس کا راستہ صراط مستقیم ہو۔
ایسا دل جس میں اللہ کی محبت کے علاوہ کوئی دوسری محبت حائل نہ ہو سکے وہ دل جس کی بیداری اور آبادی بھی اسی محبوب و مطلوب سے ہے۔ اور اگر کوئی شخص ایسے قلب سلیم کی دولت سے بہرہ ور ہے تو وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ذات ہے۔ الہی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کی اتباع کرنے اور آپ علیہ السلام کی طرح اوصاف پیدا کرنے کی توفیق عطاءفرماء۔۔آمین یا ربی

ٱاللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .اللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

جولائی ۲۰۲۱