دوسرا سوال
’’کلثوم، کلثوم یہاں آؤ ! یہ ذرا کھیر میں ڈونگا ہلاؤ، جلدی آؤ !یہ دیکھو،کھیر کہیں گاڑھی نہ ہو جائے۔‘‘
امی فجرکی نماز کے بعد ہی سے باورچی خانے کے امور میں مصروف تھیں۔ کلثوم بھی اپنا ناظرہ قرآن کا اعادہ کرنے میں مصروف تھیں، جب امی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرا ئی، وہ فورا ً باورچی خانے کی طرف لپکی۔
’’لائیے، کہاں ہے ڈونگا؟‘‘
’’ارے وہیں کہیں پڑا ہوگا ،ابھی تو وہیں رکھا تھا۔ ذرا دیکھ بھی لیا کرو، لڑکی بارہ تیرہ سال کی ہو گئی ہے۔ ہر چیز ہاتھ میں دوں کیا، کچھ کام کی نہیں ہے یہ لڑکی……‘‘
امی کے اس طرح کہنے سے اسے ذرا بھی تعجب نہیں ہوا تھا۔ وہ اکثر گھر کے کاموں کے دوران مصروفیت کے بڑھ جانے سے ایسے ہی صلواتیں سنایا کرتیں تھیں۔ اس نے اپنی متلاشی نگاہوں سے باوچی خانے کا جائزہ لیا ،اطراف میں جہاں کھیر کا بڑا سا پتیلا اور دیگر بکھرے ہوئے سامان پڑے تھے، وہیں تھوڑی دوری پر رکابی میں پڑے ڈونگے پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے ڈونگا اٹھا کر کھیر میں گھمانا شروع کردیا۔ ویسے بھی کھیر رائتہ اور سالن میں چمچے گھمانا، پکوڑوں اور پلاؤ کی یخنی چکھ کر نمک مرچ کی مقدار معلوم کرنا، اس کا پسندیدہ کام تھا۔ خصوصاً اس وقت جب ہر پیر اور جمعرات کو امی کا روزہ ہوتا تو یہ بھاری ذمہ داری اس کے نازک کندھوں پر ہی ہوتی۔
پچھلے ایک ہفتے سے پڑوس میں کسی خاص مہمان کی آمد کی خبر گردش کر رہی تھی۔ پڑوس کی ساری خواتین بہت خوش تھیں کہ شہر سے طاہرہ باجی آرہی ہیں۔ طاہرہ باجی ابو جان کے عزیز دوست داؤد بھائی کی بیوی تھیں۔ داؤد بھائی، ابو جان سے عمر میں کافی چھوٹے تھے۔ پچھلے سال کلثوم نے طاہرہ باجی کو ایک اجتماع کے موقع سے دیکھا تھا۔ جب وہ گاؤں میں رمضان کی آمد کے موقع سے استقبال رمضان پر خطاب کر رہیں تھیں۔ وہ کچھ خاص مواقعوں سے خطاب وغیرہ کے سلسلے میں شہر سے گاؤں، اپنے شوہر کے ساتھ آتی رہتی تھیں۔ ان کا چھوٹا بیٹا ابوذر بہت پیارا اور گول مٹول تھا۔ ویسے تو طاہرہ باجی میں اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے لیے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ وہ انہیں پسند کرتی ہے، یا ناپسند؟ البتہ ابوذر اسے بہت اچھا لگتا تھا۔
وہ جب بھی ابوذر کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتی یا گود میں لینے کی خواہیش ظاہر کرتی تو امی ڈانٹ کر منع کر دیا کرتیں کہ اسے ہاتھ نہ لگاؤ، چھوٹا ہے، گر جائے گا ،چوٹ لگ جائے گی۔ امی طاہرہ باجی کے لیے بچھی جاتی تھیں، انہیں جب بھی گاؤں میں درس یا تقریر کے لیے بلایا جاتا تو وہ کلثوم کے گھر تشریف لا یا کرتیں۔ امی بہت پر جوش انداز میں ان کا استقبال کرتیں، ان کے کھانے، وغیرہ کا اہتمام کرتیں اور جب وہ شہر واپس جاتی تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑی سی تھیلی تھما دیتیں۔ شاید اس میں ناشتہ دان یا کچھ سامان وغیرہ ہو تا۔ جب وہ چلی جاتیں تو تھوڑی دیر کے لیے امی بہت اداس ہو جایا کرتی تھیں ۔
ایک دن میرےاستفسار کرنے پر انہوں نے بہت مشفقانہ انداز میں بتایا کہ وہ میری دینی بہن ہے۔ جب آتی ہے تو بہت خوشی ہوتی ہے اور جب چلی جاتی ہے تو دل اداس ہو جا تا ہے۔ پھر وہ ازخود ہی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگتی کہ یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تی ہے۔ وہ اپنے دین کے خادمین کی محبت دلوں میں ڈال دیا کرتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں واضح نمی محسوس ہوتی۔
نور آباد چھوٹا سا قصبہ تھا، جس کی آبادی تقریباً پانچ ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ سارے ہی لوگ آپس میں مل جل کر پیار محبت سے رہتے تھے۔ گوکہ دولت کی فراوانی نہیں تھی، مگر کوئی بھی شخص بھوکا نہیں سوتا تھا۔ مہمان نوازی تو اس گاؤں کا طرۂ امتیاز تھا۔ گاؤں میں سالوں سے ایک ہی مسجد تھی، جس کی امامت ابوجان کے ذمہ تھی۔ تین چار سال سے گاؤں میں دوسری مسجد کا تعمیری کام جاری تھا، جو اب کہیں جا کر اختتام کو پہنچا تھا۔
اس کی حیرت کی انتہا تب ہو ئی جب امی کواس نے کسی سے کہتے سنا کہ نئی مسجدکی امامت کے لیے طاہرہ باجی کے شوہر راضی ہو گئے ہیں اور وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ آج دوپہر تک گاؤں تشریف لا رہے ہیں۔ بغل والے مکان میں ان کے رہنے کا بندوبست کیا جا رہا تھا۔
امی مستعدی سے گھر کے سارے کام انجام دے رہی تھیں۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا، ورنہ وہ صبح کے دس بجے ہی قدیر چچا (موذن) کو اذان اور ابو جان کو ظہر کی نماز پڑھوانے کا کہہ دیں تاکہ جلد دوپہر ہو جائے اور ان کی آنکھیں طاہرہ باجی کے دیدار سے ٹھنڈی ہوں۔ پڑوس کی خواتین کا حال بھی امی سے جدا نہ تھا۔ وہ سب طاہرہ باجی کی آمد کا سن کر اپنے اپنے گھروں سے رکابیوں میں سجا سجا کر مختلف انواع واقسام کے گرم گرم کھانے پکا کر امی کو یہ کہہ کر دیتی جارہی تھیں کہ ہر وقت آپ ہی طاہرہ باجی کی مہمان نوازی کرتیں ہیں۔ ہمیں بھی موقع دے دیا کرو۔ ’’یہ طاہرہ باجی کے لیے ہے۔‘‘ امی انھیں اطمینان دلاتیں کہ وہ اب ہمارے ساتھ ہی رہنے والی ہیں۔ اور خواتین کو ویسے ہی بھرے برتن سمیٹ یہ کہہ کر واپس لوٹا تی جا رہیں تھیں کہ میں پورے پڑوس کا کھانا بنا چکی ہوں، لہٰذا آپ تمام دوپہر کا کھانا ہمارے گھر طاہرہ باجی کے ساتھ ہی کھا ئیں۔ وہ خاموش تماشائی بنے سارے معاملے کو دیکھے جا رہیں تھیں۔
دوپہر تقریباً دو بجے کے قریب وہ لوگ تشریف لائے تھے۔ کھانا اور نماز سے فراغت کے بعد طاہرہ باجی اپنے مکان میں جا چکی تھیں اور امی بھی گھر کی صفائی اور دیگر کاموں میں مصروف ہو گئیں تھیں۔ وہ بھی امی کا ہاتھ بٹانے میں مصروف ہوگئی۔ اس کی سوچوں کا مرکزومحور طاہرہ باجی ہی تھیں۔ متناسب چہرہ اور قدوقامت والی طاہرہ باجی آخر اتنی ہر دل عزیز کیوں ہیں؟ وہ ان ہی سوچوں میں گم تھی ۔ اس کا معصوم ذہن اس ’ایک‘ سوال کے جواب کو غیر محسوس طریقے سے تلاش کر رہا تھا۔
جمعہ کی نماز کے بعد کلثوم کے گھرپڑوس کی خواتین کی آمد ہمیشہ کی طرح شروع ہو چکی تھی۔ امی جان ہر ہفتہ قرآن مجیدکا درس دیتیں اور کچھ خواتین بھی مختلف احادیث وغیرہ مع ترجمہ آپس میں پڑھ کر سناتی تھیں۔ کلثوم کوبھی امی جان تقریر یا ترانہ پڑھنے کا کہتیں اور وہ منہ بسورتے ہوئے منع کر دیتی، مگر امی جان نہ مانتیں۔ بادل نخواستہ وہ ترانہ وغیرہ پڑھ لیا کرتی۔
امی جان درس دے چکیں تو طاہرہ باجی تقریر کےلیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ساری خواتین ہمہ تن گوش ہو کر تقریر سن رہیں تھیں۔ وہ بھی پوری توجہ سے طاہرہ باجی کے ایک ایک لفظ کو بغورسن رہیں تھیں۔ طاہرہ باجی کا انداز بیان بہت زبردست تھا۔ ایک ایک لفظ فصاحت و بلاغت میں ڈوبا ہوا۔
’’معزز بہنو! حضرت سمیہ ہی وہ بہادر خاتون تھیں، جس نے اسلام کی خاطر سب سے پہلے جامِ شہادت نوش کیا۔جی ہاں، وہ ایک خاتون تھیں، میری اور آپ کی طرح…..‘‘
وہ بنا پلک جھپکے طاہرہ باجی کے چہرے کو تک رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر کا زاویہ تبدیل ہو کر لکڑی کی بنی الماری تک پہنچ گیا، جس کے اوپری سطح پر کچھ چوہے اِدھر اُدھر پھدک رہے تھے۔
’’احد کے میدان میں بر سر پیکار وہ ام عمارہ تھیں، جن کی بابت رسول اللہؐ کی زبان مبارک سے تاریخ نے وہ الفاظ سنے کہ میں جہاں بھی دیکھتا ہوں تو مجھے ام عمارہ ہی نظر آتی ہے…..‘‘
اس نے دوبارہ اپنی کانوں اور نگاہوں کو مقررہ کی آواز اور چہرے پر مرکوز کردیا تھا، مگر ذہن ادھر ادھر دوڑتے چوہوں پر ہی ٹھہر گیا تھا۔ اس نے نگاہوں سے پھر ایک بار اس خستہ لکڑی کی الماری کی اوپری سطح پر ان ننھی مخلوق کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگراس بار وہ اسے نہیں دکھائی دیے تھے۔
طاہرہ باجی کی تقریر اسی روانی اور جوش بھرے لہجے میں جاری تھی۔
’’شہادت کی مثال دیکھنا چاہتی ہیں تو حضرت سمیہ کو دیکھیں،بہادری کی مثال دیکھنا چاہتیں ہیں تو ام عمارہ اورحضرت صفیہ کو دیکھیں، جنہوں نے خندق کے موقع سے دشمن کا سر قلم کرکے تمام دشمنوں پر رعب طاری کردیا۔یہ خواتین ہی تھیں، جن کے حوصلے چٹانوں کی طرح مضبوط تھے۔‘‘
’’حضرت خنساء اپنے چاروں جگر پاروں کی قربانی پر کلمۂ شکر ادا کرتیں ہیں۔ آخر وہ کون سی خواتين تھیں جن کی گودوں میں مجاہدین پروان چڑھے؟ بتائیے…..؟(جاری)
اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے بھاری ہو رہی تھیں۔ کانوں میں گونجتی آوازیں، اب دھیمی محسوس ہونے لگی تھیں،ٹھیک ایسےہی، جیسے کوئی شخص دور پہاڑ کی بلندی سے نشیب میں کھڑے لوگوں کو مخاطب کر رہا ہو اور سامعین بمشکل اس شخص کے الفاظ کے معنی اور مفہوم تک پہنچنے کی کوشش میں سرگرداں ہوں ۔ اسی پیچ وتاب میں بالآخر وہ نیند کے گہرے اندھیرے میں اتر گئی۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر