ذرے ذرے میں لہو اسلاف کا خوابیدہ ہے
[تاریخ اندلس اور اس کا عروج و زوال]

اندلس!جہاں تقریباً ۸۰۰سال مسلمانوں نے حکومت کی۔اپنے دور عروج میں مسلم ایجادات کی آماجگاہ یہ سرزمین،ہمارے اجداد کی میراث کا حصہ رہی۔جب جب غلامی نے اسے اپنے شکنجوں میں جکڑا تب تب آزادئ اندلس کا چراغ جلانے کے لیے عیسائی جرنیلوں کے آگے ایک آہنی چٹان ثابت ہونے والے یہ مٹھی بھر مسلمان ہی تھے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں مایہ ناز خدمات بھی سرانجام دے چکے تھے۔
تاریخ اندلس اپنے عروج کے اعتبار سے ہمارے لیے قابل فخر جبکہ اسبابِ زوال کے اعتبار سےسبق آموز ہے۔
اولاً ہسپانیہ کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو مسلم حکمرانوں کی وہ فتوحات اپنے سلف کے کارناموں سے اس قدر متاثرکرتی ہے کہ ان کی بلندیوں کو ناپنا مشکل لگتا ہے۔
شاعر مشرق کے الفاظ میں ؂
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحہ ہستی پہ صداقت ان کی
۶۰۵تا ۶۱۵عیسوی کے اس دور میں ایک طرف ہسپانیہ کے معاشی و سیاسی حالات انتہائی پستی کا شکار تھے اور دوسری طرف عیش و عشرت کے دلدادہ حکمرانوں نے غریب عوام کا جینا دشوار کر رکھا تھا،جن میں قابل ذکر حالات یہودیوں کے تھے۔یہی مظالم تھے جنہوں نے ہسپانیہ کی بڑی آبادی کو ہجرت پر مجبور کیا۔حالات کے مارے مہاجرین نے اُس وقت موسی بن نصیر کے زیرانتظام ( شمالی افریقہ) کو اپنی واحد جائے پناہ سمجھا جس کی بنیادی وجہ وہاں کا اسلامی نظام حکومت تھی جہاں حق و انصاف کا بول بالا تھا۔جب معاملے کی سنگینی اپنی حدود تجاوز کرنے لگی اور سمندر پار سےمہاجرین بڑی تعداد میں افریقہ آنے لگے تو موسی بن نصیر نے مظلوم رعایا کو ظالم حکمرانوں سے آزاد کرانے کا منصوبہ بنایا اور مشہور جنرل طارق بن زیاد کو ۷۱۱ء میں ۸۰۰۰کی فوج کے ساتھ ہسپانیہ پر لشکر کشی کے لیے روانہ کیا۔ مسلسل تین روز کی لڑائی کے باوجود فتح کے امکان نظر نہ آنے پر چوتھے دن اس مرد مجاہد طارق بن زیاد نے خطاب سے اپنے لشکر کا لہو گرمایا جس کے ابتدائی الفاظ آج بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔
’’ اے لوگوں جائے فرار کہاں ہے؟ تمہارے پیچھے سمندرہے اور سامنے دشمن، بخدا تمہارے لیے ثابت قدمی اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں‘‘
تاریخ کہتی ہے کہ یہی وہ مرد مجاہد تھا جس نے اپنے اس خطاب سے قبل سمندر میں کھڑی اپنی ساری کشتیاں سپرد آتش کردی تھیں تاکہ فتح کے علاوہ زندہ بچ نکلنے کے تمام راستے مسدود ہوجائیں۔اسی دلیری و استقامت کے نتیجہ میں ۱۹جولائی ۸۱۱کی وہ صبح عوام کے لیے آزادی کا پیغام لائی۔اس فتح کے بعد دھیرے دھیرے مسلمانوں کی فتوحات میں اضافہ ہوتا گیا۔عوام کی پذیرائی اس قدر بڑھ گئی کہ بہت کم وقت میں مسلمان پورا ہسپانیہ فتح کرنے میں کامیاب ہوگئے۔طارق بن زیاد کے بعد کافی عرصہ حکومت کرنے والی اموی خلافت کا بھی خاتمہ ہوا اور بنو عباس تخت نشین ہوئے۔انہوں نے غلبہ پاتے ہی اموی خاندان کے ہر فرد کو چن چن کر قتل کیا لیکن ان کی بغاوتوں کو کچلنے والا سرزمین اندلس کو دوبارہ منظم کرنے والا اموی خاندان کا ایک شہزادہ عبدالرحمٰن چھپتا چھپاتا قرطبہ پہنچا،جہاں اموی دور کی شاہی افواج موجود تھیں۔کچھ ہی دنوں میں اس جوان نے وہاں اپناایسااثر و رسوخ قائم کیا کہ وہاں اسے امیر منتخب کر دیا گیا اور اس طرح مملکت اسلامی کے اس دورافتادہ حصہ میں مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست قائم ہوگئی۔
امیر عبدالرحمٰن نے اپنے دور خلافت میں اس شہر کو جتنا خوبصورت بنایا،وہ رقم کرنے سے یہ قلم قاصر اور الفاظ حق ادا کرنے سے محروم ہیں۔انگنت درسگاہیں،ہزاروں کتب خانے،سینکڑوں مساجد اس شہر کی خوبصورتی کا حصہ رہے ۔ایک بڑی مسجد امیر عبدلرحمن نے ۸۹۳میں تعمیر کروائی اور یہ مسجد قرطبہ آج بھی دنیا میں اپنی نظیر نہیں رکھتی
بقول علامہ اقبال ؂
ہسپانیہ تو خونِ مسلماں کا امیں ہے
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
یہ تھا اندلس کی تاریخ کا شاندار دور۔اس کے بعد ایسا عروج پھر کبھی اس سرزمین نے نہیں دیکھا۔اس کے بعد مسلمانوں کے آپسی اختلافات کے نتیجے میں خودمختار حکومتیں وجود میں آئیں جوان کے زوال کاپہلا سبب بنا۔ ۱۰۱۰ ءتا ۱۰۳۱ ءتک ان ۲۱سالوں میں ۹حکمراں تخت نشین ہوئے لیکن افسوس کوئی بھی حالات کے دھارے کو قابو میں نہ کرسکا۔سلطنت بہت سے حصوں میں بٹ گئی اور ہر علاقے میں مقامی سرداروں نے حکومت شروع کردی،تاریخ ان سرداروں کوطوائف الملوک کے نام سے یاد کرتی ہے۔وہ عظیم الشان سلطنت جس کی طاقت و شہرت سے مغرب کے تاجدار بھی مرعوب تھے، طوائف الملوکی کے باعث پارہ پارہ ہوگئی۔افسوس کا مقام یہ کہ آپسی خلش اس قدر بڑھی کہ ایک مسلم حکومت دوسرے مسلم حکومت کے خلاف لڑنے کو پڑوس کی عیسائی حکومتوں سے مدد حاصل کرنے لگی۔یہی وجہ تھی جس نے آہستہ آہستہ عیسائیوں کے لیے مسلم سرحدوں میں گھسنے کے راستے ہموار کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان علاقوں پرعیسائیوں نے قبضہ کر لیا۔اب آلام و مصائب کے اس دور میں اہل اندلس کی نگاہیں کسی نجات دہندہ کی متلاشی تھیں۔
ایسے میں یوسف بن تاشفین مسلمانانِ اندلس کی تاریک راتوں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرا۔یوسف بن تاشفین اندلس کی تاریخ کا وہ باب ہے جو ایک قوم کے گمنام مجاہدوں کے خون پسینے سے لکھا گیا ہے

،لیکن حیف صد حیف کہ اندلس کی سرزمین کو دوبارہ فتح کرنے والے اس جانباز کا نام آج تاریخ کے اوراق سے گم ہورہا ہے۔
تاشفین کی موت کے بعد ایک بار پھر اندلس طوائف الملوکی کا شکار ہوا اور آخر کار ۱۳ویں صدی کے وسط تک اندلس کے بڑے حصے پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا اور مسلمانوں کی سلطنت محض غرناطہ تک محدود رہ گئی۔ پھر ۱۹۹۲میں غرناطہ کی تباہی کے بعد وہ عظیم قوم بھی مٹ گئی جس کے غازیوں نے آٹھ صدیوں قبل جبل طارق کے سامنے کشتیاں جلا ڈالی تھی۔پھر ابوعبدللہ (حاکم وقت) کی غداری نے غرناطہ کے دروازے کھول کر عیسائی لشکر کا استقبال کیا۔بالآخر عیسائیوں نے اپنی چال کے مطابق اندلس میں مسلم حکمرانی کا مکمل خاتمہ کردیا۔اس طرح جہاں ۸۰۰سال مسلمانوں نے حکومت کی وہاں اُس وقت ایک بھی مسلمان باقی نہ رہا تھا۔
یہ تھا وہ زوال اور اس کے اسباب جس نے قوم کی تاریخ الٹ دی۔معاملہ چاہے بیت المقدس کا ہو یا سرزمین اندلس کا۔زمینیں ہڑپنے کی کیسی چالیں چلی جاتی رہیں۔ اگر صرف ۵۰سال بیت المقدس میں رہ کر یہ یہودیوں کی آبائی سر زمین ہوسکتی ہےتو پہلے حق ہمارا ہونا چاہیے کیونکہ مسلمان ۱۲۰۰سال بیت المقدس کی خدمت کرتے رہے ۔یہ ہماری میراث ہے اور اپنے وارثوں کی منتظر ہے۔ بات صرف زمینوں کی نہیں ان ناقابل برداشت مظالم کی بھی ہے جو ایک مدت سے فلسطینیوں پر ڈھائے جارہے ہیں۔ یہ کیسا مذاق ہورہاہےان کے ساتھ؟
لیکن ؂
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
یہ قوم بھی جسے حق و باطل میں امتیاز کرنا تھاسیکولزم کے نشے میں اپنی تاریخ بھلا بیٹھی ہے۔اے قوم کے غیور نوجوانوں!یہ سب ہمارے اسلاف کا اثاثہ ہے۔کم از کم ہمیں اپنی تاریخ تو یاد ہونی چاہیے تاکہ کوئی ہم سے ہمارا حسب نسب پوچھنے سے پہلے ہزار بار سوچے کہ یہ وہی قوم ہے جس نےماضی میں اپنے پاؤں تلے تاجِ سرِداراکوکچل ڈالا تھا۔
یہ اسی کارواں کے مسافر ہیں ستارے جس کی گرد راہ تھے۔یہ ان ہی مسافروں کے عزائم رکھنے والے ہیں جن کی ٹھوکروں نے صحرا و دریا کے ٹکڑے کئے۔یہ وہی غازی و پراسرار بندے ہیں جن کی ہیبت سے پہاڑ سمٹ کر رائی ہوئے۔کفر اور عالم اسلام کی جنگ ازل سے آج تک جاری ہے فرق صرف یہ ہے کہ آج انداز جنگ بدل چکا ہے۔
تم اگر آج سر اٹھا کر جینا چاہتے ہو تو اپنے اسلاف کی جانب آؤ۔ان کا سا سوز جگر پیدا کرو۔
وہ صدائیں آسمانوں میں گونج رہی ہیں کہ تمہاری غیرت کا تقاضا ہے۔اٹھو بیدار ہوؤ ورنہ     ؎
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اللہ اسلام کے نوجوانوں کو اسلاف کا سوز جگر اور ان کی تاریخ پڑھنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

تاریخ اندلس اپنے عروج کے اعتبار سے ہمارے لیے قابل فخرجبکہ اسبابِ زوال کے اعتبار سےسبق آموز ہے۔
اولاً ہسپانیہ کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو مسلم حکمرانوں کی وہ فتوحات اپنے سلف کے کارناموں سے اس قدر متاثرکرتی ہے کہ ان کی بلندیوں کو ناپنا مشکل لگتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ۲۰۲۱