دو خواتین کی جدوجہد کی کہانی
اگر انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے، منصوبہ کرلے تو اسے ترقی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اپنے آپ کو اعلیٰ مقام تک لے جانے کے لیے، مقاصد (Goals) کو حاصل کرنے کی تڑپ اور جذبہ رہنا اہم ہے۔ہم اپنے اردگرد ایسی کئی مثالیں، جنہوں نے معاشرے میں اپنا مقام بنایا، آئے دن دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ پرجوش خواتین کے بارے میں، آج میں آپ کو بتاؤں گی۔
پہلی خاتون:
پہلی مسلم خاتون نغمہ محمد ملک ہیں، جو’آئی ایف ایس‘ بنیں اور اب پولینڈ کی سفیر ہیں۔ نغمہ محمد ملک1991کی آئی ایف ایس بیچ کی افسر ہیں۔ انہوں نے آئی ایف ایس کے عہدہ پر کل پولینڈ میں اپنا چارج سنبھالا ہے ۔
نغمہ نئی دہلی میں کیرالائی خاندان میں پیدا ہوئیں، کساراگوڈ محمد حبیب اللہ اور سولو بھانو کی بیٹی ہیں۔ سینٹ اسٹیفن کالج اور دہلی اسکول آف اکنامکس سے وہ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے اکنامکس میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی اور انگریزی ادب میں بیچلر کیا ہے۔
اس سے پہلے نغمہ تیونس میں ہندوستان کی سفیر کی حیثیت سے اور برونائی میں ہندوستان کی ہائی کمشنر رہ چکی ہیں۔ وہ انڈین فارن سروس میں پہلی مسلمان خاتون تھیں،جنھیں 1991میں بطور کیریئر سفارت کار فارن سروس میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے یونیسکو میں ہندوستانی مشن میں اپنی خدمات انجام دیں، جو ان کی پیرس میں پہلی پوسٹنگ تھی ۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی خدمات نئی دہلی میں وزارت خارجہ میں مختلف عہدوں پر انجام دی۔ خاص طور پر انہوں نے وزیر اعظم آئی کے گجرال کے اسٹاف آفیسر کی حیثیت سے مغربی یورپ ڈیسک پر اپنی خدمات انجام دی۔ اس کے بعد چیف آف پروٹوکول (رسمی) کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی وہ پہلی خاتون بنیں۔ جنہیں اب پولینڈ میں ہندوستان کا سفیر ’آئی ایس ایف‘ مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری خاتون:
اب ہم بات کریں گے ایسی خاتون کے بارے میں، جس نے بینائی سے محرومی کے باوجود ہار نہیں مانی اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کے ساتھ ساتھ معاشرے کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
بینائی سے محرومی، آنکھوں کو یقیناً تاریک کر دیتی ہے، لیکن اگر انسان چاہے تومعذوری اور لاچاری کو اپنے ذہن سے نکال کر کوسوں دور چھوڑ سکتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی زندگی کو مصروف، با مقصد اور لوگوں کے لیے کارآمد بنا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کے لیے ایک عظیم مثال بھی قائم کرسکتا ہے۔ ان راستوں کو حوصلے اور ہمت سے طے کیا جائے جو آپ کی فطری صلاحیت کی بنیاد پر کامیابی کی منزل پر پہنچا سکتی ہیں۔ لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ اپنی معذوری کو کمزوری نہ بننے دیا جائے اور اپنی ذات کو ترس، رحم اور محتاجی کا عادی نہ بنایا جائے۔
ایسی ہی ایک مثال کولکاتہ کے مستقبل کو روشن کررہی ہے۔ جو ایک نابینا خاتون’ الیفیا تنڈےوالا ‘نے قائم کی ہے۔الیفیا تنڈے والا نے نہ صرف پی ایچ ڈی کی بلکہ آج وہ علم سیاسیاست کی تعلیم بھی دے رہی ہیں۔
الیفیا تنڈےوالا پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہیں، جب وہ پیدا ہوئیں تو وہ آنکھوں کی ایک خاص بیماری ریٹنائٹس پگمنٹوسا (Retinitis Pigmentosa) سے متاثر تھیں۔ یہ آنکھوں کی ایک ایسی خطرناک بیماری ہے، جس میں فرد کی آنکھوں کی روشنی چلی جاتی ہے۔
الیفیا تنڈےوالا شروعات میں روشنی میں ہر چیز کو محسوس کرسکتی تھیں، لیکن جب تک ہائی اسکول پہنچیں تو ان کی آنکھیں مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوچکی تھی۔ مگر اس خاتون کا حوصلہ اتنا بلند تھا کہ اس نے اپنی آنکھوں کی کمزوری کو کبھی اپنی کم زوری بننے نہ دیا۔
اس کے بعد انھوں نے پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی اور اب وہ شمالی کولکاتہ کے ایک کالج میں علم سیاسیات ( political science ) شعبہ کی سربراہ کی حیثیت سے فائز ہیں۔
کالج ٹیچر کے اہل ہونے کے لیے انھیں بہت زیادہ تکالیف اور مصیبتیں اُٹھانی پڑیں اور اس جدوجہد کے دوران ان کی زندگی کے کئی سال گزر گئے۔ تاہم جب انھوں نے تعلیم کے بعد ملازمت کے لیے درخواست دی تو ان کی درخواست کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ وہ معلمہ بننے کے بجائے کتابیں تصنیف کریں۔
الیفیا تنڈےوالا بتاتی ہیں کہ میں صرف اس صورت میں محسوس کر سکتی ہوں جب روشنی ہو۔ انھوں نے کہا کہ آٹھویں یا نویں جماعت تک میں سورج کی تیز روشنی میں لکھ اور پڑھ سکتی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت بھی ختم ہوتی چلی گئی۔
الیفیا تنڈےوالا اپنے والدین کی سب سے بڑی اولاد تھیں اپنے تینوں بہن بھائیوں میں، ان کا چھوٹا بھائی بھی دس برس کی عمر میں قوت بصارت سے محروم تھا۔ ان کے بھائی نے قانون کے موضوع پرگریجویشن کیا اور اسی دوران انھوں نے بھی تمام مشکلات کے خلاف جدوجہد کی۔ اسکالرشپ ملنے پر وہ بیرون ملک چلے گئے اورپی ایچ ڈی مکمل کی۔ اب وہ ایک یونیورسٹی میں قانون پڑھاتے ہیں۔
الیفیا تنڈےوالا بتاتی ہیں کہ میرے والدین کو ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ مجھے کسی خاص اسکول میں نہ رکھا جائے۔ اسی کی وجہ سے میں نے ایک عام اسکول سے رابطہ کیا، جہاں میری آنکھوں سے معذور کی وجہ سے مجھے داخلے سے انکار کردیا گیا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل جاتے تھے۔ مجھے ماحول کو اپنے موافق بنانے میں کافی وقت لگا۔
الیفیا کہتی ہیں کہ برسات اور سیاہ دن ان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوا کرتے تھے۔ خاص طور پر اگر یہ امتحانات کے آس پاس ہوتا تو ان دنوں میں کم روشنی میں اس کی بینائی مکمل طور پر بند ہو جاتی تھی۔ میرے اساتذہ اس کو دیکھ کر مجھ کو نمبر دیا کرتے تھے۔ جب اسکول کے فائنل امتحان میں شرکت کا وقت آیا تو بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ مجھے امتحان کے دوران کسی لکھنے والے کو لےکر بیٹھنا ہوگا۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ پہلا موقع تھا جب کسی اور کو لکھنا تھا میرے لئے۔ الیفیا تنڈےوالا کی ایک دوست نے اسکول اور کالج کے امتحانات کے دنوں میں ان کی مدد کی۔
اس کے بعد ان کی راہیں الگ ہوجانے کی وجہ سے وہ اس کا ساتھ نہ دے سکی۔ یونیورسٹی تک اس کا ساتھ نہ رہا۔ یونیورسٹی میں وہ تنہا تھی، جس کے باعث انھیں وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اکیلے ہی مقابلہ کرنا تھا۔ وہ یونورسٹی کا حال بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ محکمے کے سربراہ کی اجازت سے اس نے کلاس میں ہونے والے لیکچرز ریکارڈ کرنا شروع کیے۔
ایک استاد نے انھیں ریکارڈنگ کرتے ہوئے دیکھ کر اعتراض کیا۔ ان کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی افراد تھے، جنہوں نے اعتراضات کرنا شروع کر دیئے۔ یہ بہت تکلیف دہ بات تھی۔ اس کے بعد، مجھے صرف ان اساتذہ کے لیکچر ریکارڈ کرنے کی اجازت دی گئی، جو اعتراض نہیں کر رہے تھے۔
اس کے بعد الیفیا نے 2002میں قومی اور ریاستی امتحانات پاس کیے، جس نے اسے کالج میں تدریس کا اہل بنا دیا۔ انہوں نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ 2004میں حاصل کی۔ اس بعد انہوں نے پی ایچ ڈی پروجیکٹ شروع کیا۔ 2005میں انھیں ایک کالج میں تدریس کی پیشکش کی گئی، جس میں انھیں آنے جانے کے لیے کئی گھنٹوں سفر کرنا پڑتا تھا۔ 2007میں شمالی کولکاتہ کے ساوتری گرلز کالج میں بالآخر انہیں تدریس کی پیشکش کی گئی۔
الیفیا تنڈےوالا محکمہ کی سربراہی کے ساتھ ساتھ اپنے کالج کی نیشنل سروس اسکیم پروگرام آفیسر بھی ہیں۔ وہ مسلمانوں کے حالات کے تئیں پریشان ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ مسلمان ایک منتشر برادری ہے اور اس تعلق سے وہ ایک کتاب لکھنا چاہتی ہیں۔
الیفیا نے زبانوں اور فرقوں کی بنیاد پر کئی تقسیموں کی حقیقت کو سامنے لانے کے لیے ایک مقالہ لکھا تھا، جس کا موضوع تھا’عصری مغربی بنگال میںمسلمان شناخت کی تلاش میں ۔‘ اس میں ناخدامسجد ، مسلم انسٹی ٹیوٹ، ہگلی امام باڑہ اور فرفررہ شریف وغیرہ کا مشاہدہ شامل ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں مدرسہ کی تعلیم، کمیونٹی کی ملکیت والے اخبارات اور مسلم اداروں اور ادب کے بارے میں معلومات حاصل کیں، تاکہ ان کے کتاب لکھنے کا منصوبہ مکمل ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں بات چیت کرنا مشکل تھا، لیکن جب انھیں اس کے مثبت جوابات ملے، تو انھوں نے اس کا مشاہدہ کیا کہ بحران کے وقت کمیونٹی مضبوط ہوتی ہے۔ تاہم جب چیزیں معمول پر آتی ہیں، امتیازی شناخت دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں۔ اچھے نتائج ملنے پر وہ کتاب لکھنے پر مجبور ہوگئی۔
لیکن یہ منصوبہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے رک گیا۔ اس پر اب وہ دوبارہ کام کر رہیں ہیں اور اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے دوبارہ لوگوں سے ملنا شروع کیا ہے۔وہ کہتی ہے کہ میں نے اس پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے، لیکن اس میں وقت لگ سکتا ہے۔
الیفیا کا خیال ہے کہ اگر بچے محنتی اور پرعزم ہوں تو زندگی میں بہتر کام کرنا ناممکن نہیں ہے۔ ان دنوں، میں مدد کے لیے کوشش کرتی تھی۔ آج بہت سی معلومات دست یاب ہیں، جن تک اسکرین ریڈنگ سافٹ ویئر کے ساتھ آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اب کمپیوٹر اور سافٹ ویئر تک کی رسائی رکھنے والا ہر کوئی طالب علم اپنا مستقبل بنا سکتا ہے۔ لیکن بریل اب بھی اسکول کے بچوں کے لئے مفید ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ شفقت کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان پر ترس کھانے کی۔وہ عام طور پر درس و تدریس میں مصروف رہتی ہیں۔ اس سے پہلے فلموں کی آڈیو سننا ان کے لئے ممکن تھا۔ تاہم، وہ اس بات کا حساب ضرور رکھتی ہیں کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کے لیے کامیابی کیا ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ: ’’اس وقت آپ جو کچھ پوچھ رہے ہیں، یہی میری کامیابی ہے۔
اگرمیں نے آپ کے لیے کچھ بنا لیا تو سمجھوں گی کہ میں کامیاب ہوں۔‘‘
آخر میں وہ کہتی ہیں کہ میں نے جو کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں حاصل کی ہیں، وہ میرے کامیابی حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ ایسا کچھ نہیں ہے، جس پر میں خود کو مکمل طور پر کامیاب کہہ سکوں۔ یہ سب تصوراتی باتیں ہیں۔
اگر انسان چاہےتومعذوری اور لاچاری کو اپنے ذہن سے نکال کر کوسوں دور چھوڑ سکتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی زندگی کو مصروف، با مقصد اور لوگوں کے لیے کارآمد بنا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کے لیے ایک عظیم مثال بھی قائم کرسکتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے